تمباکو نوشی سے روک تھام

(Komal Khan, )

وطن عزیز میں ہرسال تمباکو نوشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے نوجوان نسل خاص طور پر اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کے استعمال کے نقصانات سے بے خبری یا نظر اندازی ہے حالات کا جبر، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہونے والی فرسٹریشن اور ڈپریشن ہے تبھی ذہنی پریشانیوں سے سکون پانے کے لئے ان عارضی سہاروں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ حکومتوں کی جانب سے سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

غربت کا رونا روتی غریب عوام نے سگریٹ مہنگی ہونے کے باوجود سگریٹ پینا نہیں چھوڑی۔

ان سب کو مدنظر رکھتے ہوئےموجودہ حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس"گناہ ٹیکس"کے علان کے بعد دیکھا جائے گا کہ کتنا فرق پڑتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد کے لیے اس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں اس کا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑا سکتا ہے۔

اس کو استعمال کرنے والے افراد اگر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہی کامیاب ہوسکتے ہیں وگرنہ کوئی کتنی بھی کوشش کرلے نہ کام ہی ہوتے ہیں۔

اس لعنت سے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر سگریٹ کی طلب ہو تو صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کردیں۔صبح سویرے اٹھنے کے بعد اس عمل کو کرنا زیادہ مفید ثابت ہوگا اس کے ساتھ ہلکی پھلکی ورزش بھی کی جاسکتی ہے جس سے مجموعی طور پر اس سے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں عتدل بھی پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو کھانے پینے کے بعد سگریٹ پینے کی عادت ہوتی ہے اگر سگریٹ کی جگہ کھانے کے بعد پودینے کا شربت یا چائے استعمال کی جائے تو اس سے نظام ہاضمہ بھی اچھا ہوگا اور اس سے سگریٹ سے چھٹکارا بھی مل جائے گا۔

یہ آسان طریقے ہیں جن کے بدولت سگریٹ نوشی سے چھٹکارا حاصل ہوسکتاہے۔

اگر ان سے فائدہ حاصل نہیں ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔پاکستان میں بہت سارے ایسے ادارے اور ہسپتال موجود ہیں جہاں ان افراد کی رہنمائی کے لیے قابل ڈاکٹرز موجود ہیں جو کہ ادوایات کے ذریعے اس سے نجات حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

تمباکو نوشی کے استعمال سے صرف سگریٹ پینے والے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے گرد موجود ہر شے متاثر ہوتی ہے ۔مگر سگریٹ پینے والے یہ کب سوچتے ہیں۔

دنیا بھر میں سالانہ 50 لاکھ اور پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی میں مبتلا ہو کر اموات کا شکار ہو رہےہیں۔

اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چند ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔

لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس سلسلے میں کئے سماجی اور فلاحی ادارے کام کررہے ہیں ۔

سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی ضروری ہے تاکہ اس عادت کی سنگینوں کا پردہ فاش ہوسکے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Komal Khan

Read More Articles by Komal Khan: 8 Articles with 4691 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2018 Views: 740

Comments

آپ کی رائے