الفاظ پہ دستک‎

(Farhana Gul, )

مہکتے گلاب ہوں یا مہکتے الفاظ، دونوں ہی خالق کائنات کی بنائی اس دنیا ء بے ثبات کا حسن ہیں۔ مہکتے، لہکتے، نکھرتے الفاظ اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ہماری زبان ان خوشنما لفظوں کی محتاج رہتی ہے۔ یہ خوشبو بکھیرتے الفاظ سب کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں۔ کچھ الفاظ شیریں مزاج رکھتے ہیں لیکن بعض اوقات اتنی مٹھاس بھی انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ انسان کو ان میٹھے الفاظ سے شوگر ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔اس لیے معتدل الفاظ کا چناؤ ہی ہماری زندگی کو بھی معتدل رکھتاہے۔ جبکہ کچھ الفاظ تو اپنے الفاظ ہونے پر ہی شرمندہ رہتے ہیں کیونکہ وہ اتنے تلخ ہوتے ہیں کہ مدمقابل کا سینہ چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ الفاظ کے چناؤ کے ساتھ لہجہ بھی پراثر ہوتا ہے۔ لیکن الفاظ کو ہمیشہ لہجے پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ اس لیے کہتے ہیں انسان کو الفاظ ادا کرنے سے پہلے اپنے دماغ سے اجازت لینے کی ازحد ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض الفاظ اپنی شدت پسندی پر ڈٹے رہتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ،
"کلہاڑی بھول جاتی ہے مگر درخت یاد رکھتا ہے"۔ اس لیے ایسے الفاظ کو کچھ خاص پسند نہیں کیا جاتا۔ کچھ الفاظ کٹھے بھی ہوتے ہیں، سردیوں کے کٹھے مالٹوں کی طرح، آپ کا گلا خراب کرنے کی پوری صلاحیت لیے ہوئے۔ جہاں کٹھے میٹھے الفاظ کا ذکر ہو، وہاں نمکین الفاظ اپنی صلاحیت کبھی نہ کبھی تو منوا ہی لیتے ہیں کیونکہ نمکین آنسو اور نمکین الفاظ کی قدر مشترک ہی تو ہے۔ نمکین الفاظ کا ذکر ہو اور قہقہ بکھیرتے الفاظ کا ذکر نہ ہو تو ان کے ساتھ بہت زیادتی ہے۔ آخر کو
" رونق ہی تو زندگی ہے"۔
تازہ اور باسی الفاظ کا بھی اپنا ہی ایک ردھم ہے۔ جو الفاظ انسان کو بروقت سوجھ جائیں وہ اپنی تازگی برقرار رکھتے ہیں جبکہ بعض الفاظ اپنی قسمت کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ برجستہ الفاظ اگر مہکتے ہوں تو کیا ہی بات ہے لیکن اس برجستگی کے ساتھ مذاق اڑاتے الفاظ آپ کی شخصیت کو منٹوں میں منہ کے بل گرانے کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں۔ چیختے ، چلاتے،چنگھاڑتے الفاظ ہوں یا کچھ سوچتے ، خاموش طبع الفاظ اپنے ساتھ ساتھ آپ کا بی پی ہائی کرنے کی ذمے داری بھی انھیں ہی سونپ دی جاتی ہے سو ان سے اجتناب بہتر۔ ضحیم اور لاغر الفاظ کا بھی اپنا الگ ہی ایک رونا ہے سو اس بحث کو بھی رہنے ہی دیجئے۔
سادے، بےریا، صاف ستھرے ، عام فہم الفاظ ہوں، سوچیں ہوں یا انسان، آجکل کم ہی دستیاب ہیں، جدھر ملیں انھیں کس کر جپھی دیں تاکہ انہیں اپنی اہمیت کی کمی کا احساس نہ رہے۔ ان نایاب قسم کے الفاظ اور لوگوں کو پیچیدہ لوگوں اور لفظوں سے دور رکھیں اور انہیں لفظوں کی منافق دنیا میں گم ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ منافق الفاظ زندگی کو بھی منافق بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور کڑواہٹ میں اپنے کڑوے ساتھیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ دم توڑتے الفاظ ہوں یا اپنے الفاظ کا گلا گھونٹتے لوگ دونوں ہی خاص الخاص ہیں۔ مایوس حالات ، مایوس و بکھرتے الفاظ دونوں اگر آپ کے گرد گھیرا تنگ کر دیں تو زندگی سے بھرپور، پرامید اور حوصلہ افزا الفاظ کا دامن تھامے رہیں۔ اور ڈرتے، جھجھکتے، کم ہمت، بے حوصلہ الفاظ کی بھی اپنے ساتھ ہی ہمت بندھائے رکھیں۔ روحانیت کے درجے پہ فائز الفاظ اور لوگ تو ہوتے ہی انمول ہیرے ہیں انکی قدر کیجئے۔
الغرض انگنت کردار انگنت الفاظ۔
اپنی شخصیت کو نکھرتا، مہکتا، لہکتا بنائے رکھنے کے لیے ایسے ہی الفاظ مستعمل رکھیں جیسے اخلاق کی سیڑھیاں چڑھتے الفاظ بلند اخلاق لوگوں کو معتبر ٹھہراتے ہیں اور مسکراتے لفظوں کے ساتھ چہیتے لفظوں میں تاحیات بعد ابدی حیات مہکتے رہیں۔
میرے الفاظ سارے مہکتے گلاب ہیں
لہجے کے فرق سے انھیں تلوار نہ بنائیں
بقلم ایف جی

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
About the Author: Farhana Gul

Read More Articles by Farhana Gul: 2 Articles with 356 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: