ایک چراغ بجھ گیا۰۰۰

(Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
عمدۃ المحدثین حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

عمدۃ المحدثین ، اشرف العلماء ، محدث ِ ملت حضرت مولانا محمد خواجہ شریف ؒ14؍ ڈسمبر بروز جمعہ اپنے خالق و مالک رب کائنات سے جاملے ۔ آپ کا انتقال ملت اسلامیہ خصوصاً طالبانِ علمِ دین کیلئے نقصانِ عظیم ہے۔ مولانا کی طبیعت کئی ہفتوں سے سخت ناساز تھی ۔ سخت علالت میں آپؒ گذشتہ ماہ عمرہ کی سعات سے سرفراز ہوئے اور پیارے حبیب رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ و سلم کے دربار اقدس میں بھی حاضر ہونے کا شرف حاصل فرمایا۔ آپ کا علمی فیض تشنگانِ علوم اسلامیہ کے لئے تاقیامِ قیامت انشاء اﷲ العزیز جاری و ساری رہیگا۔ آپ میں انتہائی سادگی ،منکسرِالمزاج ، ادب و اخلاق کے پیکر، ولی کامل، طلبہ سے حسنِ سلوک اورنرم گفتگو فرمانے والے ، نہایت مشفق استاذ کی حیثیت سے ممتاز معروف رہے ہیں۔ اپنی زندگی کے آخری ایام و لمحات تک بھی خالق و مالک کی حمد و ثناء کرتے رہے اور پیارے حبیب ﷺ پر درود و سلام کے نذرانہ پیش کرتے رہے۔آپ کے انتقال سے قبل اکابرین علمائے کرام ، مدارس اسلامیہ اور مساجد میں آپ کی صحت یابی اور درازی عمر کیلئے دعائیں کرتے رہیں۔اﷲ تعالیٰ عمدۃ المحدثین علیہ الرحمہ کی مغفرت فرمائے ، آپ کے درجات عالیہ میں بے انتہاء بلندی و وسعت عطافرمائے اور عزیز و اقارب ، علماء و شاگردوں اور آپ کے چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

حضرت مولانا محمد خواجہ شریف صاحب رحمۃ اﷲ علیہ ،حضرت مولانا محمد شہاب الدین علیہ الرحمہ کے فرزند ہیں ۔ آپ 15؍ شوال المکرم 1359ہجری م 4؍ جنوری 1940ء کو قصبہ اکرہار پوٹلا پلی ، ضلع شادنگر ، تلنگانہ اسٹیٹ میں پیدا ہوئے اور 14؍ ڈسمبر کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کا سلسلہ نسب والدماجد کی طرف سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے جا ملتا ہے۔ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت سیدنا حسین ابن علی ؓ یعنی ہاشمی سید گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے نام کے ساتھ شریف اس لئے رکھا گیا کیونکہ دکن ی روایت تھی کہ اگروالدہ کا سلسلہ نسب ہاشمی سید اور والد شیخ گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں تو شریف کا لفظ احترام کے طور پر رکھا جاتا ۔مولانا محمد خواجہ شریف پولیس ایکشن کی وجہ سے اپنے والد حضرت محمد شہاب الدین ؒ کے ساتھ آٹھ سال کی عمرمیں حیدرآباد منتقل ہوگئے تھے۔ حیدرآباد کے محلہ گوشہ محل میں پرائمری سکشن میں داخلہ لیا۔ دس سال کی عمرمیں یعنی 1950ء میں آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد شریف صاحب نے آپ کا داخلہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی جماعت چہارم میں کروایا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں آپ اساتذہ کے نورِ نظر رہے اور جامعہ میں ممتاز طالب علم کی حیثیت پائی۔ آپ ہر جماعت میں درجہ اول سے کامیابی حاصل کرتے رہے۔ جامعہ نظامیہ میں آپ جماعت چہارم سے فاضل ، کامل تک تعلیم حاصل کئے۔ 1963ء میں رشتہ ازدواج سے بندھ گئے یعنی آپ کی شادی چچا زاد بہن سے ہوئی۔ 1966ء میں آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمیدؒ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کے حکم پر درس و تدریس کے لئے درخواست دی اور آپ کااستاذ کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ آپ جامعہ نظامیہ میں مختلف عہدوں بشمول مؤدب ، مہتمم کتب خانہ، نائب شیخ الادب، نائب شیخ الحدیث ، پھر 13؍ فبروری 1993ء میں شیخ الحدیث کے باوقار عہدہ پر فائز ہوئے اور الحمد ﷲ آپ اس عہدہ پر آج بھی فائز رہ کر امت محمدیہ ﷺ کے فرزندوں اور دختران کو زیورِ احادیث سے فیضیاب کررہے ہیں۔ درمیان میں یعنی 1971ء میں آپ نے جامعہ امنیہ ، دہلی میں حدیث نبوی ﷺ میں مکمل مہارت حاصل کرنے کی غرض سے داخلہ لیا ، صحاح ستہ و دیگر کتب احادیث کا درس حاصل کرکے سند حاصل کی اور واپس آکر آپ دوبارہ جامعہ نظامیہ میں طلباءِ جامعہ کو علم دین کی دولت سے بہرور فرماتے رہے۔ اس طرح آپ کا درس و تدریس کا سلسلہ الحمد ﷲ رحلت سے قبل تک جاری رہا ۔

عمدۃ المحدثین مولانا محمد خواجہ شریف صاحب تقریباً تین دہائیوں سے مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ کے معتمد رہے اور آپ کی نگرانی میں کئی کتب کی طباعت عمل میں آئی۔ مختلف علوم و فنون بالخصوص علم حدیث شریف کی خدمت میں آپ نے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ جامعہ نظامیہ کی طویل تاریخ کا ایک زرین باب ہے۔ آپ کو علم حدیث شریف کے علاوہ عربی ادب نثر و نظم پر یکساں عبور و دسترس حاصل تھا۔ کئی کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ ’’امام اعظم امام المحدثین‘‘ یہ کتاب حضرت مولانا محمد خواجہ شریف مدظلہ العالی کے رشحات قلم پر مشتمل اپنی نوعیت کی اہم ترین تصنیف ہے۔ اس کتاب میں غیر مقلد حضرات کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دیا گیا ہے اور امام اعظم حضرت سیدنا نعمان بن ثابت ابو حنیفہ ؒ کا امام المحدثین ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ جامعہ میں تقرر سے قبل آپ دارالعلوم موستمر العلماء مغل گدہ میں بحیثیت مہتمم خدمات انجام دے رہے تھے ۔ آپ نے حضرت مفتی محمد عبدالحمید ؒ کے کہنے پر اس عہدہ کوخیرباد کرکے جامعہ نظامیہ میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دی۔ یہاں ایک بات کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اﷲ کے نیک بندے جو دنیاکی طلب سے دور اپنے خالق و مالک اور پیارے حبیب ﷺکو راضی کرنے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں آپ نے بھی شیخ الجامعہ کے حکم پر عمل کرکے اس کا ثبوت دیا تھا ۔ حضرت مولانا خواجہ شریف نے مہتمم کے عہدہ کو خیرباد کہہ دیا جہاں پر آپ کی ماہانہ تنخواہ اس وقت کے 150روپیے تھی جبکہ جامعہ نظامیہ میں آپ کی تنخواہ صرف75/-روپیے تھی۔آپ اپنے استاد گرامی رئیس المفسرین حضرت العلامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی القادریؒ صدر الشیوخ جامعہ نظامیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں صاحب اجازت تھے، بے شمار افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ہیں۔ علوم شریعت و طریقت کے ذریعہ عوام الناس اور خواص کو فائدہ پہنچا تے رہے اور یہ فیض تاقیام قیامت جاری رہے گا۔ علم حدیث شریف سے خاص والہانہ شغف رکھتے تھے۔ جامعہ نظامیہ میں عرصۂ دراز سے امہات الکتب بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی شریف ،مؤطا و دیگر کتب کا درس انتہائی فصاحت و بلاغت اور عمدہ اسلوب میں دیتے رہے۔’’درس ختم بخاری شریف‘‘ آپکی پہچان بن گیا تھا۔ آپ کے دروس کا انداز مختصر ، جامع و دل نشین ، اخلاقی مسائل میں نہایت معتدل و محقق و غیر جارحانہ تشفی بخش و دل پذیر ہوتا تھا۔ انداز کلام کی حلاوت و شیرینی دلوں کو موہ لیتی تھی، عام جلسوں میں بھی آپ کا انداز بیان اسی طرح کاہوتا تھا۔ آپ مختلف مساجد میں حدیث و فقہ کے دروس کے ذریعہ بھی عامۃ المسلمین کو وعظ و نصیحت فرماتے ہوئے رب العالمین جل جلالہ و رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ و سلم کی خوشنودی حاصل کرتے رہے۔ مسجد سنگ پتلی باؤلی، جامع مسجد قادریہ فرسٹ لانسر، مسجد جعفری صنعت نگراور مسجد چیونٹی شاہ میں آپ کے دروس حدیث و فقہ چالیس سال کے طویل عرصہ تک جاری رہے۔ مسجد چیونٹی شاہ میں ہنوز یہ سلسلہ جاری تھا جبکہ مسجد جعفری صنعت نگر اور مسجد چمکورہ میں شب معراج، شب برأت اور شب قدرمیں بھی آپ خطاب فرماتے ۔ عالم اسلام میں عرب حضرات و علماء آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ۔ عرب ممالک میں آپ کی آمد پر عرب حضرات ملاقات کا شرف حاصل کرنے بے چین رہتے تھے۔حضرت شیخ الحدیث نے مدارس کے احیاء و قیام کے سلسلہ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دارالعلوم دینیہ بارگاہ بندہ نواز علیہ الرحمہ کا احیاء آپ کا کارنامہ ہے کہ آپ نے شہر گلبرگہ میں چھ ماہ قیام فرماکر اس قدیم اور تاریخی ادارہ کا احیاء عمل میں لایا جس کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ دارالعلوم مؤتمر العلماء اننت پور کے آپ بانی ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام حافظ محمد انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کے وطن قندھار میں مدرسہ قائم کیا اور اس کے علاوہ نندیال، کرنول اور مختلف مقامات پر مکاتب اسلامیہ کا قیام عمل میں لایا ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں طالبات کے لئے دو مدارس’’ معہد البنات نفیس النساء‘‘ چمکورہ خلوت اور معہد البنات رفیق النساء آدتیہ نگر ٹولی چوکی میں قائم فرمایا۔

عمدۃ المحدثین حضرت محمد خواجہ شریف نے المعہد الدینی العربی کا قیام 5؍ ربیع الاول 1405ہجری م1984ء عمل میں لایا اس طرح آپ المعہد الدینی العربی کے بانی و سرپرست اعلیٰ ہیں۔ یہاں پر شعبہ ناظرہ ، شعبہ حفظ اور شعبہ عربی قائم ہے اس کے علاوہ کلیۃ الدراسات اللغۃ والاسلامیہ (کالج آف اسٹڈیز لنگویجس اینڈ اسلامک) تک تعلیم دی جاتی ہے جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مسلمہ ہے یعنی اس میں بی اے کی تعلیم دی جاتی ہے جو فاضل کے مماثل ہے۔المعہد الدینی العربی حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اپنی علمی شناخت رکھتا ہے اور اس کا شمار ریاست کے ممتاز اداروں میں ہوتاہے۔ جس میں جامعہ نظامیہ کے فارغین تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اندرون و بیرون طلبہ کی تعداد 500سے متجاوز ہے۔ الغرض حضرت عمدۃ المحدثین مولانا خواجہ شریف جنہیں حکومت تلنگانہ نے یوم قیام تلنگانہ کے موقع پر 2017میں مذہبِ اسلام کیلئے مختلف اداروں کے ذریعہ آپ کی بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ عطا کیاتھا۔مولانا محمد خواجہ شریف صاحب کی زندگی علماء الاسلام اور مسلمانان عالم کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ آپ اپنے شاگردوں اور مدارس کے اساتذہ کو نصیحت فرماتے رہے کہ طلباء کو بغیر سختی کئے درس دیں جو آپ کا وصف تھا۔پسماندگان میں اہلیہ محترمہ ،ایک فرزند مولانا حافظ محمدولی اﷲ شریف ادریس اور چھ صاحبزادیاں ہیں۔مولانا خواجہ شریف ؒ نے مختلف ممالک کے تعلیمی دورے کئے جن میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کویت، دبئی، قطر اور جرمن شامل ہے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 193 Print Article Print
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 198 Articles with 61563 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: