لوٹ جا عہد نبیﷺ کی سمت رفتار جہاں

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

مختلف ادوار میں اسلام کے خلاف سازشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺکے متعلق خلاف حقیقت تصورات کا پرچار کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ۔بد نام زمانہ کارٹونز اور فلموں کے ذریعے نبی کریمﷺ کی ذات اقدس پر رقیق حملے کیے گئے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت بھی خوش آئندہے کہ ہر صدی، ہر عہد اور ہر دور کے اصحاب ادب و فن نے اپنی فکر و دانش کا بہترین نذرانہ بارگاہ مصطفویﷺ میں پیش کیا ہے۔ چشم فلک نے بارہا مختلف مذاہب کے اہل قلم قافلوں کو ارض طیبہ کی طرف گامزن دیکھا ہے۔اپنوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی اس بارگاہ عالی ﷺکے خوشہ چین نظر آتے ہیں اور ''رویندر جین'' کا یہ شعر اس صورت حال کا صحیح مصداق ہے:۔
آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم ﷺ
عربی کا مشہور مقولہ ہے ’’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘‘ کہ حقیقی فضیلت وہی ہوتی ہے جس کا مخالفین بھی اعتراف کریں۔اس مختصر سے کالم میں بلا تبصرہ ایسے ہی چند غیر مسلموں کے نظریات اور افکار ہدیہ قارئین ہیں۔
(1 ) Jules Masserman نے ٹائم میگزین (Time Magazine) کے ایک مضمون بعنوان ’’Who were History's Great Leaders‘‘ میں لکھا ہے ’’غالباً تمام زمانوں میں محمدﷺسب سے عظیم رہنما تھے۔ جنہوں نے تین اہم کام سرانجام دیئے: اول۔لوگوں کو آسودگی کی ایک لڑی میں پرویا۔ دوم۔ایک ایسا (بہترین)معاشرہ تشکیل دیا جس نے لوگوں کو رشتہ داری، بھائی چارہ اور اخوت جیسا تحفظ فراہم کیا۔سوم۔ اپنے پیروکاروں کو ایک عقیدہ (توحید باری تعالیٰ) کا ماننے والا بنایا۔‘‘لہٰذمورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں محمد ﷺسے بڑا رہنما اور کوئی نہیں گزرا کیوں کہ وہ حیران کن، بے مثال اور مکمل خصوصیات کے حامل تھے‘‘۔
(2) Hempher ایک برطانوی جاسوس تھا جس نے سلطنت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے کی بے حد کوششیں کیں ایک مسلمان کا روپ دھار کر ملت اسلامیہ میں زہر گھولتا رہا۔اس کے باوجود سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتاہے:''بہرحال میں حضور اکرم ﷺکی قدر و منزلت اور بزرگی کا قائل ہوں۔ بے شک آپ ﷺ کا شمار ان بافضیلت افراد میں ہوتا ہے جن کی کوششیں تربیت بشر کے لیئے ناقابل انکار ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے'' (Memoirs of Mr. Hempher)
(3) مائیکل ہارٹ ایک امریکی ادیب اور عیسائیت کا پیروکار تھا۔ اس نے ''The 100’’کے نام سے عہد ساز شخصیتوں کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب لکھی، جس میں اس نے حضرت محمد ﷺ کو سرفہرست رکھا اور اس کی وجہ یوں لکھی: ''اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو چند سالوں بعد کوئی دوسرا آدمی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا تھا۔سپین کا برنانڈو اگر منظر عام پر نہ آتا تب بھی سپین میکسیکو پر قبضہ کر لیتا۔ ماہرحیاتیات چارلس ڈارون اگر تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آ جاتا۔ لیکن حضرت محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے سرانجام دیئے کسی دوسرے کے ہاتھوں انجام نہ پا سکتے تھے۔
(4)ڈاکٹر ڈی رائٹ لکھتا ہے کہ ’’ حضرت محمد ﷺ صرف اپنی ذات اور قوم ہی کے لیئے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیئے ابر رحمت تھے۔تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس قدر مستحسن طریقے سے انجام دیا ہو‘‘۔ (بحوالہ ۔اسلامک
ریویو اینڈ مسلم انڈیا فروری 1920ء)
(5)ڈاکٹر لین پول کہتا ہے کہ’’اگر حضرت محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو دنیا میں کوئی برحق نبی آیا ہی نہیں‘‘۔ (ہسٹری آف دی مورش ایمپائر یورپ)۔
(6) فرانسیسی محقق (Do Bo Lenn Willy Yeah) کا کہنا ہے کہ محمدﷺکے دین کا آئین اس حد تک عقلی بنیادوں پر استوار ہے کہ اس کی تبلیغ کے لیے کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے اصولوں کی وضاحت کردی جائے تاکہ سارے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
(7)برطانوی محقق (Byron Wolfe) کا کہنا ہے کہ میں جتنا اسلام اور اسلامی زندگی(کے اصولوں سے) آگاہ ہوتا جاتا ہوں اتنا ہی محمد (ﷺ)کے لائے ہوئے ظاہری اور باطنی صفائی کے اصولوں پر حیرت زدہ رہ جاتا ہوں۔ ساتھ ہی مجھے افسوس بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے مسلمان ان تمام تعلیمات پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے؟
(8) سکاٹ لینڈ فلاسفرThomas Carlyle) (کا کہنا ہے کہ ریوڑ چرانے والے فقیروں کی طرف ذرانظر دوڑائیے کہ جو (عرب کے)خشک صحراؤں میں بغیر کسی ہدف کے سرگرداں پھر رہے تھے۔ اتنے میں ایک شجاع پیغمبر(اکرمؐ) عظیم پیغام لے کر ان کے پاس آئے۔ جن پر وہ ایمان لا سکتے تھے۔ دیکھ لیجئے کہ انہیں کی بدولت وہی بے ہدف اور گمنام عرب بدو افراد تاریخ کی تقدیر ساز شخصیات میں بدل گئے۔ ایک صدی کے اندر اندر ان کا پیغام سعودی عرب سے ہوتا ہوا غرناطہ (Granada) اور نئی دہلی (New Delhi) تک کو اپنے نور کے لپیٹ میں لے لیا۔
(9) ڈی لیسی اولیری لکھتا ہے’’یہ روایت کہ تشدد پسند مسلمانوں نے تلوار کے زور پر اسلام پھیلایا اور نسلوں کوفتح کیا،ایک انتہائی ناقابل یقین احمقانہ خیالی کہانی ہے جو تاریخ نویسوں نے بار بار دہرائی ہے۔(De Lacy O'Leary in ''Islam at the Crossroads) London, 1923.
(10) Sir George Bernardکہتے ہیں’’اگر انگلینڈ اور پورے یورپ میں حکمرانی کے لئے اگلے سو سال کے لئے کسی مذہب کا انتخاب کیا جائے تو وہ اسلام ہوگا۔‘‘ Shaw in ''The Genuine Islam) (Vol. 1, No. 8, 1936)
لوٹ جا عہد نبی کی سمت رفتار جہاں پھر تیری درماندگی کو ارتقا درکار ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 196 Articles with 122864 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
03 Dec, 2018 Views: 487

Comments

آپ کی رائے