میرے صنم

(Hukhan, karachi)

خود کو توڑ لیتا ہوں
پھر سے ٹوٹنے کیلئے
خود کو جوڑ لیتا ہوں
اکثر راہ تیری چھوڑ دیتا ہوں
پھر جینے کے لیے
تیری اور خود کو موڑ لیتا ہوں
سفر ہے عجیب سا مگر
چلنا تو ہے ہوں جو مسافر
چلا ہی چلا جاتا ہوں

یار بہت افسردہ سی ہے،،کچھ ایسا لکھو جس سے زندگی کا احساس اور ہر پل میں خوشبو
سی نظر آئے،،،سمیر نے احمد کی بات سن کر چہرے پر اک بے روح سی مسکراہٹ سجا
لی،،،دھیمے سے قریب المرگ لہجے میں بولا،،،
کیا میں تمہیں زندہ لگتا ہوں؟؟؟کوئی اور ڈھونڈ لو میرے لفظ مسکرانا بھول چکے ہیں،،،!!

تم شاید بھول رہے ہو،،،مرحومین واپس نہیں آیا کرتے،،،بہتر ہے تم کوئی اور ڈھونڈ لو،،،
جس کے لفظ کسی صاف و شفاف چشمے کے پانی کی طرح چمکتے ہوں،،،گنگناتے ہوں
زندگی دیتے ہوں،،،مخلوق کے کام آتے ہوں،،،!!

احمد ہار ماننے کے انداز میں بولا،،،اچھا چائے تو پلادو،،،ہر وقت بس کڑوی کافی جیسی
باتیں ہی کرتے رہنا،،،میں بس اڈ یٹر ہی نہیں تیرا دوست بھی ہوں،،،!

وہ مسکرا کر بولا،،،دیکھ لو سب ہوگا بنا لو،،،احمد کچن میں گھس گیا،،،یار چینی کتنی؟؟؟
وہ لاپرواہی سے بولا،،،جتنی بھی ہو کم ہے،،،یار سب ڈال دوں کیا پتا تو میٹھا میٹھا سا ہی
لکھنے لگے،،،وہ کچھ نہیں بولا۔

احمد نے چائے کا کپ نیچے رکھا،،،یار اک بات بتا،،،یوں سمجھ لےکہ ہم2001 میں ہیں،،،
اور میں کہوں کچھ ایسا لکھ دو،،،جس میں بارش ہو،،،بادل ہوں،،،کھنک ہوگرج ہو،،،کوئی
مسکان ہو،،،جس میں بناوٹ نہ ہو تو پھر کیا لکھو گے،،،؟

اس نے احمد پر اک خاموش سی بے معنی سی نظر دوڑائی،،،گردن جھکاکر دل کی جانب،،
دیکھا،،،کانپتے ہونٹوں سے بولا،،،“میرے صنم“

وہ اٹھ کر کمرے میں چلا گیا،،،احمد نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی،،،وہ دکھ سے لرز،،
گیا،،،یار تو بھول کیوں نہیں جاتا،،،ہر کوئی صنم نہیں ہوتا،،،کچھ لوگ صنم کا کردار اداکر
رہے ہوتے ہیں،،،کچھ انہیں عمر بھر اپنے دل میں دفن کیے رکھتے ہیں،،،،،!!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 564 Print Article Print
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1042 Articles with 553742 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

wow bhut khubh bhai magar afsurda sa hy
By: rahi, karachi on Jan, 03 2019
Reply Reply
0 Like
thx yes its sad
By: hukhan, karachi on Jan, 04 2019
0 Like
Language: