نئے سال میں حکومت کیلئے چیلنجز

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

گزشتہ سال میں بہت سے واقعات رونما ہوئے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو عام انتخابات میں شکست کی وجہ سے پہلی بار حکومت میں آنے والی تحریک انصاف کو جہاں پر ان جماعتوں کی سیاسی مقابلے کا سامنا ہے وہاں پر ملک کو درپیش چیلنجز جن میں اب سر فہرست معاشی صورت حال سمیت عام آدمی کو ریلیف دیناہے ۔ اب وہ باتیں اور حقائق تاریخ کا حصہ بن جائے گی کہ سابق حکومتوں نے ملک کو کتنا مقروض بنایا ، اداروں کو کس طرح تباہ کیا گیا ، میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقرباپروری کو فروغ دیا ۔ کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مشکل سے دوچار ہوئی ۔ ہرسال دس ارب روپے کی منی لانڈرنگ جو آج بھی جاری ہے ‘کی روک تھام پر توجہ نہ دی گئی ۔

اداروں کو سیاسی اثرو رسوخ خاص کر ،نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور پولیس کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داریوں کا آغاز ہے کہ انہوں نے ملک کو فلاح ریاست کیسے بنانا ہے جس میں انصاف کا نظام قائم ہو۔اب تک جوچار مہینوں میں حکومت نے کام کیا یا سابق حکومت کی غلطیوں کو بیان کرتے رہیں وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا کہ ان کو تاہیوں میں ان کا کوئی قصور نہیں جس کی وجہ سے ملک مشکلات میں رہا لیکن اب وہ حکومتیں اپنے کیے کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ کرپشن ،اقرباپروری کا جواب انہوں نے دینا ہے ۔ احتساب کا جو عمل شروع ہوا ہے ۔اداروں سمیت موجودہ حکومت کا بھی سب سے بڑا کریڈٹ ہے کہ ان کا نعرہ اور وعدہ ہی کرپشن اور لوٹ مار کا پیسہ واپس لانا اور ملوث عناصر کو سخت سزا دینا ہے تاکہ آئندہ کو ئی کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث نہ ہو ۔

یہ بات درست ہے کہ ماضی میں حکومتوں نے نیب سمیت ایف آئی اے وغیرہ کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیاجس کی وجہ سے جھوٹے ایف آئی آر اور کیسز بنائے جاتے لیکن نئے پاکستان میں ان سب کا سدباب ہونا چاہیے اور وہ سدباب اس طرح ممکن ہوگا جب اداروں کو خود مختار ی دینے سمیت قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور بلاوجہ کسی کے خلاف کیسز بنانے پر متعلق اداروں کو جوابدے بنانے کیساتھ ساتھ اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا بھی دینی چاہیے یعنی ماضی میں جس طرح ہوتا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ احتساب کے نام پر ایک دوسرے کو تنگ کرنے کیلئے اداروں کا استعمال کرتے تھے اب یہ سلسلے اگر بند نہ ہواہے توبند ہونا چاہیے جن جن لوگوں نے کرپشن کی ہے ان کو سزا ضرور دینا چاہیے لیکن قانون کے مطابق عمل کرنے سے کوئی اعتراض نہیں کرسکتا لیکن یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ وائٹ کلر کرائم کو ثابت کرنا اور ملوث افراد سے پیسے واپس لینا انتہائی مشکل کام ہے جس میں بعض اوقات قانون سے ہٹ کر بھی کام کرنا پڑ تا ہے ۔

کرپٹ مافیا یا کرپشن میں ملوث سیاست دان یا افراد ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے الزامات لگاتے ہیں کہ ہمیں ہی ٹارگٹ کیوں کیا گیا باقیوں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا۔ ان باتوں سے ہٹ کر احتساب کے عمل کو جاری رکھنا چاہیے۔ بے جاہ کیسز کسی پارٹی ، سیاستدان یا فرد کے خلاف ہو تو وہ قابل قبول ہر گز نہیں ہونا چاہیے حکومت کو یہ سلسلے میں قانون سازی کرنی کی ضرورت ہے تاکہ بے جا الزامات کا سلسلہ بھی بند ہو اور بے جاکسی مخالف کو تنگ بھی نہ کیا جائے۔

تحر یک انصاف حکومت کے ساتھ عوام نے بھی وہ فصل کا ٹ لی جوسابق حکومتوں نے بوئی تھی لیکن اب وہ وقت شروع ہوا ہے جس میں موجودہ حکومت نے فصل بوئی ہے اس کا اندازہ اس نئے سال 019 2 میں ہوگا کہ حکومت نے عوام کو کیا ریلیف دیا عام آدمی کی زندگی کتنی بہتر ہوئی ۔ نئے سال کے موقعے پر وزیراعظم عمران خان نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نئے سال میں ہم نے غربت، جہالت، ناانصافی اور بدعنوانی کے ان چار برائیوں کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اسلئے ہمیشہ پسند کیا گیا ہے کہ عمران خان غریبوں کی بات کرتا ہے ان کو معلوم ہے کہ عام آدمی کی کیا مشکلات ہے ۔ انہوں نے نئے سال میں ان چار بنیادی برائیوں کے خلاف کام کیا اور اس میں سو نہیں بلکہ تیس فیصد بھی کامیاب ہوئے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی کامیا بی تصور ہوگی ۔ ہمارے ماضی کے حکمران جلسوں میں بات کرکے بھول جاتے تھے بلکہ ان کے تر جیحات میں یہ شامل ہی نہیں تھا کیوں کہ وہ خود وجہ تھے ان مسائل کے جن کا ذکر وزیراعظم عمران خان نے نئے سال کیلئے کیا کہ ہم ان ایشوز کے خلاف جہاد کریں گے جواب ملک کو درپیش چیلنجز غربت، جہالت ، ناانصافی اور کرپشن کی وجہ سے ہیں۔

دعاہے کہ جس طرح وزیراعظم عمران خان کی سوچ اور فکر ہے کہ ملک کو ان چار مسائل سے چھٹکارہ دلانا ہے جس کیلئے وہ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ٹیم کو بھی یہ احساس ہوجائے کہ اب حکمرانی نہیں بلکہ عام آدمی کے مسائل حل کرنے ہیں تو ملک میں نا صرف عام لوگوں کی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ملک کی معاشی اور اقتصادی صورت حال بھی بہتر ہوجائے گی جن معاشروں میں عد ل و انصاف کا نظام رائج ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ ان پر خصوصی فضل وکرم کرتا ہے ۔ یہ اسلامی تعلیمات بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کی زندگی بہتر کرتا ہے جو لوگ خود اپنی حالت بہتر بنانا چاہتے ہو۔ جہاں حکومت کی ذمہ داریاں ہے وہاں ہمارے عام لوگوں کی بھی کچھ ذمہ داریا ں ہے کہ ہم بھی ملک کو بہتر بنانے کیلئے ناانصافی ، ظلم و زیادتی سمیت کرپشن سے پاک زندگی کو ترجیح دے تاکہ ہماری زندگی میں سکون آجائے اور حقدار کو ان کا حق مل جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 129722 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
03 Jan, 2019 Views: 448

Comments

آپ کی رائے