صبا ممتاز بانو کا افسانوں کا مجموعہ ’کیا یہ بدن میرا تھا؟‘ ۔ ایک مطالعہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں صبا ممتاز بانوکا نام جانا پہچانا ہی نہیں بلکہ معتبر بھی ہے ۔ وہ شاعرہ، کہانی نویس، افسانہ نگار، ناول نگار ،کالم نگار ، صحافی کی حیثیت سے ایک منفرد مقام قائم کر چکی ہیں۔ صبا ممتاز کا علمی و ادبی سفر کب شروع ہوا ، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’میرے تخلیقی سفر تب شروع ہوا جب سے میرے ہاتھوں کی گرفت میں قلم آیا۔انہوں نے چھوٹی چھوٹی کہانیوں سے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز اس وقت کیا جب کہ وہ پانچویں جماعت کی طالبہ تھیں۔البتہ ان کی اولین کہانی روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں ’’الزام کسے دوں‘‘ کے عنوان سے چھپی، اُس وقت انہوں نے میٹرک پاس نہیں کیا تھا ۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ کی عمر اس وقت 14یا15 برس کی رہی ہوگی،شاعری کا رجحان بھی اُسی عمر میں پیدا ہوچکا تھا ان کے کہنے کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے ایک آزاد نظم تخلیق کی۔ انہوں نے بے شمار کہانیاں لکھیں ، پیش نظر ان کے افسانوں کے مجموعہ ’’کیا یہ بدن میرا تھا؟‘‘ میں شامل ان کی کہانیوں میں ناری، ہنڈیا، قصہ پرنا، فیس بک، عورت کمیٹی، راکھ، خبر، جنم جنم کا دُکھ، تلاش، الیکشن جیسی کہانیاں شامل ہیں۔ جنہیں مائیکرو فکشن کا نام دیا گیا ہے۔ ان کہانیوں اور مضامین نے طویل مضامین اور افسانہ نویسی کی صورت اختیار کی۔ وہ ناول نگار بھی ہیں ، ان کا پہلا ناول ’’پیار کی پہلی منزل‘‘ شائع ہوچکا ہے، اس کے علاوہ ایک کتاب ’’ فلسطین میں موساد کی دہشت گردی‘‘بھی منظر عام پر آچکی ہے۔مختلف اخبارات، رسائل و جرائد اور ویب سائٹس پر ان کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن اب ان کے رشحارِ قلم سے علمی و ادبی مواد کتابی صورت میں تیزی سے منظر عام پا آرہا ہے۔’ کیا یہ بدن میرا تھا؟‘ اس سلسلے کی تیسری تصنیف ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ ان کی شاعری پر مبنی مجموعہ کلام جلد منظرف عام پر آجائے گا۔

افسانہ ، کہانی اور ناول ادب کی ایسی اصناف ہیں کہ جس میں بے شمار لوگوں نے طبع آزمائی کی اور مقبولیت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ اردو افسانے نے ناول کی کوک سے جنم لیا، جب کہ کہانی نے اسے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد دی،اس کی عمر سو سال سے زیادہ ہوچکی ہے اس کی چاہت پڑھنے والوں اور پسند کرنے والوں کے دلوں میں بڑھتی ہی جارہی ہے۔ بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک وجہ نثر پڑھنے والوں کے پاس پڑھنے کے لیے وقت کا نہ ہونا ہے، بعض احباب اسے مشینی دور کی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ یعنی انسان کے پاس وقت نہیں وہ اختصار چاہتا ہے، کوئی بھی بات جلد سننے اور پڑھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ناول وقت طلب ، جب کہ افسانہ اجمال،قاری کو کم وقت میں مطلوبہ تسکین دینے والا اور وقت کی بچت کرتا ہے۔

