اک اور معصومہ درندگی کی نظر

(Ahsan Iqbal, Abbot Abad)

کسی معاشرے کے اندر اگر کوئی خوبی پروان چڑھے تو معاشرے کا ہر فرد اس مجموعی تعریف میں شامل ہوتا ہے جو اس خوبی پر کی جاتی ہے اگرچہ اس کی انفرادی حالت اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہو۔ بالکل اسی طرح اگر اھل معاشرہ میں سے کوئی شخص کسی قسم کی کوئی برائی کرتا ہے تو اس کے ناپاک چھینٹے اس معاشرے پر دھبہ لگا دیتے ہیں اگرچہ اس معاشرے کی اکثریت بہتر ہی کیوں نہ ہو۔

گزشتہ چند برسوں سے ہمارے ملک کے اندر ایک غلیظ قسم کی برائی (کہ بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کو قتل کر دیا جاتا ہے) کی پیداوار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس برائی کو جو بھی سنتا ہے تو اس کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیونکہ اس درندگی نے انسانیت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ اس درندگی نے انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا کسی درجہ میں کوئی لحاظ نہیں رکھا ۔ اگرچہ اس برائی و جرم کا کرنے والا کوئی درندہ صفت انسان ہی ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ جیسا بھی ہو اس معاشرے کا ایک رکن و فرد ہی ہوتا ہے جس کی برائی سے اھل معاشرہ کرب و بلا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

جو خاندان اس برائی سے متاثر ہوئے ہیں کبھی ہمارے حکمران ان کے دل کی کیفیت کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے تو شاید اس کا کوئی سنجیدگی سے حل تلاش کر ہی لیتے۔ کوئی اس فکر میں گم ہوتا کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے تو اس کو رستہ مل جاتا ۔لیکن سننے اور دیکھنے کو جو ملتا ہے وہ صرف یہ کہ ہمارے ادارے کسی جرم کے وقوع کے بعد مجرم کا تعاقب تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن کیا کبھی جرم کے تعاقب میں نکلے ہیں۔ ۔۔؟ کیا ہمارے ملک میں ایک جرم کے پھلنے پھولنے سے پہلے اس کے رستے کو بند کیا گیا ہے۔۔؟۔۔۔ اگر چند لمحوں کے لئے میرے ساتھ اتفاق کیا جائے تو یقینی طور پر اس کا جواب منفی ہوگا۔ جب تک ہم جرم کی جڑ کو تلاش نہیں کریں گے اور اس جرم کے سد باب کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھائیں گے تب تک مجرم تو کسی نہ کسی دن شکنجے میں آجائے گا لیکن اس جرم کے رستے کھلے رہیں گےاور وہ جرم کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ سر اٹھا کر پوری امت کا سر شرم سے جھکا دے گا۔

کچھ عرصہ پہلے معصوم زینب اس درندگی کا شکار ہوئی، پورے ملک میں ایک کہرام مچ گیا ، ہر فرد چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو اس نے حتی الوسع اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی ، اسی دباؤ کی وجہ سے ہمارے ملک کے حساس ادارے ،ساری تفتیشی مشینری متحرک ہوجاتی ہے اور اس کے باوجود ۱۴ دن میں وہ درندہ صفت انسان قانون کے شکنجے میں آجاتا ہے، اس وقت کی حکومت بڑی پریس کانفرس کرتی ہے یہ بتانے کے لئے کہ ہم نے ایک مجرم پکڑ لیا لیکن اس واقعہ نے کتنی ہی معصوم جانوں پر ہونے والے ظلم سے پردہ اٹھا یا جو عوام کی نظروں سے پوشیدہ تھے، اور نہ جانے کب تک رہتے، وہ الگ ہیں، اور ان کے مجرم آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں جو ہمارے اداروں کی لاپرواہی اور غفلت کی واضح دلیل ہے۔ پھر اس ظالم کے بارے میں عوام کی رائے تھی کہ اس کو عبرت ناک سزا دی جائے تا کہ دوبارہ کوئی اس درندگی کی ہمت نہ کر سکے اور پھر اس کو پھانسی ہو گئی، ہم خوش ہوگئے کہ کامیابی مل گئی ،بس کام ختم ہوگیا، لیکن شاید اس بات کو بھلا بیٹھے کہ ابھی تک جتنی بھی تگ ودو کی گئ وہ مجرم کو تلاش میں تھی، ابھی اس سے آگے کا مرحلہ باقی تھا کہ جرم کے راستے روکے جاتے اس جرم کی وجہ تلاش کی جاتی ، اس پر کوئی قابل ذکر کام ہوتا کسی کو نظر آتا لیکن ہم چپ سادھ کر خواب خرگوش میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن وہ جرم باقی تھا اس لئے ایک دفعہ پھر ابھرتا ہے اور صوبہ پنجاب کی حدیں پار کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے گاؤں کیالہ میں داخل ہو جاتا ہے اور ہماری آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب ۲۷ دسمبر کو اس جرم کا مرتکِب ایک اور تین سالہ معصومہ "فریال" کی کا جسد خاکی کسی ویرانے میں نیم مردہ حالت میں پھینک جاتا ہے اور وہ بچی رات کی شدید سردی کی وجہ سے اپنی جان سے محروم ہو جاتی ہے۔ پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے بعد و ہی آوازیں کانوں تک پہنچتی ہیں جو زینب کے قتل کے وقت اٹھی تھیں۔ پھر کیا ہونا تھا یہ تو شکر ہے ہماری لشکری زبان میں لفظ "مذمت" موجود ہے جو ہمارے بہت سے اھل مناصب کا بہت بڑا سہارا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نوٹس لیتے ہیں، ہماری پولیس بھی حرکت میں آجاتی ہے لیکن یاد رہے کہ لاش ڈھونڈنے کی توفیق بھی ہماری پولیس کو نہ ملی یہاں تک کا سارا کام وہ متاثرہ خاندان کرتا رہا۔ لاش ملنے کے بعد پولیس مجرم کا تعقب کرتی ہے تفتیش کرتی ہے بہت سے لوگوں کو D.N.A ٹیسٹ کے لئے لے جایا جاتا ہے۔ اور پھر سب لوگ امیدیں لگا لیتے ہیں کہ مجرم مل جائے گا۔ اور ہماری دعا بھی یہ ہی ہیکہ مجرم مل جائے اور اپنے انجام کو پہنچے ۔بہر حال کتنا عرصہ لگ سکتا ہے جام مشینری کے مکمل فعال ہونے پر اس بارے میں فی الحال کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔

لیکن ایک تصور پھر خوف زدہ کر دیتا ہیکہ کہ اگر اس بار بھی ہمارے اھل مناصب کی کامیابی کی کوششیں مجرم کو پکڑنے تک ہی محدود رہیں تو پھر یہ جرم کسی دن سر اٹھا سکتا ہےاور ملک پاکستان کے کی کسی کلی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahsan Iqbal

Read More Articles by Ahsan Iqbal: 20 Articles with 13185 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2019 Views: 305

Comments

آپ کی رائے