خلافت کی وسعت و اختیارات سے خائف کفر

(Allah Bakhash Fareedi, Faisalabad)
کفر جانتا ہے کہ اسلامی خلافت اور جہاد ایسے لفظ ہیں کہ ان سے مسلمانوں کی وہ دینی حس بیدار ہوتی ہے جو سب عصبیتوں کا خاتمہ کر د یتی ہے اور مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم و زیادتی برداشت نہیں کرتے اور اس کے دفاع میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے کفر خلافت کے تصور کو برداشت نہیں کرتا وہ اسے ہر صورت میں مٹانا چاہتا ہے،اسی لیے وہ جمہوریت کا سبق پڑھاتا ہے تاکہ مسلمان اللہ کو بھول کر اپنی حکمرانی کی دوڑ میں لگ جائیں۔مختلف عصبیتیں پیدا کر کے مسلمانوں کو فرقہ فرقہ کردیں تاکہ یہ انتشار کا شکار ہوں، اسلامی وحدت کا خاتمہ ہو جائے۔اسلام کی توسیع اور جہاد کا جذبہ ان کے دلوں سے نکل جائے ۔ مسلمان اپنی الگ الگ چھوٹی چھوٹی جمہوریتیں بنا کرایک دوسرے کے دست و گریباں رہیں۔جب ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمزور ہو جائیں تو کفر کے دست نگر بن جائیں۔

خلافت کا تصور جس سے کفر خائف ہے وہ یہ کہ خلافت میں حاکم اعلیٰ اللہ رب العزت ہے اور انسان جو حقیقت میں ایک صحیح و سچا مسلمان ہو وہ روئے زمین پر اس کاپسندیدہ بندہ اور خلیفہ یعنی ذمہ دار ہے۔ اور پھر ان سب پسندیدہ بندوں یعنی عمومی خلفاء پر ایک نگراں خلیفہ منتخب ہوتا ہے جو حاکم وقت اور امیر المومنین کے درجہ پر فائز ہوتا ہے۔خلیفہ کا ملک اسلام اور اہل اسلام ہیں اور اس کا فریضہ، اس کی ذمہ داری اسلام کو اہل اسلام پر نافذ کرنا ہے ، وہ کسی زمینی یا علاقائی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ کی حاکمیت وسیع ہے اسی طرح اس کے خلیفہ کی خلافت بھی روئے زمین پر وسیع ہے اور اس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ جہاں تک اسلام ہوگا، جہاں تک اسلام کے ماننے والے بستے ہوں گے وہاں تک اس کی خلافت کا دارو مدار ہو گا۔ روئے زمین پر اسلام پھیلانا خلیفہ کا فرض ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خلفاء راشدین اپنے دور میں چین سے نہیں بیٹھے تھے اور وہ چار سو زمین پر اسلام کا پیغام دے کر قافلے روانہ کرتے تھے، حتیٰ کہ اس وقت کے تاجر بھی تجارت سے زیادہ اسلام کے مبلغ ہوتے تھے۔ خلافت کے اس تصور سے مسلمانوں میں وحدت اور ایک مرکز کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اسلامی اصولوں پر کاربند رہنے اور جہاد کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسلامی مساوات، اخوت و بھائی چارہ کو فروغ ملتا ہے اور تمام مسلمان ایک جسد واحد کی طرح رہتے ہیں۔
کفر جانتا ہے کہ اسلامی خلافت اور جہاد ایسے لفظ ہیں کہ ان سے مسلمانوں کی وہ دینی حس بیدار ہوتی ہے جو سب عصبیتوں کا خاتمہ کر د یتی ہے اور مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم و زیادتی برداشت نہیں کرتے اور اس کے دفاع میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے کفر خلافت کے تصور کو برداشت نہیں کرتا وہ اسے ہر صورت میں مٹانا چاہتا ہے،اسی لیے وہ جمہوریت کا سبق پڑھاتا ہے تاکہ مسلمان اللہ کو بھول کر اپنی حکمرانی کی دوڑ میں لگ جائیں۔مختلف عصبیتیں پیدا کر کے مسلمانوں کو فرقہ فرقہ کردیں تاکہ یہ انتشار کا شکار ہوں، اسلامی وحدت کا خاتمہ ہو جائے۔اسلام کی توسیع اور جہاد کا جذبہ ان کے دلوں سے نکل جائے ۔ مسلمان اپنی الگ الگ چھوٹی چھوٹی جمہوریتیں بنا کرایک دوسرے کے دست و گریباں رہیں۔جب ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمزور ہو جائیں تو کفر کے دست نگر بن جائیں۔
اسی لئے اہل کفر نے مسلمانوں کو جمہوریت کا سبز باغ دیکھایا کہ وہ اس پر کاربند رہ کر دنیا میں ترقی و معیشت کی عوج ثریا تک پہنچیں گے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ہم وہ بلندی، وہ ترقی، وہ عروج حاصل نہیں کر سکے جو دورِ خلافت میں ہمارا مقدر تھا۔ جمہوریت ایک فرسودہ اور علیحدہ نظام ہے اسلام ایک علیحدہ نظام ہے ۔ جمہوری نظام اسلام سے کسی بھی صورت میل نہیں کھاتا ہے۔ جمہوریت مغرب نے ایجاد کی ہے، اسلام اللہ کا نظام ہے ۔ اب جو اللہ کے نظام کو چھوڑ کر جمہوریت اہل کفر کے ترتیب کردہ نظام کی بات کریں گویا ان کا اللہ پر ایمان و یقین ہی نہیں ہے۔ جو جمہوریت پر قربان اور مر مٹنے کیلئے تیار ہوں، جو خدا سے غداری پر مبنی جمہوری شہید کہلانے میں فخر محسوس کریں اور اسلامی شہید بننے کو عار سمجھیں تو ان کا اللہ و رسول ﷺ، اسلام اور قرآن سے کیا واسطہ باقی رہ جاتا ہے؟ کیا وہ اللہ و رسول ﷺ، اسلام اور قرآن کے غدار نہیں ہوں گے؟
