سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی دیوانگی؛ نسل نو کے لیے تباہی و بربادی کا ذریعہ

(MD Wazir Ahmad Misbahi, )

 کہتے ہیں کہ کوئی بھی شئی بذاتِ خود بری یا اچھی نہیں ہوا کرتی ہے، بلکہ وہ اس کے استعمال کرنے والوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔اگر وہ خیر کے کاموں اور اخوت و بھائی چارگی کے فروغ میں اس کا استعمال کرتے ہیں توکہا جائے گا کہ وہ شئی بہتر اور درست جگہ پر استعمال کی جا رہی ہے۔لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو جائے اور خیر کے کاموں میں نہ لا کر اسے محض برائیوں و فحاشیوں کا اڈہ بنا دی جائے تو پھر یہی چیز عند الناس محبوب ہونے کے بجائے ناپسندیدہ اور قبیح سمجھی جانے لگتی ہے۔

سوشل میڈیا بھی در حقیقت اسی نوعیت کی ایک شئی ہے۔ہمارے سماج و معاشرے میں زندگی گزار رہے سنجیدہ فہم اور ذی علم حضرات بھی اسے اسی وقت اچھا گردانتے ہیں جب اس کا استعمال خیر کے فروغ اور امن و آشتی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہو۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کی حیثیت ہمارے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔آج اس کی اہمیت و افادیت سے سرِ مو انحراف نہیں کیا جا سکتا۔یہ انٹر نیٹ سے جڑا ایک ایسا نیٹورک ہے جو لوگوں کو اظہارِ رائے، تبادلئہ خیال، تصاویر و ویڈیوز اشتراک کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی راہ ہموار کرنے کی کھلی اجازت فراہم کرتا ہے۔اسی طرح علمی و عملی استفادہ کرنے، نئی نئی معلومات کے حصول، تجارت کے فروغ اور فوری جدید و اہم خبروں سے شناسائی حاصل کرنے کا ایک مقبول ترین ذریعہ ہے۔ایسا ہو بھی کیوں نا! جب کہ یہ خود اطلاعات کی آزادانہ ترسیل کا موثر ترین ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے ۔یہ اسی کی مرہونِ منت ہے کہ آج وہ حقائق جو نیوز چینل پہ ہم تک نہیں پہنچ پاتے میڈیا ان کا پردہ فاش کر دیتا ہے۔گھنٹوں کے کام منٹوں و سیکنڈوں میں پایہ تکمیل تک پہچانا اسی کا خاصہ ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ اس کی شہرت و مقبولیت میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس ترقی یافتہ دور میں اس کا استعمال بکثرت ہونے لگا ہے ۔ہر طبقے کے لوگ یہاں پر اپنا اچھا خاصا وقت صرف کرتے ہیں ۔ہاں! اس کی مقبولیت کے لیےاس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس وقت وہ لوگ بھی جن کا قرطاس و قلم اور تسبیح و مصلی اوڑھنا بچھونا ہوتا تھا، اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر نظر آتے ہیں"۔

لیکن متذکرہ بالا تمام اہمیت و افادیت اور شہرت و مقبولیت کے باوجود اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جا سکتی کہ اس کے ذریعہ آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی و سماجی خرابیوں نے بھی کافی فروغ پایا ہے۔آج یہی سوشل میڈیا تفریحی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمائہ وقت کے ضیاع کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔آئے دن ہمارے نونہالانِ قوم مخرب اخلاق اور بے ہودہ حرکتوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔آج ایک انسان سوشل میڈیا پر بیٹھ کر جتنی زیادہ برائیوں کا ارتکاب اور فحاشیوں کا بازار گرم کر سکتا ہے دورِ ماضی میں کبھی اس کے لیے ایک مدتِ مدید بھی ناکافی تصور کیا جاتا تھا ۔آج فیسبک، ٹیوٹر، یوٹیوب، بلاگر اور انسٹا گرام جیسے جدید ذرائع ابلاغ کو مغربی تہذیب نے جس قدر شبہات سے بھر رکھا ہے اور عریانیت کے دلدادہ لوگوں نے بے حیائی، فحاشی اوررقص و سرور کے جو گل کھلا رکھے ہیں اسے دیکھ کر بسا اوقات تو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ معیارِ انسانیت سے بلکل نیچے جا چکے ہیں اور حیوانیت کے اس صف میں داخل ہو چکے ہیں جس کے پاس نہ تو عقل کی کوئی پونجی ہوتی ہے اور نہ ہی خرد کی کوئی کسوٹی۔

