وہ ایک رات

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

کسی نے کہہ دیا تھا کسی سعد لمحے میں جو قبول ہو چکا تھا قبولیت کی گھڑی میں اور اس کی زبان سے نکلے الفاظ موتیوں کی لڑی بن کر قبولیت کا ہار بن چکے تھے اور کسی کی قسمت جاگ اُٹھی تھی اور اس کے پیر زمین پر نہ ٹکتے تھے اور وہ اونچای کی طرف جانے کا ارادہ باندھ چکا تھا جو اونچای کا اہل تو نہ تھا مگر کسی کی دعا آسمان کی اونچای تک جا پہنچی تھی اور وہ نیچے کھڑا حیرت سے انگلیاں منہ میں دابے کھڑا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس دنیا میں سب کچھ ہوتا ہے ہو سکتا ہے اور ہو جایا کرتا ہے ناکام کامیاب ہو جاتا ہے فقیر بادشاہ بنا دیا جاتا ہے مگر اتنی اونچای کہ بادشاہ بھی رشک کرے اور تارے عش عش کر اُٹھیں پھول کِھل اُٹھیں دل جھوم اُٹھے یاس آس میں بدل جاے پتھر الماس میں ڈھل جاے نا موافق راس آجاے خوشی قریبِ اُداس آجاے اور سوچ قرین قیاس آجاے
گاڑی والا اس سے کہہ چکا تھا اس سے اوپر جانا ممکن نہیں مگر اس کے کان میں مسلسل کوی کہ رہا تھا کہ اوپر اور اوپر
اور اوپر !!!
اور !!
یہ اسی دعا دینے والے کی آواز تھی جو اس کا مسلسل پیچھا کر رہی تھی اور اس کو اونچای پر پہنچا کر ہی دم لینے والی تھی اور گاڑی ایک گہری کھای میں گرتے گرتے بچ گئ تھی کیونکہ دعا نے ٹھان لی تھی کہ بچانا ہے اور دعا کو حکم ہو چکا تھا اور وہ " کُن " کا کہا کیسےٹال سکتی تھی کہ اس نے تو " فیکون " ہونا ہی تھا
ڈرایور نے ہاتھ جوڑ لیے تھے کہ اس سے اوپر وہ ساتھ نہیں دے سکتا لیکن دعا نے کب اس کا ساتھ چھوڑنا تھا اور وہ پیدل چلنے لگا اور یہ شرف خطا کار کو مل چکا تھا کہ وہ رحمت کے بابرکت قدموں کی پیروی میں چلتا رہے جہاں مایوسی کا کوی گزر نہیں جہاں صرف یقین ہوتا ہے نہ شک نہ وسوسے اور ہمت ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹے اور ٹوٹا دل جُڑ جاے بیمار شفایاب ہو جاے بے آسرا کو سفارش مل جاے
اور اب درمیان آچکا تھا رات کا اندھیرا نور کا سویرا لگ رہا تھا کتنی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں کتنی رونق تھی اور وہ ویرانی کتنی آباد تھی اور پہاڑی نمناک تھی کہ کتنے مبارک قدم کبھی یہاں سے گزرے تھے اور وہ ان ہی لمحوں میں ساکت ہوی کھڑی تھی اور اس کی اونچای ادب سے جھکی ہوی تھی اور آنے والے مہمانوں کو تھامے ہوے تھی جو اعلیِ ترین میزبان کے مہمان تھے اور وقت کو اجازت تھی کہ رُک جاے
آدھے سے زیادہ اونچای طے ہو چکی تھی اور وہ جگہ آگئ تھی جہاں دوسری طرف بہت گہری کھای ہو گی جو دیکھے بغیر ہی گہرای کا اندازہ دے رہی تھی مگر وہاں خوف کو بھی خوف زدہ کرنے کی اجازت نہ تھی اور سامنے وہ حصہ وہ بند دیوار تھی جس سے آگے نہیں جایا جاسکتا تھا اور لوگ جارہے تھے اور اس دیوار میں سے ہو کر جا رہے تھے کہ جہاں جانے کے لیے تو میلوں کا سفر طے کر کے آے تھے جہاں جانا ہی تو منزل تھی اور اس دیوار میں ایک جھری تھی جو زمین سے انسان کے آدھے قد تک اونچی تھی horizontal کہ بمشکل ایک انسان اس میں سے لیٹ کر اپنے آپ کو دوسری طرف گرا لے اور دوسری طرف جیسے کوی تھام لے اور فضا کو تھامنے کا شوق ہو اور دوسری طرف تو بس دوسری طرف تھی ادھر دوسری دنیا تھی جہاں وقت کی رفتار بدل جاے اور وہاں سے جانے کا دل نہ چاہے جہاں انسان کی سوچ بدل جاے جہاں وہ سکون ہو کہ بیان نہ کیا جا سکے جہاں دنیا بھر کے سکون سکون حاصل کرنے کے لیے ساکن ہوں اور وہ ایک ٹیرس نما جگہ جہاں سب سکون کے باوجود انتظار کی کیفیت میں اپنی باری کا انتظار کہ اُس انتظار میں بے چینی نہ ہو کہ کب موقع ملے اور وہ بھی اس غار نما جگہ کے اندر سجدہ کریں جہاں بمشکل ایک انسان بیٹھ سکے اور بمشکل سجدہ ہی کیا جا سکتا ہو جہاں سے پوری دنیا کو پیغام جانا تھا جس کی وجہ سے دنیا کی قسمت بدلنا تھی اور جہاں پر علم با ادب کھڑا تھا جہاں سے نور خدا کو پھیلنا تھا اور جہاں اُن کے حضور رب کی طرف سے بھیجی گئ ایک با ادب معزز آواز آی تھی جو آج تک آرہی ہے
اقْرَأْ !!!
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91253 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jan, 2019 Views: 298

Comments

آپ کی رائے