کشمیرمیں بھارتی مظالم پرحکومت کی سردمہری

(Umar Farooq, )

مقبوضہ کشمیرمیں ہرگزرتے دن کے ساتھ بھارتی فوج کے مظالم میں اضافہ ہورہاہے اب بات پیلٹ گن سے کیمیائی ہتھیاروں کی طرف جا پہنچ ہے بھارتی فوج نے ظلم وبربریت کے نت نئے طریقوں میں اسرائیل کی سفاک فوج کوبھی پیچھے چھوڑدیاہے کوئی ایسادن نہیں گزرتاجس نے کشمیری کاخون نہ گرتاہوپاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے کشمیریوں کوبہت امیدیں وابستہ تھیں مگرموجودہ حکومت نے کشمیریوں کومایوس کیاہے ،موجودہ حکومت کی سردمہری کااندازہ لگائیں کہ جس کشمیرکمیٹی کاوہ ڈھنڈورہ پیٹتے تھے تاحال وہ کشمیرکمیٹی قائم ہی نہیں کی جاسکی ہے ،یہ الفاظ تھے معروف کشمیری رہنماء اورانصارالامہ کے سرپرست اعلی مولانامحمدفاروق کشمیری کے ،جوسردارعبدالباسط مرحوم کی یادمیں منعقدہ تعزیتی ریفرنس اورپیغام کشمیرکانفرنس سے خطاب کررہے تھے سردارعبدالباسط ہمارے دوست وبھائی تھے ان کاتعلق مردم خیزخطہ منگ آزادکشمیرسے تھا عبدالباسط کویہ اعزازحاصل ہے کہ وہ غازی افغانستان وکشمیرتھے اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی اعزازحاصل تھا کہ وہ حرکۃ المجاہدین کے پہلے چیف کمانڈرسجاافغانی شہیدکے ہمراہ خونی لکیرپاؤں تلے روندتے ہوئے اپنے مظلوم بھائیوں کی عملی مددکے لیے مقبوضہ کشمیرپہنچے تھے بعدازاں وہ کاروبارکے سلسلے میں ریاض سعودی عرب منتقل ہوگئے اورجمعیت علماء اسلام ف کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہدجاری رکھی ا س کے ساتھ ساتھ وہ کشمیرکی آزادی کے لیے مگن رہے ان کی تمام ترکوششیں تحریک آزادی کشمیرکے لیے تھیں ،یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل وہ تحریک آزادی کے لیے پھرسرگرم عمل ہوئے توانہیں انصارالامہ جموں وکشمیرکانائب امیربنایاگیا مگرگزشتہ دنوں ریاض میں حرکت قلب بندہونے سے انتقال کرگئے ،انصارالامہ اورجمعیت علماء اسلام نے مشترکہ طورپر ان کی یادمیں تقریب کاانعقادکیاتھا جس سے جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن ،انصارالامہ پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن خلیل ،متحدہ جہادکونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمن ،حریت رہنماء یوسف نسیم ،مولاناسعیدیوسف ،مولاناامتیازعباسی ،مولاناعبداﷲ شاہ مظہرودیگرسیاسی ،سماجی اورمذہبی رہنماؤں خطاب کیا۔

تقریب میں موجود تمام شرکاء نے ہی وفاقی حکومت کی کشمیرپالیسی اوراقدامات پرعدم اعتمادکااظہارکیا اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اور مستقبل کیلئے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے،سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسلامی دنیا نشانہ پر ہے،پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے،سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،مجھے نہیں یاد کوئی قائد ایوان منتخب ہو اور کشمیر پاک بھارت تعلقات کاذکر نہ کرے،کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ ہوتا تھا،موجودہ پارلیمانی قائد کی پہلی تقریر سے کشمیر غائب تھا،انہوں نے کہاکہ ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں نئے نئے مسائل آرہے ہیں،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تاویلیں کی جارہی ہیں،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو تسلیم کرلیا تو کشمیر پر بھارتی قبضہ کے موقف کا کیا بنے گا؟حکومتی ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں،ہمیں خارجہ پالیسی،نظریاتی شناخت،پالیسیوں،کشمیر پر حساس ہونا چاہیے، آج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد بھارت نے کشمیریوں پرمظالم میں اضافہ کردیاہے مگرہمارے وزیراعظم کی طرف سے ان مظالم کاجواب مذاکرات کی بھیگ کی صورت میں دیاجارہاہے ،ماضی میں کشمیرمیں ہونے والے مظالم پرکشمیرکمیٹی کوہدف تنقیدبنایاجاتاتھا کیوں کہ اس کے سربراہ مولانافضل الرحمن تھے اب وہی کشمیرہے وہی کشمیری ہیں وہی بھارتی فوج ہے مظالم میں بھی اضافہ ہوگیاہے مگرپی ٹی آئی کے رہنماؤں کی زبانیں گنگ ہیں ،نہ کوئی غدارہے اورنہ ہی کوئی مودی کایارہے ؟مودی لاہورمیں نوازشریف کی ایک تقریب میں آجائے تومودی کے یارکے طعنے دیے جاتے تھے مگراب راہداریاں کھول کردوستی کے پیغامات بھیجے جارہے ہیں اورپھربھی یہ کشمیریوں کے محسن ہیں ۔کنٹرول لائن پربھارتی فائرنگ کاسلسلہ بڑھ گیاہے عمومایہ اضافہ گرمیوں کے موسم میں ہوتاتھا مگراس بارتوسردموسم میں لوگوں کوبے گھرکرنے کی اذیت دی جارہی ہے ،مگرہمارے حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ،اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کمشنر نے پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں رپورٹ مرتب کی ہے مگرہماری حکومت اس رپورٹ کی مناسب تشہیرہی نہیں کرسکی اورنہ ہی متعلقہ فورموں پراس کوپہنچاسکی ہے،ابھی تک وفاقی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے لیے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی چار ماہ قبل اقوام متحدہ میں ایک تقریرہے جس میں تین منٹ کشمیرپربھی بات کی گئی تھی ۔