لمحہ موجود میں افسانہ ادب کی دیگر اصناف میں زیادہ پسند کی جانے والی صنف شمارہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ادب کی بعض اصناف میں تغیر وتبدیلی آئی لیکن مختصر کہانی اور مختصر افسانے سے قاری کی دلچسپی برقرار رہی بلکہ اس نے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ادب دوامی ہے ، اسے زندگی کے کسی موڑ پر زوال ہوا، نہ اِس وقت ہے اور نہ ہی کبھی روبہ زوال ہوگا۔یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ ہم کتاب سے دور ہوگئے ہیں، ہم نے مطالعہ کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیاہے، کتابیں مہنگی اور قوت خرید سے باہر ہوگئیں ہیں، کتابیں شائع ہونا بند ہوگئیں ہیں، لکھنے والوں نے خدا ناخواستہ قلم کی بساط لپیٹ دی ہیں،یہ وہ باتیں ہیں جوکہی جاتی ہیں لیکن حقیقت قدرِ مختلف ہے ۔وقت اور حالات نے افسانہ نگار کو مختصر کہانی اور افسانہ لکھنے اور قاری کو اختصار سے مطالعہ کی لذت سیمٹنے کا عادی بنا دیا ہے ۔ ادب وہی ہے جو زمانے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے، قاری کی سوچ اور خواہش کی تکمیل کرے اور ایسا ہی ہوا افسانہ نگاروں نے معاشرہ میں بدلتی صورت حال کو محسوس اور قاری کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے مختصر افسانہ نگاری پر توجہ دی اور وہ ایسے افسانوں میں روزمرہ کے مسائل ، خوشی و غمی کاا ظہار طویل تحریر کے بجائے مختصر افسانے کے ذریعہ کرنے لگے اور وہ مقبول بھی ہوئے۔ اس عمل سے لمحہ موجود کے افسانہ نگاروں نے اپنے قاری کا دل جیت لیا۔ بات برقی میڈیا ، کمپیوٹر ، انٹر نیٹ اور موبائل کی نہیں بلکہ بے شمار قسم کے حالات نے قاری کو پڑھنے سے دور کردیا ہے ۔ ادب تو ہمیشہ رہنے والی شہ ہے۔ گزشتہ سترسالوں میں کبھی بھی زوال پزیر نہیں رہا۔ البتہ حالات اور واقعات اس پر اثر انداز ہوتے رہے اسی مناسبت سے اس کی رفتار بھی کبھی سست اور کبھی تیز رہی۔

افسانہ نگاری کے موجد منشی پریم چند کہے جاتے ہیں بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ پریم چند سے قبل اردو افسانہ لکھا اور شائع ہوچکا تھا، پھر ایک لمبی بارات ہے افسانہ نگاروں کی جنہوں نے اردو ادب کی اس صنف میں اپنا اپنا حصہ خوبصورتی سے ڈالا۔ یو توبے شمار نام ہیں لیکن کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، انعام الرحمان سحری، غلام عباس، عصمت چغتائی ، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر، ممتازمفتی ،سہیل عظیم، نیاز فتح پوری، نذر سجاد ظہیر، فرحت اللہ بیگ، ڈپٹی نذیر احمد، ڈاکٹر فہیم اعظمی، جمال ابڑو،انتظار حسین، واجدہ تبسم، مظہر الحق علوی، احمد ندیم قاسمی، اسد محمد خان، مستنصر حسین تارڑ، عبد اللہ حسین، مرزا ادیب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ،بشریٰ رحمٰن ، محمد منشایاد، مسعود مفتی ، مجنو گورکھپوری، گلزار، اختر حسین رائے پوری، انیس ناگی، زاہدہ حنا، اقبال الیاس احمد، عشرت معین سیما، ڈاکٹر شہناز شورو، نیلم احمد بشیر، قمر انساء قمر ،انور ظہیر رہبر کے علاوہ جدید افسانہ نگاروں کی فہرست میں صبا ممتاز بانو بھی اس فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز پاچکی ہیں۔