یہ سادہ اور عام فہم فلسفہ تو شائد ہر کوئی جانتے ہوں گے کہ کوئی غذا ہماری صحت و تندرستی کے خاطر کتنی ہی زیادہ مفید اور اہمیت کی حامل کیوں نہ ہو، اگر کہیں ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی جائے تو پھر اس کا سائڈ ایفیکٹ ہونا تو لازمی ہی ہے ۔کچھ یہی حال سوشل میڈیائی نظام کا بھی ہے ۔ہر ٹکنا لوجی اپنے آپ میں دو پہلو سمیٹے ہوئے ہیں ۔ایک مثبت تو دوسرا منفی۔آج کی اس رنگا رنگ دنیا میں جہاں اس کے مثبت پہلو نے سماج و معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں زبردست کردار ادا کیا ہے وہی پر اس کے منفی پہلو نے بھی شرفائے زمانہ کی اخلاقی اقدار پر سوالیہ نشان لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔خصوصاً نئی نسل کے ذہن و دماغ پر تو اس کے اثرات کافی نمایاں ہیں۔اکثر اوقات ان کی انگلیاں اسمارٹ فون پر اس طرح رقص کرتی نظر آتی ہیں کہ مانو اسے ناچنے کا بخار چڑھ گیا ہو۔بچے، بوڑھے، نوجوان، مائیں اور بہن بیٹیاں وغیرہ ہر کوئی اس کے دلدادہ و مداح نظر آتے ہیں۔صبح و شام ہر وقت ان کا دھیان سوشل میڈیا پر لگا رہتا ہے۔دن بھر کی لاکھ تھکاوٹ کے باوجود بھی کچھ لوگ تو اس وقت تک آغوشِ نیند میں نہیں چلے جاتے جب تک کہ وہ کچھ دیر کے لیے سوشل میڈیا کے یہاں مہمان بن کر وقت گزاری نہیں کر لیتے۔

یقیناً اب ایسے حالات میں اگر کوئی صاحب اسے بےکار وقت گزاری کا اڈہ گردانے تو کم از کم میرے خیال میں وہ غلط نہ ہوگا۔آج حضرتِ انساں اس کی رنگینیوں میں گم ہو کر وقت جیسی بیش بہا نعمت کو اس طرح برباد کر رہے ہیں کہ جیسے اس کے یہاں وقت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔جب کہ وقت کے حوالے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ "وقت اس تلوار کی مانند ہے کہ اگر تم اسے نہیں کاٹوگے تو وہ تمھیں کاٹ کر آگے نکل جائے گی".ہاں! سوشل میڈیا کے خمار کا عالم اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ آج ایک ماں پر چیٹنگ کا بھت اس طرح سوار ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں و جگر پاروں تک سے مکمل طور پر غافل و بے پرواہ ہو جایا کرتی ہے۔جی! ایسی انہماکیت کا میں خود چشم دید گواہ ہوں ۔

ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے۔میں اپنے دوست و احباب کے ساتھ مادرِ علمی "جامعہ اشرفیہ مبارکپور"آنے کے لیے ٹرین کے ایک جنرل بوگی میں سوار تھا۔رات کے تقریباً تہائی حصے گزر جانے کے بعد جب گاڑی "سمستی پور"اسٹیشن پر رکی تو اتفاقاً اسی بوگی میں ایک ادھیڑ عمر کی خاتون اپنے تین چھوٹے ننھے منھے بچوں اور رختِ سفر کے ساتھ سوار ہوئی ۔لیکن (اللہ کی پناہ) چند ہی لمحے بعد اس نے میڈیائی خمار میں چور ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ جس قدر لاپرواہی و بےرغبتی کا اظہار کیا اس سے ذہن و دماغ بلکل ماؤف ہو کے رہ گیے۔دریچئہ ذہن میں بس ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا دامنِ تاریخ میں بچوں کے تئیں ماؤوں کے جو شفقت بھرے داستان مرقوم ہیں وہ اب اس دورِ جدید میں بس یوں ہی قصئہ پارینہ بن کے رہ جائیں گے؟ وہ خاتون اپنے رختِ سفر اور بچوں کے بیٹھنے کے لیے کوئی مناسب جگہ تلاشے بغیر انٹر نیٹ کی رنگینیوں میں اس طرح گم ہوئی کہ بچے جھپکیاں لیتے لیتے تھک گیے۔لیکن کافی دیر بعد جب اسی ماں کی آنکھ پر غلبئہ نیند وار کرنے لگا تو خود سُرمئہ خواب سجانے کے لیے اپنے بچوں کے نرم و نازک زانوؤں کو بحیثیت تکیہ استعمال کر کے خوابِ خرگوش کا مزہ لینے لگی۔

غرض یہ کہ اقوامِ عالم پر جدھر نگاہ دوڑائے ادھر ہی سوشل میڈیا کے دیوانے نظر آئیں گے۔اور ہاں دیوانہ پن بھی اس قدر کہ نہ وقت پر کھانے، پینے اور سونے کی پرواہ، نہ آنکھ، کان، دل و دماغ اور دیگر اعضائے جسمانی کے آرام و راحت کی کوئی فکر۔پنج وقتہ نماز سے غفلت حتی کہ گاڑی ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہمہ وقت سوشل میڈیا اور موبائل فون کے اسکرین پر اس طرح توجہ لگا رہتا ہے کہ جیسے اس نے نسلِ نو کو وقت سے پہلے جوان اور جوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہو۔

آج ہر فکر کے حاملین سوشل میڈیا کو استعمال کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں۔باطل مذاہب اور گمراہ فرقوں نے تو سوشل میڈیا کے ذریعہ دین کے بازار میں کھوٹے و ردّی سکوں کو خوب خوب عروج بخشا ہے۔فی الوقت معاشرے کے تقریباً اکثر و بیشتر افراد کے ذہن و دماغ میں سوشل میڈیا کا خمار ایک خطرناک بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔شبانہ روز نسلِ نو اس کی دسیسہ کاریوں کے شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔اور پھر اس کے ذریعے کفر و الحاد کے خطرناک جراثیم ہمارے سماج و معاشرے کے کے صاف ستھرے و پاکیزہ ماحول کو پراگندہ کرتے چلے جا رہے ہیں ۔یقیناً اب ایسے حالات و پرآشوب دور میں اس کی خطرناکی پر آنسو بہانا اور اسے گونا گوں برائیوں و فحاشیوں کا سرچشمہ گردان کر دامنِ دل چھڑانے کی لاکھ نصیحتیں کرنا شائد دور اندیشی کی علامت قطعاً نہیں ہو سکتی ۔ذرا کبھی اپنی من کی دنیا سے موقع پا کر باہر نکلیے تو معلوم ہو گا کہ مغربی تہذیب و کلچر نے تمام تر تکنیکی صلاحتیوں سے لیس ہو کر کفر و الحاد کا جو گہرا رنگ تیار کیا ہے آج اس میں آبادی کے اکثر و بیشتر افراد مکمل طور سے رنگ چکے ہیں ۔لیکن اتنا سب ہو چکنے کے باوجود بھی آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خوابِ خرگوش کا مزہ لیتے نہیں تھک رہے ہیں۔ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ مغربی کلچروں اور اس کے خبیث رسم و رواج کا دندان شکن جواب دینے کے بجائے اکثر اوقات تفریح طبع میں گزار دیتے ہیں ۔جانتے ہیں ان ساری تباہ کاریوں کی اصل اور بنیادی وجہ کیا ہے؟ یقیناََ ان سارے مسائل اور الجھنوں کی سب سے قوی اور بنیادی سبب ہمارے ہاتھوں سے اعتدال کا دامن چھوٹنا ہے۔آج ہم سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ جیسے جدید و عظیم ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے اسلام کا صحیح چہرہ پیش کرنے کے بجائے اپنوں ہی پر بغض و حسد اور بے جا تنقید کی تیر برساتے نہیں تھکتے۔آج ہماری نئی نسل اکثر کوئی ایسی بات جو نہیں شئیر کرنی چاہیے، اسے بغیر پڑھے اور تحقیق کیے محض جلدی سے آگے فارورڈ کر دیتے ہیں کہ کہیں کوئی دوسرا ہم پر سبقت نہ لے جائے۔ کچھ صاحب تو صرف ذاتی اور بے مقصد دوسروں کی تصویر ہی شائع کرتے ہیں ۔بعض دفعہ تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ علم و ادب سے تہی دامن حضرات فرضی احادیث حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے پوسٹ کر دیتے ہیں۔انھیں کذب و بہتان اور جھوٹ و افترا کا ذرہ برابر بھی خوف نہیں ہوتا ۔حالانکہ ایک آدمی کے جھوٹا ثابت ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے بیان کر دے ۔چنا نچہ صحیح مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
" كفی بالمرء کذبا اُن یتحدث بکل ما سمع"۔(مقدمہ صحیح مسلم شریف، ص:5)
ترجمہ:ایک آدمی کے جھوٹا ثابت ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔
ہاں مسلم سماج کی کچھ نئی نسل ایسی بھی ہے جو عریاں تصاویر اور فحش مواد پر مشتمل ویڈیوز لائک و اشتراک کرنے میں ذرہ برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتی۔اس کے دل میں تھوڑا بھی خوف و ہراس نہیں ہوتا ۔شائد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسے خلوت میں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔جب کہ رب کریم اپنے بندوں کے تمام افعال کو ہر وقت دیکھ رہا ہوتا ہے۔وہ تو اپنے بندوں کے شہِ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔یقیناََ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ کل بروزِ قیامت ہماری آنکھیں، ہمارے کان، ہماری زبان اور ہمارے دل سب کو رب کے حضور جواب دینا ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :ان السمع و البصر و الفواد کل اولئك كان عن مسؤلاه"۔(الاسراء :36)

اس لیے جب ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے میں (چاہے خلوت ہو یا جلوت) ہر جگہ اللہ رب العزت سے ڈریں۔چونکہ ہمارا شئیر کردہ مواد محض ذاتی اکاونٹ تک محدود ہو کے نہیں رہ جاتا ہے، بلکہ اس کی شیئرنگ کا دائرہ شبانہ روز وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔بےشمار لوگ اسے دیکھتے ہیں اور ہمارے نامئہ اعمال میں انگنت لوگوں کے سنگین گناہوں کا بوجھ بھی درج ہوتا چلا جاتا ہے۔یقینا ایسے پر خطر ماحول میں ہمیں فحش اور گناہ کی موجب چیزیں سوشل میڈیا پر اشتراک کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور حتی الامکان اس کا استعمال صحیح اور محتاط انداز میں کرنا چاہیے۔مشاہدے سے یہ بات بھی واضح ہے کہ آج کل علم غیب اور مستقبل کی خبریں دینے والی کچھ سائٹس منظر عام پر آ رہی ہیں ۔جس میں یہ لکھا رہتا ہے کہ اس لنک پر کلک کر کے آپ اپنی آئندہ کی زندگی، جائے وفات، مستقبل میں آپ کس حکمراں سے ملاقات کریں گے اور کس عمر میں مالدار ہوں گے وغیرہ وغیرہ کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔ہمارے کچھ مسلمان بھائی بہن بھی اس کی حقانیت پر یقین کرتے ہوئے اس لنک پر کلک کر دیتے ہیں۔جب کہ یہ بات من المعلوم ہے کہ شریعت اسلامیہ میں اس طرح کی باتوں اور نجومیوں پر کان دھرنے سے ممانعت وارد ہے۔

