کراچی والوں کے لئے کب ۔۔! قابل عمل "نئی ٹرانسپورٹ پالیسی" بنےگی؟

(Shuja Umar, Karachi)

ایک عرصے سے ہمارے ہاں آئے دن بسوں ، ویگنوں ، رکشوں ، ٹیکسیوں اور چنکچیوں کے بڑھائے جانے والے کرائے پر خوب واویلا مچایا جا رہا ہے۔ مگر ڈرائیوروں کی دیدہ دلیری کا بھی جواب نہیں ، وہ سی این جی اور پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا ڈھول پیٹ کر عوام کو خاموش کروا دیتے ہیں ، اور اگر کوئی مسافر اپنے ساتھ ہونے والی حق تلفی کا اظہار کرتا ہے تو کنڈکٹر اسے پیسے واپس کر کے گاڑی سے اتر جانے کی دھمکی دے کر چپ کرواتا ہے یا پھر بس روک کر مسافر کی تذلیل کر کے اسے نیچے اتار کر دم لیتا ہے ۔۔۔۔

آج سے چند برس پہلے جب ہم اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل کر بس اسٹاپ پر پہنچتے تھے ، تو رات گئے تک سڑک پر خاصی گھما گہمی ہوتی تھی ، ایک کے بعد ایک گاڑی کی آمد کا منظر دکھائی دیتا تھا ، سو دل کو یہ اطمینان ضرور میسر آ جاتا تھا کہ انتظار کرنے پر ہماری مطلوبہ بس یا ویگن آ ہی جائے گی ، مگراب آٹھ بجے کے بعد کراچی کے بس اسٹاپ عجب سناٹے کے مناظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ گھنٹوں انتظار کرنے کے باوجود بھی ٹرانسپورٹ کا نام و نشان نظر نہیں آتا ۔۔ بس اسٹینڈ کا یہ حال دیکھ کر کچھ دیر بعد انسان عجیب جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگتا ہے ، کچھ اور ہو ، نہ ہو اچھے بھلے انسان کا بی پی ہائی ضرور ہو جاتا ہے ۔۔

ذہن کو اس حوالے سے جب ہم نے خوب ٹٹولا ، تو پتہ چلا کہ سڑک پر سے بسوں اور ویگنوں کی تعداد بے انتہا کم ہو گئی ہے ، بلکہ یوں کہیے تو بے جا نہ ہو گا کہ کراچی کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ اب سرے سے ہے ہی نہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساری کی ساری بسیں اور ویگنیں کراچی کی سڑکوں سے یکایک آخر کہاں غائب کر دی گئیں ؟ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اچانک سڑکوں پر چنکچیوں کا راج نظر آنے لگا ، ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم شہریوں نے چنکچیوں کی آمد پر سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ حادثات میں اضافے کے سبب طویل روٹس پر مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے والے چنکچیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ۔۔ کچھ عرصے تک چنکچی ڈرائیور قانونی چارہ جوئی سے بچتے بچاتے ، راستے تبدیل کر کر کے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتے رہے اور پھر زیادہ فاصلے پر چلنے والے چنکچی بند ہو گئے ، مثلا کورنگی سے صدر اور نیپا جانے والے چنکچی اب نہیں چلتے ۔۔ چنکچی بند ہونے والے دنوں میں اس قسم کی باتیں بھی سننے میں آ تی رہیں کہ چنکچیوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے ، لہذا بس اور ویگن کے مالکان احتجاجا ٹرانسپورٹ نہیں نکال رہے ہیں ۔۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے کراچی جیسے بڑے شہر کے عوام کو ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے ؟ اور اس حوالے سے عوام الناس کے اجتماعی مفاد میں قابل عمل پالیسی مرتب کرنے پر سنجیدگی سے غور کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ؟ کیا ڈھائی کروڑ کی آبادی پر محیط شہر کے مسائل کا حل ، حکومت وقت کی اولین ترجیح نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہاں کے باسیوں کو زندگی کی اہم ضرورتیں مہیا کرنا حکمرانوں کی ذمے داری نہیں ؟۔۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بڑی پبلک بسیں کراچی کی سڑکوں پرآ جائیں گی ۔۔ ترقی کے نعرے ، وعدے اور دعوے اپنا وجود رکھتے ہیں تو وزارت ٹرانسپورٹ اور منی بسوں ، ویگنوں کے مالکان مل جل کر بات چیت کر کے کیوں نہیں کرتے ؟ عوام کے لئے ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولیات بہم پہنچانے والی جامع پالیسی وضع کر کے اس پر عملی اقدامات کیوں نہیں کرتے؟

وزیرِ اعلیٰ سندھ اور وزیرِ ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ اپنے صادر کردہ احکامات پر عمل درآمد کروانے سے قاصر کیوں ہیں ؟ اگروزیر ٹرانسپورٹ کی کوئی او ر تر جیحات ہیں اور وزیرِ اعلیٰ کی کوئی اور؟ یا اگر اِن دونون کے درمیان کوئی چپقلش ہے تو کراچی کے عوام کا کیا قصور؟ وہ کراچی کے شہریوں کی مایوسی کیوں بڑھا رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ حکومتِ سندھ نے پہلے بھی 250بڑی بسیں چلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن…وہ وعدہ بھی وفا نہیں ہوا تھا اور پھر وزیرِ اعلیٰ نے ڈھائی سو بسوں میں سے 75 بسوں کے چلانے کی بات کی ، وہ بات بھی بات ہی رہی …اِسے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ۔

دنیا کےتمام بڑے شہر پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک منظم اور مربوط نظام رکھتے ہیں ۔ کیونکہ یہ عوام کی نہایت اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ کراچی میں بھی پبلک بسیں کامیابی سے چلتی رہی ہیں ۔ پھر مصلحتا سرکاری بسوں کو بند کروادیا گیا، اس کے بعد منی بسوں کی اجارہ داری قائم کروائی گئی۔ اس قسم کے عوام مخالف فیصلوں کے باوجود کراچی کے عوام کی جانب سے کسی قسم کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ شاید عوام حکومتی جبر کے ہاتھوں بے بس ہو گئے ہیں یا پھرانہیں دو وقت کی روٹی روزی کمانے سے ہی فرصت نہیں ملتی ، اس لئے بھی انہوں نے حکومتی پالیسیوں سے بیزار آ کر ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔

کیا کراچی کے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر ہمیشہ محض جھوٹے اعلان ہی دئیے جاتے رہیں گے ، یا پھر واقعتا نئی حکومت کے سو دن گزر جانے کے بعد کراچی والوں کے لیے نئی صبح، نئی تبدیلی اور" قابل عمل نئی ٹرانسپورٹ پالیسی" مرتب ہوگی؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shuja Umar

Read More Articles by Shuja Umar: 5 Articles with 2237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Dec, 2018 Views: 282

Comments

آپ کی رائے