کہانی، افسانہ، ناول، رپوتاژ اور شاعری وہی کرسکتا ہے کہ جوعلم و ادب سے دلچسپی رکھتا ہو، اپنے اندر حساسیت لیے ہوئے ہو، کسی کے دکھ اور درد میں اپنے اندر کسک محسوس کرتا ہو، سچائی کوبیان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، اس کی آنکھیں جو دیکھیں اسے اپنی سوچ کے کینوس میں محفوظ کر لے، الفاظ کا ذخیرہ ، جملوں کی ترتیبی کا ھنر جانتا ہو۔صبا ممتاز بانو کے افسانوں اور کہانیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر جو صبا موجود ہے وہ ان تمام ترخوبیوں اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے بخوبی آگاہ ہے ۔صبا کی افسانہ نگاری کی منفرد خصوصیت اختصار ، سادہ اور عام فہم الفاظ ، نیز ادبی چاشنی لیے ہوئے جملے ہیں۔ ان کے افسانوں میں’ عورت‘ مرکزو منبع نیز اس سے جڑے مثبت اور منفی حالات و واقعات ہیں ۔ جنہیں وہ اپنے افسانوں میں خوبصورت انداز سے پیش کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ یوں تو انہوں نے بے شمار کہانیاں اور افسانے لکھے اور وہ شائع بھی ہوئے لیکن ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’کیا یہ بدن میرا تھا؟‘‘ ان کی افسانہ نگاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجموعہ میں شامل افسانے عہد حاضر کی تصویر کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔افسانہ کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ان کی نظر لمحۂ موجود کے قاری کے مزاج اور اس کی علمی پیاس پر بھی دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں اور اس کے کرداروں کو غیر ضروری طور پر طول دینے سے پرہیز کیا ۔ ان کی زبان آسان اور سادہ، لہجے میں پختگی، الفاظ کا چناؤ اور استعمال عمدہ اور بر وقت ، اس کی نشست و برخاست دل میں اتر جانے والی ہے ، ان کے افسانوں کا پلاٹ دیو مالائی اور کردار مصنوعی نہیں بلکہ ان کی کہانیاں عورت کی زندگی کے ارد گرد ہونے والے واقعات ، حادثات، رسم و رواج کے گرد گھومتی ہیں جب کہ ان کے کردار معاشرہ میں موجود عام کردار ہیں جو ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں۔ عام لوگ ان کرداروں پر غور ہی نہیں کرتے لیکن ایک افسانہ نگار عقاب کی نظر رکھتا ہے وہ ان کرداروں کو اپنے افسانوں میں خوبصورتی سے پیش کرتاہے، یہی خصوصیت ’کیا یہ بدن میرا تھا؟‘ کی افسانہ نگار ی میں دکھائی دیتی ہیں ۔ صبا ممتاز بانوں کے افسانے معاشرے کے حالات ، واقعات، کیفیات، رنج و غم، دکھ سکھ، شدت پسندی، دہشت گردی، جنونیت، مظالم اور مظلوموں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ان کے ایک افسانے ’’سبز قدم‘‘ میںآجکل میں شادی جیسے اہم موضوع پر معاشرے میں پائی جانے والی بے حسی کو اجاگر کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔افسانہ ’’معیار اور مسئلہ ‘‘ میں والدین کی داستانِ غم کی تصویر کشی کی گئی جو بیٹیوں کی شادی کے لیے اپنے معیارات سے گرنے پر مجبور ہیں۔’’دوشیزہ‘‘ میں اصل حقائق کی پردہ داری کی تفصیل ہے، افسانہ ’’قیمت‘‘ ، ’’آزادی‘‘اور ’’گھر کا قیدی‘‘بھٹہ مزدوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کی داستان ہے۔ان کے بعض افسانے شخصی خاکے محسوس ہوتے ہیں جیسے ’’جیناں‘‘ اور ’’چچا پٹواری‘‘۔ ان کے دیگر افسانوں میں ’’اولاد‘‘، ’’تہی دست‘‘،’چلتی پھرتی عورت‘ اورافسانہ’نکو‘میں ماں کو روایتی تصور سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔نکو ایک کردار ہے جس پر ظلم کرنے پر اس کی ماں کو بھی سزاملی اور نکو کی مالکن کی ذہنی حالت بھی بگڑ گئی۔ اس افسانے میں نیم علامتی انداز میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ دیگر افسانوں میں شہنشاہ، شوبھا، معیار ، مدد، اندھیرا، رستہ بدل گیا، ایک رات اور پھر کیا یہ بدن میرا تھا؟ شامل ہیں۔ افسانہ ’’ کیا یہ بدن میرا تھا؟ ‘‘میں عورت کا ہوس پرست دنیا میں اپنی بقاء کی جنگ لڑنا اور ظالم شکاریوں کے ہاتھوں برباد ہوجانا دکھایا گیا ہے۔ اس افسانے میں لٹیا کا کردار انسان اور جانور کی انسیت کا ظاہر کرتا ہے اس کو علامت بنا کر معاشرے کے ظلم کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

کیا یہ بدن میرا تھا؟ میں21افسانے اور 10 مختصر کہانیاں جنہیں مصنفہ نے مائیکروفش کا نام دیا ہے شامل ہیں۔ صباممتاز بانو کی کہانیاں اور افسانے پرنٹ و برقی میڈیا پر نظر نواز ہوتے رہے ہیں، ان میں سے اکثر اس مجموعے کا حصہ ہیں۔ کتاب کا انتساب صحافی ، ادیب ،سفر نامہ نگار، فلم ساز اور ہدایت کار علی سفیان آفاقی کے نام ہے۔ علی سفیان آفاقی نے فلیپ میں لکھا کہ’صحافت ان کا پیشہ بھی ہے لیکن ان کا اصل میدان افسانے اور کہانیاں ہیں۔صبا ممتاز کا مطالعہ اور مشاہدہ بہت وسیع ہے جس کی مدد سے وہ اپنے کردار تخلیق کرتی ہیں۔ان کے افسانوں میں ایک دلکش کشش ہوتی ہے۔ انہوں نے صحافت اور افسانہ نویسی میں بہت تجربہ حاصل کیا ہے اور لکھنے کے انداز میں بھی ایک جدت پیدا کی ہے‘۔ ڈاکٹر محبوب عالم کے تحریر کردہ پیش لفظ عنوان ’’صبا ممتاز بانو .....خواہشوں کے غلام لوگوں کی نوحہ گر‘‘ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ جو کچھ دیکھتی ہے ، محسوس کرتی ہے، سوچتی ہے ، ان کا پوسٹ مارٹم کر کے ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے انہوں نے یہ بھی لکھا کہ تمام افسانوں میں معاشرے کے ان بیمار لوگوں کی عکاسی کی گئی ہے جو اس خاکدان کے خطہ حسن و جمال میں اپنی اپنی خواہشوں کے غلم بن چکے ہیں‘۔ ادیب ، سفر نامہ نگار مقصود احمد چغتائی نے ’ایک ہی جست میں افسانہ نگار‘ کے تحت لکھتے کہ ممتاز ’خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ، بے مثال افسانہ نگار اور کہنہ مشق صحافی ہیں ‘۔صبا ممتازبانو شاعرہ بھی ہیں ، ان کا پہلا مجموعہ کلام زیر اشاعت ہے۔ان کے منتخب اشعار ؂
جھیل پتھر ہوگئی ہے ...........چاند کی نااراضگی میں
ترے دل میں سکونت ہورہی ہے .......کوئی برپا قیامت ہورہی ہے
جو پھول خوشبو گلاب میں تھے ......گُر ایسے بھی کیا جناب میں تھے
زندگی کی یہی صداقت ہے ...... جس کی دنیا نظام اس کا ہے
اس نے جب سے کہا خدا حافظ......تب سے اشکو ں کی یہ روانی ہے
خاک کو خاک میں سمانا ہے ..... خاک کا خاک ہی ٹھکانا ہے

صبا ممتاز بانوں کے افسانے اور کہانیاں کتاب کے مطالعہ میں دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں اور کہانی اور افسانے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک عمدہ کتاب ہے اور اردو افسانہ نگاری میں اہم اور قابل قدر اضافہ ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 638886 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
04 Dec, 2018 Views: 952

Comments

آپ کی رائے