وفاقی حکومت کی اس خاموشی پرہرکشمیری مایوس ہے مولانافاروق کشمیری کی طرح حریت رہنماؤں کی نظریں ایک مرتبہ پھرمولانافضل الرحمن پرلگی ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ حریت کانفرنس کے قائدین نے وفاقی حکومت کی سردمہری پرمولاناسے ملاقات کرکے تحریک آزادی کشمیرکے لیے کرداراداکرنے کامطالبہ کیا مولانافضل الرحمن نے دوفروری کواسلام آبادمیں کشمیرکے مسئلے پرآل پارٹیزکانفرنس طلب کی ہے اورکہاہے کہ کشمیر پر بات کرنے کیلئے پالیمنٹرین ہونا ضروری نہیں،کشمیر سے کمٹمنٹ ہے۔

ایک نظراس رپورٹ کوبھی دیکھ لیں جومقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جموں اینڈکشمیرلولیشن سول سوسائٹی نے سال 2018کے حوالے سے جاری کی ہے جس میں گزشتہ سال کوسب سے خونی سال قراردیاہے ۔رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے سفاکیت ،بربریت اوردرندگی کی نئی تاریخ رقم کی ہے گزشتہ سال کے 365دنوں میں بھارتی فوج نے267مجاہدین سمیت 160عام شہریوں کوشہیدکیاجن میں جن میں 20خواتین اور31معصوم بچے بھی شامل ہیں، شہری اموات میں 20فیصد اضافہ ہوا،جو گزشتہ ایک دہائی میں سے زیادہ ہیں۔ ان اعدادوشمارمیں وہ کشمیری نوجوان شامل نہیں ہیں کہ جنہیں گھروں ،سڑکوں اورچوک چوراہوں سے گرفتارکرکے مبینہ طور پر جنگ بندی لائن پرلے جاکرقابض بھارتی فوجی اہلکاروں نے جعلی جھڑپوں کاڈھونگ رچاکرشہیدکیا ۔اس کے علاوہ ریاست جموں وکشمیرکوجبری طورپر تقسیم کرنے والی جنگ بندی لائن پربھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے 27 معصوم افراد بھی شہید ہوئے ۔

سال2018 میں275محاصرے اورخونین آپریشن ہوئے، جبکہ قابض فوج اور مجاہدین کے درمیان 143خونین معرکے ہوئے اور اس عرصے میں کشمیری مسلمانوں کے 120 مکانات کوبھی بھارتی فوج نے آگ لگاکر بھسم کر دیا، جبکہ94مکانات جزوی طور پر نقصانات سے دو چار ہوئے۔سال میں108بارقابض بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں سوشل میڈیااور انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا تقریبا 5600 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیاجن میں سے پیشتر کو PSA کے ظالمانہ ایکٹ کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت کی کئی جیلوں میں مقید کیا گیا۔جبکہ سری نگرکی تاریخی جامع مسجد سرینگر میں 16بار نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت طاقت کے بل پر نہیں دی گئی،ایک اوررپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں میں 4524شہری زخمی ہوگئے جن میں 724افراد کی آنکھوں کی بینائی پیلٹ فائرنگ سے متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ان قابض بھارتی فوج کے 159اہلکار جہنم واصل ہوئے جبکہ اس دوران 20قابض بھارتی فوجی اہلکاروں نے از خود اپنی زندگی کا خاتمہ بھی کیا۔جبکہ گزشتہ10برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں1088قابض بھارتی فوجی اہلکارمجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مئی میں سب سے زیادہ28 عام شہریوں کو بھارتی فوج نے گولیاں مار مار کر شہیدکردیا،جبکہ نومبر میں سب سے زیادہ شہادتیں واقع ہوئیں،جن کی تعداد61تھی،جبکہ اکتوبر میں بھی57افراد شہید کیے گئے شہادتوں کایہ سلسلہ سال نومیں بھی جاری ہے،اس رپورٹ پربھی ہمارے حکمرانوں کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی، ہمارادفترخارجہ خاموش ہے وزیرخارجہ کشمیرکامسئلہ حل کرانے کے بعد افغانستان کامسئلہ حل کروانے کے لیے ایک ہی دن میں تین تین ملکوں کے دوررے کررہے ہیں ،چندسال قبل مودی نے متحدہ عرب امارات کادورہ کیاجہاں حکومت نے مندرکے لیے جگہ دی تویواے ای کے یہ حکمران ہمیں مبغوض ہوگئے تھے اورہم انہیں ہندؤں کے یارکے طعنے دیتے تھے مگران عرب شیوخ نے تین ارب ڈالرکی بھیگ ہماری جھولی میں کیاپھینکی کہ ہماراوزیراعظم ا ن کاڈرائیوربن گیا ۔اقتدارملنے کے بعدنظریات بدل جاتے ہیں اس لیے مودی نہ اب کشمیریوں کاقاتل ہے اورنہ اب وہ نوازشریف کایارہے،حکمران اپنی پالیسیاں ضروربدلیں مگرسردارعبدالباسط جیسے باہمت ،جرات منداوردرددل رکھنے والے نوجوان جب تک زندہ ہیں اس وقت تک بھارت بھی آرام کی نیندنہیں سوسکے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 18544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2019 Views: 284

Comments

آپ کی رائے