ہوس, عورت, مرد اور ہمارا کردار

(Babar Alyas, Chichawatni)

انسانی معاشرہ اسی وقت مرد و زن کے رابطے کے سلسلے میں مطلوبہ منزل اور نہج پر پہنچ سکتا ہے جب اسلامی نظریات کو بغیر کسی کمی و بیشی کے اور بغیر کسی افراط و تفریط کے سمجھا اور درک کیا جائے اور انہیں پیش کرنے کی کوشش کی جائے.

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جب اچھے اور برے انسانوں کی مثال دینا چاہتا ہے تو دونوں کے سلسلے میں عورت کا انتخاب کرتا ہے۔ ایک مثال زوجہ فرعون کی ہے اور دوسری مثال حضرت نوح و حضرت لوط علیھم السلام کی بیویوں کی ہے۔ " و ضرب اللہ مثلا للذین آمنوا امرئۃ فرعون" اس کے مقابلے میں برے، نگوں بخت، منحرف اور غلط سمت میں بڑھنے والے انسان کی مثال کے طور پر حضرت نوح اور حضرت لوط کی ازواج کو پیش کرتا ہے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرد بھی موجود تھے، ایک مثال مرد کی دے دی ہوتی اور ایک مثال عورت کی دی ہوتی۔ لیکن نہیں، پورے قرآن میں جب بھی ارشاد ہوتا ہے کہ " ضرب اللہ للذین آمنوا" یا " ضرب اللہ للذین کفروا" تو دونوں کی مثال عورتوں کے ذریعے پیش کی جاتی ہے۔میرا دین اسلام عورت کے ساتھ اسلامی جمہوری نظام کا سلوک مودبانہ اور محترمانہ ہے، خیر اندیشانہ، دانشمندانہ اور توقیر آمیز ہے۔ یہ مرد و زن دونوں کے حق میں ہے.تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ھوتا ھے کہ وہ مذہب اسلام ہی ہے جسکے نقطہ نگاہ سے عورتوں کے لئے علمی، اقتصادی اور سیاسی فعالیت اور سرگرمیوں کا دروازہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 291 Articles with 98534 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
03 Dec, 2018 Views: 478

Comments

آپ کی رائے