خوبصورت محل

(Rehmat Ullah Shaikh, Gumbat)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک شیرنی اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ رہتی تھی۔وہ اپنے بچے کو پیار سے راجْو کہتی تھی۔ صبح سویرے سورج نکلتے ہی شیرنی شکار کے لیے نکل جاتی تھی اور شکار کرنے کے بعد جلدی واپس آجاتی تھی۔ راجو اپنی ماں کی نصیحت کے مطابق اس کے آنے تک گھر کے آس پاس کھیلتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ شیرنی شکار کے لیے نکلی ہوئی تھی اور راجو گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ اچانک کہیں دور سے ایک آواز راجو کے کانوں سے ٹکرائی۔ چونکہ راجو کے جسم میں ایک شیر کا خون تھا لہٰذا اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سیدھا آواز کے تعاقب میں چل پڑا۔ کافی دیر چلنے کے بعد اسے ایک جگہ لکڑیوں سے بنا ایک خوبصورت محل نظر آیا۔ جس کے اطراف میں تازہ تازہ گوشت لٹک رہا تھا۔ راجو نے آس پاس کا جائزہ لیا کہ کہیں کوئی دشمن یا شکاری تو موجود نہیں۔ لیکن اسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔ اس کے ذہن میں خیال آیا کہ آج وہ یہاں سے گوشت کے ٹکڑے لے کر اپنی ماں کے سامنے پیش کرے گا اور اس سے داد وصول کرنے کے ساتھ ساتھ تازہ گوشت سے بھی لطف اٹھائے گا۔ وہ قدم بڑھا ہی رہا تھا کہ اسے اپنی ماں کی نصیحت یاد آگئی۔ لیکن چند گوشت کے ٹکڑوں کے عوض اس نے اپنی ماں کی نصیحت بھلادی۔ اس نے زمین پر اپنا پنجا رگڑا اور گوشت کے ٹکڑے حاصل کرنے کے لیے دوڑ لگائی۔ مگر یہ کیا…… محل کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی ایک مضبوط جال اس کے اوپر گرا اور چند ہی سیکنڈز میں راجو اس کی گرفت میں آگیا۔ راجو نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ اس مضبوط جال سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا۔ اس وقت اسے اپنی ماں کی نصیحت شدت سے یاد آرہی تھی اور وہ اپنی اس حرکت پرپچھتا رہا تھا۔ شیرنی جیسے ہی گھر پہنچی تواس کی طرف سے مقرر کیا ہوا خفیہ چوکیدارچوہا ماموں اس کا منتظر تھا۔ چوہے نے ایک ہی سانس میں اس کو ساری کہانی بتا ڈالی۔ شیرنی نے ہمت سے کام لیا اور ایک ترکیب بنا کر چوہے کو ساتھ لے کر اس جگہ پہنچی۔ شیرنی نے پہنچتے ہی دھاڑنا اور گرجنا شروع کیا۔ شکاری اچانک حملہ دیکھتے ہی بدحواس ہوگئے اور شیرنی پر اندھا دھن فائر کرنے لگے۔مگر شیرنی بڑی ہوشیار تھی۔جیسی ہی ان کی بندوق رکتی وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر ان پر حملہ کرتی اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی۔ادھر چوہے نے موقعہ پاتے ہی اپنے تیز دھار دانتوں سے جال کو کاٹنا شروع کیا اور بہت ہی جلد راجو کو وہاں سے نکال کر لے گیا۔ شکاری جب واپس آئے تو حیران ہوکر رہ گئے۔کیونکہ جال بھی بلکل خالی تھا اور ساتھ میں راجو گوشت کے ٹکڑے بھی لے جا چکا تھا۔ راجو نے گھر پہنچ کر اپنی ماں سے معافی مانگی اور آئندہ ہمیشہ کے لیے اپنی ماں کی نافرمانی سے توبہ کرلی۔جی بچو! آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے بڑوں کا کہا ماننا چاہیے اور ان کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehmat Ullah Shaikh

Read More Articles by Rehmat Ullah Shaikh: 30 Articles with 18906 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2018 Views: 880

Comments

آپ کی رائے