جمہوریت میں عوام ہی سب کچھ ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اللہ و رسولﷺ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔جمہوریت میں عوام ہی طاقت کا سر چشمہ سمجھے جاتے ہیں ،ان کی حکمرانی ہوتی ہے،وہ اپنے معاشرے کا خود ہی دستور بناتے ہیں،خود ہی قانون۔ جب زمین پراللہ کی حاکمیت نہ رہی تو اللہ کے احکام ماننے کی پرواہ کہاں رہی؟ جمہوریت کفر کا نظام ہے، اس نظام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ اللہ اور اسکی حاکمیت کوئی چیز نہیں۔ خلافت الٰہیہ کا تصور ملوکیت کا استبدادی تصور ہے۔حکومت عوام کا حق ہے عوام ہی سب کچھ ہیں۔عوام کو چاہیے کہ الیکشن کے ذریعے اپنے اس طاقت و حکومت کے حق کو استعمال کریں اور الیکشن کے ذریعے اپنے منتخب نمائندے حکومتی ایوانوں میں بھیجیں، الیکشن کروانا گویا اس کفریہ عقیدے کو تسلیم کرنا ہے جس سے اللہ کی حاکمیت کی نفی ہوتی ہے کہ حکومت و اقتدار اللہ کا حق نہیں عوام کا حق ہے، یہ کتنا بڑا تضاد ہے اور پھر جمہوریت اور خلافت میں دوسرا بڑا تضاد یہ ہے کہ جمہوریت میں حکومتی ارکان عوام کے نمائندے ہوتے ہیں انہیں بہرصورت عوام کی رائے اور خواہش کے مطابق چلنا ہے، عوام جو کہیں اس پر عمل کرنا ہے خواہ وہ دین کی نفی ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ جبکہ خلافت میں حکومتی ارکان عوام کے نہیں اللہ و رسول ﷺ کے نمائندے ہوتے ہیں، انہیں بہرصورت وہی کرنا ہے جو اللہ و رسول ﷺ کا فرمان ہو، انہیں دین کو عوام پر نافذ کرنا اور کروانا ہوتا ہے، انہیں عوام کی نہیں خدا و رسول ﷺ کی رائے و منشاء کے مطابق چلنا ہوتا ہے اور بیشک خدا و رسول ﷺ کی منشاء ہی حقیقت میں عوام ہی کی بھلائی ہے۔
اللہ و رسول ﷺ سے بڑھ کر عوام الناس کا محافظ و خیر خواہ اور کون ہو سکتا ہے؟ خلافت میں عوام کی بھلائی ہی بھلائی ہے، خلافتی ارکان دن رات عوام کی بھلائی کیلئے ہی کام کرتے ہیں وہ اپنا کچھ نہیں بناتے اور نہ اپنے کاروبار چمکاتے ہیں۔جبکہ جمہوری ارکان صرف اپنی اور اپنے قریبی لوگوں کے خیرخواہ ہوتے ہیں، انہیں فائدہ پہنچاتے ہیں۔خورد برد، لوٹ مار اور وسائل پر قبضہ ، اختیارات سے تجاوز اور ناجائز استعمال ان کا وطرہ ہوتا ہے۔ انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں ہوتی خواہ وہ بھوکے پیاسے مر رہے ہوں، خواہ وہ چھت اور کپڑا سے محروم ہوں، خواہ ا نہیں صحت و خوراک کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں یا نہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا بس ان کے پیٹ بھرتے رہنے چاہیں۔خلافت میں اگر جانور بھی پیاسے مر رہے ہوں تو وہ خدا کے سامنے ان کے جوابدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت میں اربابِ اختیار خوف خدا سے سرشار ہوتے ہیں جبکہ جمہوری مداری پہلے ہی خدا کا خوف اتار میدان میں قدم رکھتے ہیں۔
جمہوریت میں جو پارٹی اکثریت میں ہو حکومت کرتی ہے جو اقلیت میں ہو محکوم ہوتی ہے، اس طرح انسان انسان پر حکومت کرتا ہے، اپنے خود ساختہ قوانین عوام پر مسلط کرتا ہے ، اپنی منشاء اور خواہش کے مطابق فیصلے کرتا ہے جبکہ خلافت میں خلیفہ کوئی اپنے احکام جاری نہیں کرتا بلکہ اللہ ورسول ﷺ کے احکامات کے اجراء کا محافظ و نگران ہوتا ہے ۔ اسلام میں حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہوتی ہے، سب انسان اس کے حکم کے تابع ہوتے ہیں راعی اور رعایا سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اسلام میں قانون اللہ کاہوتا ہے، کوئی انسان کسی انسان پر اپنے قانون کے ذریعے حکم نہیں کر سکتا۔ حکومت سب پر اللہ کی ہوتی ہے، اللہ کا نظام چلتا ہے، اللہ کا دستور چلتا ہے، اللہ کا عطا کردہ ضابطہ و قانون اس کا آئین ہوتا ہے۔