آج سوشل میڈیا کی وسیع دنیا میں دوسروں پر بے جا تنقید کرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی بڑی زور و شور کے ساتھ چل پڑا ہے ۔وہ لوگ جو خود تو خود احتسابی کی دولت لازوال سے بلکل محروم ہوتے ہیں لیکن دوسروں پر پند و نصائح کے بادل بن کر برسنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔کبھی کبھی تو معاملہ اتنا طول پکڑ جاتا ہے کہ نوبت گالی گلوچ تک آ جاتی ہے۔ایسے لوگوں سے میری بس ایک یہی درخواست ہے کہ برائے مہربانی "اگر آپ کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے ہیں تو خدارا! حوصلہ شکنی سے بھی تو بعض آ جائیں "۔کہ اس طرح کی لایعنی گفتگو سے اپنے تو دور ہوتے ہی ہیں غیروں کو بھی جگ ہنسائی کا سنہرا موقع فراہم ہو جاتا ہے۔

بہت سے لوگ معاشرے میں تو ایسے بھی ملتے ہیں جو تحریر و قلم کی قوت اور علمی و فکری صلاحیت سے تو بلکل لیس ہوا کرتے ہیں ۔ان کے دلوں میں یہ جذبہ بھی موجزن ہوتا ہے کہ وہ تصنیف و تالیف کے ذریعے دین و ملت کی زلفِ برہم کو بحسن و خوبی سنوار سکیں لیکن مہنگائی کے اس دور میں ان کی ساری صلاحتیں ان کے ساتھ ہی قبر میں چلی جاتی ہیں۔اس لیے ایسے بندوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیائی نظام کا دامن تھامے اور اپنی علمی لیاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اقوام عالم کو صالح خیالات سے مستفیذ فرمائیں ۔اسی طرح وہ حضرات جو متلاشی علم ہیں اور کتاب کی عدمِ فراہمی کی بنا پر علمی تشنگی نہیں بجھا پاتے ہیں ۔ایسے حضرات کے لیے یہ ایک بہت ہی بہترین ذریعہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا کی وساطت سے بڑے بڑے کتب خانوں تک رسائی حاصل کریں اور من پسند کتابوں سے مستفیذ ہوں۔اور ہاں نئی نسل کے ذہن و دماغ سے سوشل میڈیا کے بڑھتے خمار کو کم کرنے کے لیے یہ طریقہ کار شائد نہایت ہی موثر کن ہو سکتا ہے کہ میڈیائی نظام کے مثبت حاملین انھیں اپنے ساتھ لے لیں اور کارِ خیر کا ہرکارہ بنائیں ۔

والدین حضرات کی بھی اب ایسے دور میں کچھ ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں حساسیت کا مظاہرہ کریں ۔موبائل، انٹرنیٹ اور جدید ٹکنالوجی سے کوسوں دور رکھیں کہ یہ ساری چیزیں کم عمر بچوں کے لیے کسی زہر ہلاہل سے کم نہیں ہیں ۔چونکہ بچوں کا کردار اس کے والدین کی تربیتوں کا آئینہ دار ہوا کرتا ہے۔اس لیے گارجین حضرات کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اخلاقی تربیت کا وہ جوہر دیں جو ان کی زندگی کو سنوارنے اور شخصیت کو نکھارنے میں سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہو۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کو ایک نعمتِ غیر مترقبہ سمجھنا چاہئے اور جہاں اسے اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی الله عليه وسلم کی رضا جوئی، منہجِ حق کی دعوت میں، درست عقیدہ کی نشر و اشاعت، غلط مفاہیم کی تصحیح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے خوبصورت فریضہ کی تکمیل کے لیے کرنا چاہیے وہیں کتاب و سنت کے فروغ دینے، صلہ رحمی، علمی مسائل، سنجیدہ بحث و مباحثہ، نیکی و پرہیزگاری کے کاموں اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون میں بھی استعمال کرنا چاہیے ۔تو آئیے آج ہی ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے خیر کا ہرکارہ بنیں گے، بھلائی کو فروغ دیں گے اور برائی پر ہر ممکن روک لگانے کی کوشش کریں گے ۔(انشاءاللہ)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MD Wazir Ahmad Misbahi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2018 Views: 740

Comments

آپ کی رائے