امت مسلمہ کے مسائل اوران کا حل سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں - حصہ اول

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

بلاشبہ خیرالقرون کے بعدہم سے عروج ،عزت ،عظمت ،شرافت ،وقار، توقیراوربلنداقبالی کوروٹھے ایک عرصہ بیت چکاہے،اب تومسلم دنیا پر خزاں کے سائے چھائے ہوئے ہیں ،اورمصائب وآلام ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی مانندہم پر برس رہے ہیں،پوری دنیا میں حقوق کی پامالی ،دہشت و وحشت ،بھوک و افلاس ،عدم استحکام ،فحاشی و عریانی اور مذہب بیزاری کے مراکز" اسلامی ممالک "ہی نظر آتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آج آہ وبکا ہے تو نہتے مسلمان کی ۔۔۔۔کسی خطے میں بے گور وکفن لاشے ہیں تو بھی انہی مسلمانوں کے۔۔۔۔۔دنیا کے کسی کونے سے کسی کی عزت کی پامالی کی خبر آتی ہے تو خبر بننے والی مسلمان ہی کی بیٹی ہوتی ہے۔۔۔۔۔جب کہ دوسری جانب خون مسلم انتہائی ارزاں ہے۔۔۔۔۔ کہیں یہ فرقہ واریت کے نام پربہا جاتا ہے ۔۔۔۔توکہیں گروہ وجماعت کے نام پر ۔۔کہیں علاقہ،قوم اور زبان کے نام پراپنے ہی بھائیوں کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں تو کہیں جلاؤ اور گھیراؤ کے نام پر اپنے ہی وطن کا نقصان کیا جاتا ہے۔۔۔۔خریطہ عالَم پر کہیں عراق کا المیہ ہے تو کہیں آگ و آہن میں دہتی سرزمین شام ہے۔۔۔۔اس میں دو رائے نہیں کہ افغانستان پر بارود اور ایٹم کی برسات نہ کسی سے ڈھکی چھپی ہے اورنہ ہی بھارت کی کشمیر جنت نظیر میں گزشتہ ستر سالوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نہتے کشمیری مسلمانوں پرانسانیت سوز مظالم کسی سے پوشیدہ ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہOICجیسے مسلم نمائندگی والے ادارے کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہمارے مسائل میں اضافہ چلا جا رہاہے، مسلم حکمران مداہنت کا شکار ہونے کی وجہ سے بیت المقدس ،کشمیر ،برما ،افغانستان ،عراق وشام سمیت امت مسلمہ کے کسی ایک مسئلہ پر بھی دوٹوک موقف اختیار کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔''سب سے پہلے اپنا ملک ''کا ماٹورکھنے کی وجہ سے آج اسلامی ممالک ہی غیروں کی سازشوں اور تسلط کا شکار ہیں جب کہ دوسری جانب فلسطین کاالمیہ عرب دنیا سمیت تمام مسلم ممالک کی بے بسی اور(الکفر ملۃ واحدۃ )"دنیا کا سارا کفر ایک ملت بنا ہو اہے "کی عملی تصویر ہے،کشمیری مظلوموں کے تڑپتے لاشے "دنیا کے منصفوں "کی جانبداری کی چغلی کھا رہے ہیں،برما کے بے گھر روہنگیا اپنی شناخت اور بقا کی جنگ لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ،افغان کی سرزمین سے امن کی فاختہ کو اڑے ایک زمانہ بیت چکا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ یہ ساری محرومیاں اور آہوں سے بھری داستان مسلمانوں کی ہی ہیں ۔

اگر ٹیکنالوجی اور سائنس کے میدان کا جائزہ لیں تو موجودہ دور میں مغربی دانش گاہیں فعال اورقائدانہ کردار ادا کررہی ہیں،مسلم دنیا اپنے دیگر حالات کی طرح اس شعبہ میں بھی زوال پذیر ہیں،اس میں دو رائے نہیں کہ مغربی اقوام ایک زمانے تک مسلم یونیورسٹیوں اور جامعات میں علم حاصل کرنے کے لیے آنے کو شرف عظیم سمجھتی تھیں۔اسی طرح معاشی اعتبار سے بیشتر اسلامی ممالک عالمی مالیاتی ادارے (IMF)کے زیردست اور مقروض ہونے کی وجہ سے ان کی شرائط کے مطابق اپنے نظام ِحکومت اور پالیسیوں کومرتب اور نافذ کرنے پر مجبورنظر آتے ہیں،تجارتی لین دین کے لیے امریکی ڈالر کو استعمال کرنا مسلم ملک سمیت ہر غریب ملک کی مجبوری ہے جب کہ اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ تیل،گیس اور دیگر معدنی ذخائر کا بہت بڑا حصہ مسلمان ممالک کے پاس ہے۔الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا سمیت ذرائع ابلاغ کی تمام اصناف پر یہود ونصریٰ کے تسلط نے مسلم قوم کی ذہنی غلامی کو منظم انداز میں دوام بخشاہے ،امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے مسابقے کے اس دور میں میڈیا فیصلہ کن کردار ادا کررہا ہے ،اورکفر اپنے تمام تر انتظامات اور اسباب کے ساتھ ہماری فکروں اور نظریات پر حملہ آور ہے ،زوال کے اس زمانے میں وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ مغربی تہذیب کا دلدادہ ہوچکا ہے ،وہ اپنے لباس،پوشاک،اندازاورگفتگو میں مغربیت سے مرغوب نظر آتے ہوئے اسلامی تہذیب و ثقافت پر عمل کرنے کو دقیانوسی اور قدامت پسندی سے تعبیر کرتا ہے۔

مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور اندرونی مسئلہ فرقہ واریت کا ہے ،فرقہ وارانہ تقسیم کی وجہ سے امت مسلمہ شیعہ اور سنی دو بڑے بلاگز میں تقسیم ہو چکی ہے جب کہ لاکھوں قیمتی جانیں یہ عفریت نگل چکاہے ،پاکستان سمیت اکثر مسلم ممالک پرتشدد فرقہ وارنہ فسادات کی وجہ سے عدم استحکام کا شکاررہے ہیں جب کہ شام ،عراق اوریمن اس آگ کا موجودہ ایندھن ہیں ۔ الغرض مسلم دنیا انفرادی و اجتماعی طورپر مسائل اور مشکلات کے گرداب میں پھنستی اور دہستی چلی جارہی ہے،اس میں کلام نہیں کہ بظاہرکہیں کوئی کنارہ،ساحل اور مسائل سے چھٹکارہ حاصل کرنے اوران مسائل کے حل کا سامان ہوتا سلجھائی نہیں دیتا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141385 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
18 Dec, 2018 Views: 564

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