جمہوریت خدا کی حاکمیت کا درس نہیں دیتی۔ جمہوریت میں اکثریت جو چاہتی ہے کرتی ہے۔جمہوریت میں حق نا حق جائز نا جائز اچھا برا فی نفسہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ جو اکثریت منظور کر دے وہی حق اور جائز ہے حتیٰ کہ اگر اکثریت فعل قوم لوط اور ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے دے تو معاشرے میں وہ بھی جائز سمجھا جائے گا جیسا کہ آج کل دنیا کے اکثر ممالک میں جائز سمجھا جانے لگا ہے، اور اس کے حق میں اسمبلیوں سے قراد دیں منظور کر لی گئی ہیں۔ جمہوریت میں اکثریت کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے خواہ وہ اکثریت ایک دو عدد کی ہی ہو۔ اکثریت اپنی اکثریت کے بل بوتے پر جو چاہے کرے، حلال کو حرام کر دے حرام کو حلال،جمہوری نظام میں سب کچھ روا ہے۔اسلام میں اقلیت اور اکثریت کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں طاقت حق کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کا قانون ہے۔خواہ وہ حق اقلیت میں ہو یا اکثریت میں، بالا دستی حق کی ہی ہو گی۔جو حق نہیں خواہ وہ اکثریت میں ہو اسلام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔حق کبھی بھی باطل کے تابع نہیں ہو سکتا۔ اسلام حق پر مبنی نظام ہے اور جمہوریت باطل پر مبنی، لہٰذا اسلام اور مسلمان جمہوریت کے تابع رہ کر نہیں چل سکتے۔ اگر کہیں نام نہاد مسلمان اسلام اور جمہوریت ایک ساتھ چلا رہے ہیں تو یہ گمراہی ، فتنہ اور فساد کے سواء کچھ نہیں ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآءَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ o
اور اگر حق ان کی ( یعنی عوام الناس ، جمہوری ) خواہشات کے مطابق ہوتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب درہم برہم ہو گیا ہوتا۔(سورہ المومنون23: 71)
یعنی اگر حق عوام کے تابع ہو جائے خواہ وہ اکثریت میں ہی ہوں، اکثریت کی خواہشات کے مطابق آئین اور قانون بننے لگیں تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظام میں جمہوریت چل ہی نہیں سکتی۔ مسلمانوں میں جوں ہی جمہوریت آئی سارا اسلامی نظام درہم برہم ہوگیا۔ ذلت و رسوائی، خواری و ناداری مسلمانوں کا مقدر بنی۔ زمین میں چار سو اہل کفر ان پر غالب آ گئے۔ غالب مغلوب ہو گئے، حاکم محکوم بن گئے۔خدا پر ایمان و یقین کمزور پڑ گیا۔ مسلمان اللہ کی ناراضگی مول لے کر اس کے غیظ و غضب کو شکار ہوئے اور اس کے رحم و کرم کے دائرہ کار سے دور جا پڑے۔ مسلمانوں کی دنیا میں ذلت و رسوائی کی یہی وجہ ہے کہ ان کا خدا ان سے راضی نہیں ہے۔
جمہوری نظام میں کسی بھی مذہب کی کوئی جگہ نہیں۔جمہوریت کی نظر میں سب مذہب برابر ہیں وہ کسی کی حامی نہیں ہے۔ جمہوری ملک میں مذہب لوگوں کا ذاتی فعل ہے ، ملک اور معاشرت کا نہیں۔ جمہوریت کسی مذہب کے تابع رہ کر نہیں چلتی بلکہ اکثریت کی خواہشات پر چلتی ہے۔ مذاہب جمہوریت کے تابع تو ہو سکتے ہیں مگر جمہوریت کسی مذہب کے تابع نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کسی مذہب کے اصولوں پر نہیں چل سکتی۔ جمہوریت کے اپنے اصول ہیں مذہب کے اپنے۔ جمہوریت کسی بھی صورت مذہب کے تابع نہیں ہو گی ہاں اگر مذہب جمہوریت کے تابع ہو جائے تو یہ اس کے لئے ٹھیک ہے بلکہ اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی نظر میں اسلام اور کفر دونوں برابر ہیں۔جمہوریت لادینیت کا دوسرا نام ہے۔جمہوریت کا ذہنوں پر یہ اثر ضرور ہوتا ہے کہ آدمی سیکولرو لبرل سا ہو جاتا ہے اور اس کی دینی غیرت اور مذہبی حمیمیت ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اسلامی نظام میں باطل کے لیے کوئی جگہ نہیں۔باطل کو مٹانا اسلام اور اہل اسلام پر فرض ہے اور ان کی بنیادی ذمہ داری میں داخل ہے۔
باطل کو نیست و نابود کرنے اور جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہی اسلام نے خلافت کو وسیع تر اختیارات عطا کیے ہیں اور ہر طرح کی خودمختاری دی ہے۔ ریاست کے تمام ادارے اور ستون ،خلیفہ ہی سے اپنے اختیارات تفویضاً اور امانتاً لیتے ہیں، یعنی صرف خلیفہ ہی ریاست کے تمام اختیارات کا وارث و امین ہوتا ہے اور جتنے اختیارات جن جن اداروں کو چاہے منتقل کرتا ہے۔ایک اسلامی ریاست میں خلیفہ کے پاس کیا کیا اختیارات اور ذمہ داریاں ہو سکتی ہے ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔
1۔ ریاست میں اسلامی شرعی قوانین کا عملی نفاذ کرنا،اسلامی طرز حیات،حسن معاشرت، رہن سہن، اخوت، بھائی چارہ، رواداری اور برداشت لوگوں کی عملی زندگی تک رائج کرنا کہ ریاست کا ہر ہر شہری اسلامی اصولوں کا عملی منظر پیش کرنے لگیں،ان میں ایک دوسرے کی عزت و احترام، باہمی انس و محبت بھری ہو، اسلامی معاشرہ کسی باہمی عداوت و انتشار کا شکار نہ ہو۔
2۔ اقامتِ دین اور اقامتِ صلوٰۃ کے لئے قوانین مرتب کرنااور شہریوں سے ان کی پابندی کروانا۔ خلافت قائم ہونے کے بعد خلیفہ کی سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ ریاست میں اقامتِ دین اور اقامتِ صلوٰۃ کے لئے اہم اقدامات کرے، ریاست میں دین کا نفاذ بہرصورت ممکن بنائے، خلیفہ دین کے معاملہ میں اتنا سخت ہو کہ اس کے خوف سے کوئی بھی شہری اسلامی شرعی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کر سکے۔ دین پر عمل کرنے اور کروانے میں حکومت کا بہت بڑا عمل دخل ہے، دین پر عملدرآمد کے معاملہ میں خلیفہ کو لوگوں کی ذاتی زندگی تک بھی اختیار حاصل ہے، ریاست لوگوں کی خلوت و جلوت پر بھی نظر رکھ سکتی ہے کہ کہیں وہ دینی امور کی انجام دہی میں غافل تو نہیں۔ خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ
واللہ ما یزع اللہ بالسلطان اعظم مما یزع بالقرآن۔
’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ حکومت کے ذریعے سے برائیوں کا جو سدباب کرتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جو قرآن کے ذریعے سے کرتا ہے۔ (کنز العمال)
اسلام میں اقامت دین ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو ریاست اقامتِ دین کے لئے اقدامات نہ کرے وہ اسلامی ریاست نہیں کہلا سکتی۔ جمہوری نظام میں ریاست اقامت دین کے معاملہ میں ایسی کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتی ہے۔ جمہوریت دین کو لوگوں کی نجی زندگی اور ذاتی فعل قرار دیتی ہے کہ لوگ عمل کریں نہ کریں ان کا ذاتی فعل ہے ، ریاست کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جمہوریت کبھی کسی بھی صورت اسلامی نہیں ہو سکتی ہے۔ جو ریاستیں جمہوریت کے ساتھ اسلام کا لیبل لگا کر پیش کرتی ہیں وہ نہ صرف لوگوں کو بلکہ دین ، خدا و رسول ﷺ کے ساتھ بھی دھوکہ اور فراڈ کرتی ہیں۔
3۔ ریاست کے سبھی مسلمان شہریوں کو صوم و صلوٰۃ کا پابند کرنا، ملک میں یکساں نظام صلوٰۃ رائج کرنا اور لوگوں سے سختی سے نماز کی پابندی کروانا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بے نمازی کے لیے باقاعدہ سزا و جزاء کے سخت قوانین ہوں، ایسا نظام ہو کہ ملک بھر میں نماز کے اوقات میں کوئی پہیہ رینگتا نظربھی نہ آئے اور نفسا نفسی سب کوبروقت نماز کی فکر لاحق ہو۔
4۔ ریاست میں وحدت دین کا قیام بھی خلیفہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں داخل ہے، خلیفہ کو سب کو ایک خالص دین پر لانے، تفرقہ و انتشار، گروہ بندی، لسانی و نسلی اور مسلکی تفریق مٹانے کا اختیار حاصل ہے۔خلیفہ سب مسلکی گروہ بندیاں کالعدم قرار دے کر ملت کو ایک وحدت یعنی خالص دینِ متین پر جمع کر سکتا ہے۔ ریاست کی سبھی اکائیوں کو خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرنا لازم ہے بشرطیکہ وہ دین کی روح کے مطابق ہو تو اس کی اطاعت خدا و رسول ﷺ کی اطاعت کے درجے میں آتی ہے۔اگر خلیفہ اقامت دین کے معاملہ میں مخلص ہو اور سبھی ریاستی امور دین کے عین سرانجام دے رہا ہو تو اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے اس کی اطاعت معاشرہ کے ہر ہر فرد لازم ہو جاتی ہے ۔ لیکن اگر آج کی شیطانی جمہوریت کی طرح خلیفہ دین کے معاملہ میں غافل ہو تو عوام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے ڈنڈے اور تلوار کے زور سے دین کا راستہ دکھائے۔
خلیفہ الثانی حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ اگر وہ اسلام کے نفاذ میں کوتاہی برتیں تو وہ کیا کریں گے؟توسب نے یکسو جواب دیا کہ وہ انہیں تلوار کے زور پر سیدھا کردیں گے۔ یہ جواب رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق تھا،کہ اگر حکمران اسلام کی صریح خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔اس امر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقامتِ دین بہرصورت دونوں اکائیوں پر لازم ہے یعنی راعی اور رعایا، حکمران اور عوام۔ اگر عوام دین معاملہ میں غافل ہوں تو حکمرانوں پر لازم بلکہ فرض آئین ہے کہ وہ انہیں ڈنڈے اور سخت قوانین سے سیدھا کریں اور دین پر لائیں اور اگر حکمران غافل ہوں تو عوام کا خدا کی طرف سے فرض بنتا ہے کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں اور انہیں پوری قوت و طاقت سے سیدھا کریں اور دین کا راستہ دکھائیں۔ حکمرانوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے دین کے معاملہ میں غفلت یا کفر کی حمایت پر اصرار کیا ( دین کی معاملہ میں سستی ہی کفر کی حمایت ہے) اور کتابِ نصیحت کا رد کیا تو ان کے خلاف تلوار بھی استعمال کی جائے گی۔ اگر دونوں اکائیاں راعی اور رعایا دونوں دین کے معاملہ میں سست و غافل ہوں تو دونوں خدا کے قہر و غضب کا شکار اور دنیا میں ذلیل و رسواء ہوں گی جیسا کہ آج کا منظر اس کی بخوب عکاسی کرتا ہے۔
5۔ ریاست میں اسلامی نظام معیشت کا رائج کرنا، نظام زکوٰۃ و عشر کو شرعی روح کے مطابق نافذ کرنا۔ زکوٰۃ وعشر کی وصولی اور تقسیم کیلئے ایسے قوانین مرتب کرنا کہ کوئی بھی فرد جس پر اسلامی اصول کے مطابق زکوٰۃ و عشر واجب ہو دیئے بغیر نہ رہ سکے اور جو اس کا حقدار و مستحق ہو وہ اس سے محروم نہ رہے۔ریاستی وسائل کا فائدہ سب کیلئے یکساں ہو، مالی و معاشی مواقع سب کیلئے یکساں طور پر میسر ہوں۔نماز اور زکوٰۃ دو ایسے اسلامی رکن ہیں جو اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہیں۔ ان دو کے بغیر کوئی معاشرہ اسلامی کہلانے کا حق نہیں رکھتا، لہٰذا کسی بھی اسلامی معاشرہ کے لئے ان دوپر سختی سے پابندی کرنا اور کروانا ضروری ہے اور یہ کام حکومت کی بنیادی اور سب سے اولین ذمہ داری ہے کہ وہ بہر صورت دین کی رٹ قائم کرے اور جس طرح ممکن ہو دین کا نفاذ ممکن بنائے۔
6۔ خلیفہ کو اسلام کے خلاف متحرک تمام عناصر کے خلاف ہر طرح کی کاروائی کا حق اور صوابدیدی اختیار حاصل ہے۔ ہر وہ شئے، تمام وہ ذرائع جو دین سے کوتاہی و غفلت کا سبب بنیں وہ بھی اسلام کے خلاف متحرک عناصر میں داخل ہیں۔ موسیقی ، ڈرامہ و فلم سازی،ناچ راگ، بھنگڑے، میلے ،ٹھیٹھر، کھیل و کود وغیرہ خلافِ دین عناصر میں شامل ہیں کیونکہ یہ دین سے سستی و غفلت کے بنیادی اسباب ہیں۔
7۔ ریاست کے تما م تر انتظامی امور کی نگرانی اور دیکھ بھال کا ذمہ دار خلیفہ ہے اور وہی اس کا جوابدہ ہے۔ تمام انتظامی امور ،ریاستی ادارے ،عدلیہ، دفاعیہ، صوبے،اضلاع و تحصیل کے سبھی انتظامی امور و معاملات اور نظم و نسق کا ذمہ دار خلیفہ ہوتا ہے۔ خلیفہ کو تمام ریاستی اداروں کے سربراہوں اور امیروں کی تقرری اور دستبرداری یعنی عہدہ سے ہٹانے کا اختیار حاصل ہے ۔ خلیفہ جب اور جس وقت چاہے غفلت و کوتاہی برتنے پر کسی بھی ادارے، صوبہ و اضلاع کے امیروں کو برطرف کر سکتا ہے۔
8۔ تمام تر خارجہ امورکا انتظام و انصرام، دوسرے ممالک سے تعلقات اور اس کی نوعیت طے کرنا، کسی کے ساتھ دوستی ، صلح و جنگ ، معاہدے اور معاملات و مذاکرات ، سفیروں کا تقرر، وفود کی روانگی، شریک افراد کے چناؤ اور بات کے ایجنڈے تک کا اختیار خلیفہ کو حاصل ہے۔
9۔ ریاست اسلامیہ میں خلیفہ کو تمام دفاعی ، فوجی اور امن قائم کرنے والے اداروں پر براہِ راست اور مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول، چیک اینڈ بیلنس بشمول کمانڈروں اور سپہ سالاروں کی تقرری اورافواج کی نقل وحرکت تک کا اختیار حاصل ہے کہ افواج نے کب اور کہاں نقل و حرکت کرنا ہے، کہاں پڑاؤ ڈالنا ہے، ان کے اہداف ہیں ، سب کا طے کرنا خلیفہ کے اختیار میں شامل ہے۔
10۔ عدلیہ کا قیام، تقرری و نگرانی، قاضی القضاء یعنی امیر عدلیہ چیف جسٹس، قاضی عام یعنی جج اور عوامی مجسٹریٹ کے تقرر و برطرفی کا اختیار خلیفہ وقت کے پاس ہوتا ہے۔عدلیہ کو اسلام میں ایک معتبر مقام حاصل ہے کہ یہ خلیفہ کو بھی طلب کر سکتی ہے اور اس کے بلانے پر خلیفہ بطورِ خلیفہ نہیں مدعی یا مدعا علیہ کی حیثیت سے حاضر ہو گا اور اسے کسی قسم کا پروٹوکول، عزت و تکریم یا رعائت نہیں دی جائے۔ اسلام قانون کی بالادستی اور قانون کے سامنے افراد معاشرہ کی برابری و مساوات کا قائل ہے۔ قانون میں جو رعائت یا سزا کسی ایک کیلئے مقرر ہے وہ سب کیلئے یکساں ہے خواہ امیر ہو یا غریب، خلیفہ ہو یا بادشاہ ہویا فقیر،گورنر ہو یا کوئی وزیر، مسلمان یا غیر مسلم۔قانون کے کٹہرے میں سب برابر ہیں کسی کو کوئی رعائت، کوئی نرمی ، کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں۔
اس برابری کو خلفائے راشدین نے اپنے اپنے ادوار میں خوب اجاگر کیا۔ ایک دفعہ امیر المومنین حضرت سید نا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا تو حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ قاضی نے دونوں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، دونوں فریق مدعی اورمدعا علیہ کی حیثیت سے عدالت میں حاضرہوئے تو قاضی نے خلیفہ وقت ہونے کی حیثیت سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت وتکریم کی تو آپ ان سے سخت ناراض ہو ئے اور فرمایا ۔’’تم نے عدالتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ عدالتی قوانین کی نظر میں دونوں فریق برابر ہیں لہٰذا دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک و برتاؤ ہونا چاہیے، کسی کے ساتھ کوئی رعایت و نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔‘‘یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ مدعی حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا بیٹھے ۔ مقدمہ کی کاروائی شروع ہوئی تو پھر قاضی نے امیر المومنین کی حمایت کرتے ہوئے مدعی سے کہا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں یوں گستاخی نہ کرو،تو اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فرمایا۔’’ تم نے میری حمایت کرکے دوسری بار بڑی غلطی کی لہٰذا اب تم اس منصب کے قابل نہیں رہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کوفوراً معطل کر دیا۔
اسلام قانون کی بالادستی اور قانون کے سامنے افراد معاشرہ کی برابری و مساوات کا قائل ہے ۔ قانون میں جو رعائت یا سزا کسی ایک کیلئے مقرر ہے وہ سب کیلئے یکساں ہے خواہ امیر ہو یا غریب، خلیفہ ہو یا بادشاہ ، فقیر ہو یا گدا،گورنر ہو یا کوئی وزیر، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔قانون کے کٹہرے میں سب برابر ہیں کسی کو کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں۔
11۔ ریاست کے تمام امورِ خزانہ، بیت المال، مالی معاملات،تجارت و لین دین، تصرف و بچت، آمدن و اخراجات، مصولی،جزیات و ٹیکس و شرح ٹیکس کے تعین تک کا تمام تر اختیار خلیفہ کو حاصل ہے حتیٰ کہ خلیفہ ریاست کی ضروریات کے مطابق یا عوام کو بنیادی ضروریات زندگی باہم پہنچانے مثلاً خوراک، کپڑا، مکان، صحت ، علاج معالجہ، تعلیم وغیرہ کی بہتری کیلئے اضافی ٹیکس بھی عائد کر سکتا ہے۔
12۔ تمام تر ریاستی اشیائے خوردونوش،پھل، میوہ، سبزی، زرعی اجناس اور دیگر اشیائے تصرف کا جائز اور مناسب قیمتوں کا تعین اور خریدو فروخت اور معیار کی نگرانی حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ ان امور سے متعلقہ محکمے قائم کرے اور ان پر ذمہ داری عائد کرے کہ وہ ظاہری و خفیہ طریق سے جانچ پڑتال کرتے رہیں کہ کہیں کوئی مقررہ نرخوں سے زائد فروخت کر کے لوٹ ماری میں تو مصروف نہیں، کوئی عوام پر مہنگائی کا بوجھ تو نہیں ڈال رہا، کوئی اشیاء میں ملاوٹ یا ناپ تول میں ہیر پھیر تو نہیں کر رہا؟چیک اینڈ بیلنس، گشت کرنا، معاشرہ پر نگاہ رکھنا حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسلام میں خلیفہ ریاست کا روح رواں اور پیشوا ہوتا ہے یعنی خلیفہ تمام تر ریاستی اختیارات کا امین ہوتا ہے۔ خلیفہ کے پاس اتنے وسیع تر اختیارات جمع ہو جانے سے پوری قوم جسد واحد کی طرح متحد ہو جاتی ہے ، ایک مرکز ، ایک محور پر ہوتی ہے اور پوری دنیا پر اس کا خوف اور دبدبہ طاری ہوتا ہے کہ یہ ایک مضبوط اور متحد قوم ہے، دشمن اس سے ٹکر لینا آسان نہیں سمجھتا۔ متحد قوم کیلئے کوئی بھی فیصلہ کرنا آسان ہوتا ہے۔اہل کفر خاص تر مغربی ریاستیں اسلام میں فرد واحد کے پاس اتنے وسیع تر اختیارات جمع ہو جانے سے خائف تھیں کہ پوری مسلمان قوم خلیفہ یعنی ایک فرد واحد پر متحد ہے ، ان کیلئے دنیا میں کوئی بھی مشن، کوئی بھی معرکہ سر کرنا آسان ہے، اگر یہ دنیا کو فتح کرنے کی تھان لیں تو ان کے لئے کوئی مشکل اقدام نہیں ہے، جب تک یہ متحد رہیں گے یہ کسی کے زیر تسلط نہیں آئیں گے بلکہ دنیا کو مغلوب کرتے چلے جائیں گے۔اس لئے دشمن نے اسلامی خلافت کے خلاف سازشیں کرنا شروع کیں، اسے رعایا پر ظلم و جبر اور ریاستی دہشت ناک تشدد کا نام دیا۔ اسلامی خلافت کے مقابلہ جمہوریت کا مشروب گھولا اور مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے سحر میں مبتلا کر دیا۔
جمہوریت کا زہر اسلامی خلیفہ کے اختیارات کو تقسیم کرنے گھولا گیاتاکہ ایک فرد واحد کے پاس اتنے اختیارات نہ رہیں بلکہ الگ الگ شعبوں میں بٹ جائیں گویا جمہوریت میں حکومتی اختیارات کو تین الگ الگ شعبوں میں بانٹنے کا تصور دیاپیش کیا گیا۔ انتظامیہ ، عدلیہ، دفاعیہ۔ انتظامیہ، عدلیہ اور دفاعیہ کو جدا جدا کرنے کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ ہر شعبہ دوسرے کا محاسبہ کر سکے گا۔ تینوں میں اتفاق رائے کا فقدان رہے گا اس طرح کوئی بھی مشن بہتر انداز میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ مغرب اس تصور کو مکمل طور پر اپنا چکا ہے اوراختیارات کی علیحدگی کی سوچ آج تمام جمہوری حکومتوں کی بنیاد ہے ۔
خلافت کو ظلم ، جبر اور دہشت کہا گیاجبکہ حقیقت میں جمہوریت رعایا پر ظلم، جبراور دہشت ثابت ہوئی۔خلافت بارے کہا گیا کہ عوام اس کے زیر تسلط رہتے ہیں یہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں اور نہ ہی عوام اس کا محاسبہ کر سکتے ہیں جبکہ عملی طور پر جمہوریت نے یہ سب رنگ دیکھائے کہ جو مسلط ہوا اس نے مدت پوری ہونے تک خوب جبر اور دہشت کا مظاہرہ کیا، خوفِ خدا سے نڈر و بے خوف ہو کر عوام کا خون چوسا، غصب، غضب، بد عنوانی، لوٹ مار کی، اپنے کاروبار چمکائے، جائیدادیں بنائیں،کارخانے اور فیکٹریاں بنا لیں مگر آج تک عوام کسی کرپٹ حکمران کا محاسبہ نہیں کرسکی کہ اس نے اقتدار میں آتے ہی اتنی جائیدادیں اور بزنس کیسے بنا لیے؟ صرف اسلام ہی خلیفہ کو شریعت کی پابندی کے لیے عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے ذریعے ،ظلم پر مبنی حکومت کاتدارک کرتاہے۔خلیفہ کو وسیع تراختیارات سونپ کر اسلام نے عوام کے لیے حکومت کا محاسبہ کرنا آسان بنا دیا ہے کیونکہ ریاست میں کسی قسم کے ظلم وزیادتی کا ذمہ دار خلیفہ ہی ہے ، وہ عوام اور خدا کے سامنے اس کا جوابدہ ہے۔ جس قتل کا کوئی قاتل نہ ملے اسلام اس قتل کا ذمہ دار براہ راست ریاست کو ٹھہراتا ہے کہ اگر ریاست قاتلوں کا سراغ لگانے اور ان سے قصاص لینے میں ناکام ہے تو وہی اس کی قاتل ہے، وہی اس کی ذمہ دار ہے۔اس طرح خلیفہ پر ذمہ داریوں کا بہت بھاری بوجھ اور دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ وہ زیادہ ذمہ داری، محنت اور لگن سے کام کرتاہے۔ وہ اپنے اوپرسیاسی بوجھ اور دباؤکو کم کرنے کے لیے کسی اور پرذمہ داری بھی نہیں ڈال سکتا۔ وہ ریاست اور رعایا کے ساتھ ہر طرح کی اونچ نیچ کا براہ راست ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کے پورا کرنے کا مجاز بھی۔
خلیفہ عوام پر جو سختی کرتا ہے وہ احکام شریعت کے نفاذ کیلئے کرتا ہے، وہ اپنی طرف سے کوئی حکم جاری نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ اللہ و رسول ﷺ کا حکم ہو۔خلیفہ اپنے کوئی اصول نہیں بناتا وہ عوام کو خدا و رسول ﷺ کے اصول و ضوابط کا پابند کرتا ہے۔جبکہ جمہوریت میں خدا سے بے نیاز حکمران اپنے فرسودہ ذہنوں سے قانون و اصول بناتے ہیں پھر اسے طاقت کے زور سے عوام پر مسلط کرتے ہیں۔ فرسودہ ذہنوں کے پیداوار اصول عوام کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں مگر خدا ورسول ﷺ کے واضح کردہ اصولوں میں عوام کی بھلائی ہی بھلائی ہے حکمرانوں کی نہیں۔
