جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے سی آئی اے کی تحقیقات

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, بہاولپور)
میں یہ نہیں کہتا کہ جمال خاشقجی کا قتل درست ہوا اور اس پر شور بھی بے جا نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنے میں حق بجانب ہوں کہ سعودی عرب میں صرف اسلامی احکامات کی بے حرمتی دیکھ کر جن علما نے آواز اٹھائی ان کے لئے کوئی بھی آواز نہیں اٹھا رہا میرے ذاتی دوست سابق امام کعبہ ڈاکٹر صالح آل طالب ابھی تک جیل میں ہیں ان کے حق میں کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی بلکہ اس حوالے سے جو لوگ سوشل میڈیا پر فعال ہیں ان کی معلومات بھی دبئی میں قائم ٹویٹر آفس سے خطیر رشوت دے کر حاصل کر لی گئی ہیں جمال خاشقجی جیسا انجام ان کے بھی انتظار میں ہے لیکن ایک عام سے ایشو کو بہت بڑا مسئلہ بنانے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار خاموش ہیں ۔یہ صورتحال سعودی مسلمانوں سمیت پورے عالم اسلام کے لئے خطرناک ہے اس لئے کہ امریکہ اور یورپ محمد بن سلمان کو اپنے مخالفین کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے کر اسلام پسندوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سب سے پہلا نشانہ صحافی اور علما ہیں جب سعودی عرب کے مقامی صحافیوں اور علما کو راستے سے ہٹا دیا جائے گا تو سعودی عرب کا تمام تر کنٹرول اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔لیکن یہ بات محمد بن سلمان کی سمجھ میں نہیں آ رہی جو اپنے تمام مخالفین کے ٹکرے کرنے پر تیار بیٹھے ہیں

جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے سی آئی اے کی تحقیقات اور محمد بن سلمان کو عالمی برادری کی طرف سے کھلی چھوٹ

سعودی صحافی کمال خاشقجی کے قتل کے حوالےسے سی آئی اے کی رپورٹ منظر عام پر آ چکی ہے جس کے مطابق ان کے قتل کا حکم اعلی شخصیت کی طرف سے دیا گیا اسی طرح تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے بذات خود خاشقجی کو ٹھکانے لگانے کے لئے جانے والی ٹیم کے سربراہ کو گیارہ میسج کئے ۔

ترکی کی طرف سے جب جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا گیا تو شروع دن سے ہی محمد بن سلمان اور سعودی عرب کا موقف بہت کمزور تھا اور جاننے والے یہ جانتے تھے کہ یہ قتل کس کے حکم پر ہوا ہے اب جبکہ اکثر تحقیقات میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ محمد بن سلمان نے ہی صحافی کے قتل کا حکم دیا تو ان لوگوں کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں جو انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے تمام تر وسائل اسلام مخالف طاقتوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے ہیں اس سے بڑھ کر سعودی عرب کی اسلام پسند عوام کو گمراہ کرنے کے لئے سیکولر ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام پسند علما کی ایک بڑی تعداد کو پابند سلاسل کیا گیا ہے جہاں انہیں صعوبتیںدی جا رہی ہیں لیکن اتنے بڑے ظلم پر پوری دنیا خاموش ہے آزادی اظہار کے علمبرار بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام پسندوں کو خاشقجی معاملے سے تھوڑی بہت یہ امید لگی تھی کہ شاید اس قتل کی شہزادے کو سزا ملے اور ان علما کے لئے بھی آواز بلند ہو جیلوں میں سڑ رہے ہیں لیکن یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی اس لئے کہ امریکہ سے سے لے کر یورپ تک تمام ممالک محمد بن سلمان کو اس معاملے سے نکالنے کا قول دے کر اپنے اپنے ملک کے لئے خطیر رقم اور پیکج حاصل کر رہے ہیں اور اس ساری صورت حال میں نقصان اسلام اور مسلمانوں کاہو رہا ہے ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ جمال خاشقجی کا قتل درست ہوا اور اس پر شور بھی بے جا نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنے میں حق بجانب ہوں کہ سعودی عرب میں صرف اسلامی احکامات کی بے حرمتی دیکھ کر جن علما نے آواز اٹھائی ان کے لئے کوئی بھی آواز نہیں اٹھا رہا میرے ذاتی دوست سابق امام کعبہ ڈاکٹر صالح آل طالب ابھی تک جیل میں ہیں ان کے حق میں کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی بلکہ اس حوالے سے جو لوگ سوشل میڈیا پر فعال ہیں ان کی معلومات بھی دبئی میں قائم ٹویٹر آفس سے خطیر رشوت دے کر حاصل کر لی گئی ہیں جمال خاشقجی جیسا انجام ان کے بھی انتظار میں ہے لیکن ایک عام سے ایشو کو بہت بڑا مسئلہ بنانے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار خاموش ہیں ۔یہ صورتحال سعودی مسلمانوں سمیت پورے عالم اسلام کے لئے خطرناک ہے اس لئے کہ امریکہ اور یورپ محمد بن سلمان کو اپنے مخالفین کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے کر اسلام پسندوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سب سے پہلا نشانہ صحافی اور علما ہیں جب سعودی عرب کے مقامی صحافیوں اور علما کو راستے سے ہٹا دیا جائے گا تو سعودی عرب کا تمام تر کنٹرول اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔لیکن یہ بات محمد بن سلمان کی سمجھ میں نہیں آ رہی جو اپنے تمام مخالفین کے ٹکرے کرنے پر تیار بیٹھے ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11039 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Dec, 2018 Views: 290

Comments

آپ کی رائے