قرآن منبع رازونیاز

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 قرآن کریم کے اندراﷲ تعالیٰ نے اپنی کائنات کے بیشماررازونیازارشادفرمائے ہیں۔بہت سارے کھلے لفظوں میں توبیشمارکی نشانیاں ارشادفرماکرابن آدم کودعوت غوروفکردی ہے تاکہ وہ قرآن مجید کاباغورمطالعہ کرنے اورزندگی کوآسان بنانے کیلئے قدرت کے بیش قیمت خزانوں سے مستفیدہوں۔اﷲ سبحان تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندرمخلوق کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کاحل ارشادفرمایاہے یہی رازونیازہیں،یہی خزانے ہیں جنہیں تلاش کرکے ہمیں دنیاوی وآخرت کی زندگی کی آسانیاں ہی نہیں بلکہ کامیابیاں بھی سمیٹنی ہیں۔ہمارامسئلہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں پرقرآن مجید کے رازونیازجنہیں اﷲ تعالیٰ نے نشانیاں فرمایاہے کوسمجھنے سے قاصر رہتے ہیں،سوال یہ پیداہوتاہے کہ قرآن مجیدپڑھنے والوں کی تعدادتوبہت ہے پھرآج کے دورکاانسان اس قدرمسائل سے کیوں دوچارہے؟مرشِدسرکارسیدعرفان احمدشاہ المعروف نانگامست بابامعراج دین نے بڑی تفصیلی رہنمائی فرماکرہمارایہ مسئلہ حل کردیا ہے ’’یہ بات اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ تعلق کتناہی مضبوط کیوں نہ ہو،رشتہ داری کتنی ہی قریبی کیوں نہ ہو،مخلص دوستی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوجائے آپ پہلی،دوسری ،تیسری ملاقات توکیا ہزاروں ملاقاتوں کے بعد بھی رشتہ داریادوست پرمکمل کھل نہیں سکتے،کوئی صاحب علم وہنرآپ کو تب تک علم وہنرکے رازونیازنہیں بتاتاجب تک آپ کے ساتھ دلی لگاؤنہ ہوجائے ۔سب سے قریبی رشتے والدین ،اولاد اوربہن بھائیوں کے ہوتے ہیں آپ دورنہ جائیں اپنے آپ پرغورکریں آپ اپنے والدین ،بہن،بھائیوں کواورآپ کے والدین،بہن،بھائی آپ کوساری زندگی مکمل طورپرسمجھ نہیں پاتے، ماں،باپ کی محبت پرشک نہیں کیاجاسکتاپرزندگی کے تقاضے ہرلمحہ بدلتے رہتے ہیں،آج کے حالات وواقعات آنے والے کل میں بدل جاتے ہیں،مزاج،محسوسات،تجربات ،انداز،سوچ اورزاویے زندگی میں پیش آنے والے حالات وواقعات کے مطابق ہرلمحہ نئی شکل اختیارکرتے ہیں۔دنیاکی بہت بڑی حقیقت ہے کہ آپ کسی اپنے کے ساتھ دل کی بہت ساری باتیں کرسکتے ہیں پروہ تمام رازونیازنہیں کھول پاتے جوآپ کی ذات کے اہم ترین پہلوؤں کے پردے فاش کردیں،یعنی ایک محدودسی ہستی،ایک فانی انسان کوجلدی سے سمجھ پانایامکمل سمجھ پاناممکن نہیں ہے ،خاص طورپرایسے رازونیاز جن کا تعلق آپ کے قیمتی وسائل کے ساتھ ہوانہیں فقط سب سے قابل اعتبارفردپرہی کھول پاتے ہیں اوراکثرلوگ ایسے رازونیازکوئی قابل اعتباررشتہ میسرنہ آنے کی صورت میں اپنے ساتھ قبرمیں لے جاتے ہیں۔مرشِدسرکارنے فرمایاجیسے ہم کسی استادسے علم وہنرحاصل کرنے کیلئے دنیاکامال دولت پانے کیلئے اُس کی خدمت کرتے ہیں،احترام کرتے ہیں،محبت کرتے ہیں تاکہ وہ ہمارے حسن سلوک سے متاثرہوکرہمیں قابل اعتبارسمجھے اور علم وہنراورمال ودولت کے رازونیازکھول دے،دوسرے صورت میں ہم جن کے ساتھ محبت کرتے ہیں،جن کے ساتھ عشق کرتے ،جن کابغیرکسی لالچ وحرس کے خیال کرتے وہ ہمیں قابل اعتبارہی نہیں بلکہ اپنی وراثت،اپنی ملکیت کاحقدارسمجھ کراپنے رازونیازکھول دیتے ہیں ٹھیک اسی طرح آپ قرآن مجید کے ساتھ محبت کرو،عشق کرو،ترتیب کے ساتھ تلاوت کرو،ترجمعہ کاباغورمطالعہ کرواورکرتے ہی رہوتوقرآن کریم آپ کے ساتھ گفتگو کرے گا، نوجوان بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ بچے قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھا کریں اور قرآنی تعلیمات سے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، آپ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک ناطق کتاب ہے۔ ناطق کے معنی ہیں گفتگوکرنے والی ،مکمل رہنمائی کرنے والی کتاب ،قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو ہر طرح کی اور مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے اس میں ہمارے ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور یہ ہر سوال کا جواب دیتی ہے اس کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہم اس پاک کتاب کے ساتھ پیار کریں، عشق کریں، اس کا احترام کریں، آپ نے مزید فرمایا کہ ایک عام آدمی جس کے پاس کوئی معمولی ہنر وتجربہ یا معلومات ہوں وہ بھی ہمیں پہلی ملاقات میں وہ ہنرو تجربہ یا معلومات نہیں دے گا توپھرقرآن مجید جورازونیازکا منبع اور رشد و ہدایت کا سرمایہ ہے وہ کیسے آپ کو بلا محبت و پیار کے رازونیاز کی باتیں بتائے گا،قرآن پاک کو سمجھنے کیلئے اس پاک کتاب کے ساتھ محبت ضروری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 302558 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Dec, 2018 Views: 404

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