کیونکہ خلافت میں عوام کی بھلائی ہے اس لئے تخلیق آدم کا مقصد کرہ ارض پر خلافت الٰہی کا قیام تھا ۔ گویا کہ اللہ رب العزت نے چاہاکہ زمین پر تمام مخلوقات کی بھلائی و بہتری کیلئے اپنا نائب اور خلیفہ بھیج دیں تا کہ وہاں کی زندگی اور دیگر معاملات کو قدرت الٰہی کے دھارے میں شامل کر کے ان کیلئے راحت و آسودگی کا سامان فراہم کرے۔ قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ خلافت اللہ تعالیٰ کے احکامات و ہدایات کی تعمیل ،فرمانبرداری اور اطاعت کو مضبوط اور موثر بنانے کیلئے ایک میکانیزم (Mechanism) کا نام ہے ، اس کا سربراہ جسے عرف عام میں خلیفہ یاامیرالمومنین کا کہا جاتا ہے محض احکام الٰہی کی تعمیل اور تنفیذ کانگران ہوتا ہے وہ سوائے اپنے رب کے احکام و ہدایات اور سیرت طیبہ یا نصوص کی روشنی میں اجتہاد کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی حکم یا قانون نافذ نہیں کر سکتا،اس کے بر عکس جمہوریت ، ملوکیت اور آمریت انتہائی مردود، فرسودہ اور ناقابل اعتبار شیطانی نظام کے داعی ہیں اور یہ امت مسلمہ کی طرزِ زندگی سے کسی صورت بھی مطابقت و موافقت نہیں رکھتے ۔
غلامِ فقر آن گیتی پناہم
کہ در دینش ملوکیت حرام است
حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

خلافت فقر با تاج و سریراست
زہے دولت کہ پایاں نا پذیر است

جوان بختا ! مدہ از دست این فقر
کہ جزا و پادشاہی زد و میر است

یعنی خلافت در حقیقت تاج و تخت کے ساتھ فقیری و درویشی کا نام ہے اورخلافت وہ عجیب دولت ہے جو زوال ناپذیر ہے ۔ اے جوان بخت ! اس فقر در خلافت کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا کیونکہ اس کے بغیر سلطنت اور بادشاہت جلد مر مٹنے والی چیزیں ہیں ۔ پھر فرماتے ہیں ۔

خلافت بر مقام ما گواہی است
ملو کیت ہمہ مکر است و نیرنگ

حرام است آنچہ برما پادشاہی است
خلافت حفظ ناموس الٰہی است

یعنی خلافت ہماری رفعت و شان ، عزت و وقار اور علوم ومقام پر گواہ ہے اور جو چیز ہم پر حرام ہے وہ پادشاہی(ملوکیت ) ہے ، جمہوریت و ملوکیت سب مکر و چالاکی اور فریب ہے جبکہ خلافت ناموس الٰہی کی محافظ اور پاسبان ہے۔
حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ ان خود غرض ملوک و سلاطین سے تنگ آکر اس امید میں تھے کہ ایک فقیر بے کلاہ ، بے گلیم ایک نہ ایک دن ضرور ان خود غرضوں سے مشت و گریباں ہوگا۔ جمہوریت ، ملوکیت اور آمریت سے الجھ جائے گا اور ان کی جعلی خدائی کوزمین بوس کرکے چراغ خلافت کو اپنے خون سے روشن کرے گا ۔
در افتد با ملوکیت کلیمے
گہے با شد کہ بازی ہائے تقدیر

فقیرے بے کلاہ بے گلیمے
بگیر دکار مرمر از نسیمے

اے ملت اسلام کے درخشاں اقبال!
ہم تیری امنگوں کا نشان بن کے رہیں گے
اے لوگو ! اٹھو ، اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم ان خود غرض ملوک و سلاطین سے الجھ جائیں، ان سے تصادم مول لیں ، ان کے غرور و تکبیر کو خاک میں ملا دیں ، قرآن و سنت کو جلوہ گر کریں ، دنیا میں حقیقی عالمی اسلامی فلاحی انقلاب برپا کریں ، دنیا کو امن و سلامتی ،سکون و اطمینان کا گہوارہ بنائیں ،دنیا میں حقیقی عالمی اسلامی فلاحی نظام حیات کی بنیاد رکھیں اور حق کی بالا دستی قائم کریں ۔
تمام مسلمان ، تمام فرقے ، تمام گروہ ، تمام اسلامی ریاستیں اپنے تمام باہمی اختلافات اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے نام پر ، ان کی رضا کی خاطر ، صرف اور صرف اسلام اوراہل اسلام کی عظمت ، سربلندی، عزت ووقار اور سلامتی و بقاء کی خاطر ایک مرکز پر اکٹھے ہو جائیں ، آپس میں باہمی تعاون، اتحاد ، اتفاق،اخوت ،ہمدردی و مساوات کو فروغ دیں کیونکہ آج جتنی ہمیں ان چیزوں کی ضرورت ہے شاید کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Allah Bakhash Fareedi

Read More Articles by Allah Bakhash Fareedi: 77 Articles with 47733 views »
For more articles & info about Writer, Please visit his own website: www.baidari.com
[email protected]
اللہ بخش فریدی بانی و مدیر بیداری ڈاٹ کام ۔ ہ
.. View More
05 Dec, 2018 Views: 583

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