لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

(Abdul Bari Shafique, Mumbai)

ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں ہر ایک شہری کو اپنی بات کہنے سننے اور ایوان حکومت تک پہنچانے کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔ ایسا اس لیے ہےکیونکہ وطن عزیز کی آزادی میںہندو،مسلم ،سکھ ،عیسائی ودیگر قوموں کا برابر کا حصہ ہے ۔ مسلمان اس ملک کے قدیم باشندے ہیں جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنےجان ومال کی بے لوث قربانی پیش کی ہے۔وطن عزیز میں ہر شخص کو اپنے مذہب ودھرم پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور کسی پر کسی مذہب کوزور زبردستی تھوپنے کا کوئی جواز نہیں ۔ ہمارے ملک کی طرزِحکومت جمہوری ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیڈران عوامی پلیٹ فارم سے چن کر ایوان یا مسندِحکومت پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔ جس میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔آسام کے مشہور تاجر،عطرفروش ،کئی مسلم تنظمیوں کے رہبر وقائدجناب مولانا بدرالدین اجمل صاحب قاسمی بھی عوامی پلیٹ فارم سے چن کر پارلیمنٹ کےایک معزز رکن بنے ہیں اور یہ کہا جائے کہ وہ مسلمانوں کا بہترین چہرہ ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ البتہ اس وقت ان کی مسلم نمائندگی مشکوک ہوگئی جب انھوں نے طلاق ثلاثہ کے موضوع پر۲۷؍دسمبر ۲۰۱۸ ؁ء کو سرمائی اجلاس میں شریک ہوتے ہوئے ایک خاص مکتبہ فکر سلفی اور اہل حدیث اخوان واحباب کے خلاف ایسی زہر افشانی کرڈالی ،جو قابل مذمت ہی نہیں بلکہ بڑا افسوس کن ہے جو ان کی بدنیتی پر غماز ہے ۔کیونکہ انھوں نے مناکشی لیکھی کی طلاق بدعت پر پوچھے گئے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کہا کہ :
’’بھارتی مسلمانوں میں حنفی مسلک کے ماننے والے اکثریت میں ہیں، مسز لیکھی نے اپنی بات میں جن کتابوں کا ریفرینس دیا ہے وہ سلفیوں کی ہیں جو مسلمانوں کی کسی صورت نمائندگی نہیں کرتے ہیں، یہ لوگ اسلام میں الٹ پھیر کرتے ہیں، میں آپ کوکچھ کتابیں بتاؤں گا جہاں آپ کو آتھینٹک مواد ملے گا‘‘۔ اور آگے انھوں نے کہا کہ :’’سلفی تو وہ لوگ ہیں جنہیں گورنمنٹ آف انڈیا دہشت گرد قرار دے چکی ہے(جو کہ حکومت کے خلاف بھی ایک صریح الزام اوربہتان تراشی ہے )، آج پورے ہندوستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے، وہ یہی سلفی سیکٹر کرا رہا ہے، Prove ہورہا ہے بار بار، ہم سلفیوں کے ساتھ نہیں ہیں، ہم ان کے عقیدے کو نہیں مانتے‘‘۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک عالم دین اور معروف دینی وعلمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل شخص ایسا غیرذمہ دارانہ بیان دے اورکسی جماعت پر بلا سوچے سمجھے ایسا ناعاقبت اندیشانہ وناشائستہ بیان دے جس کی کبھی توقع ہی نہیں کی جاسکتی تھی ،جس پر جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

دراصل طلاق ثلاثہ کا موضوع پارلیمنٹ میں زیر بحث تھا ،جس کامولانا نے مدلل ومسکت کتاب وسنت کی روشنی میںجواب نہ دے کرراہِ فرار اختیار کرتے ہوئے ایسی بے تکی باتیں کہہ کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی ،جس کے نتیجے میں جذبات کی رومیں بہہ کر سلفیوں پر الزام تراشی کرکے ان کے عقیدے سے بیزاری کا اعلان کردیا، جب کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے تعلق سے قدیم وجدید تمام علمااور اہل علم کے درمیان مختلف فیہ رہاہے ۔دیوبندی ،بریلوی اور دیگر مکتبہ فکر کے یہاں ایک مجلس کی تین طلاق تین مانی جاتی ہے اور ا سکی بیوی اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے ،رجوع کی صورت میں مروجہ حلالہ جیسی ناپاک راہ اختیار کی جاتی ہے ۔جب کہ اہل سنت والجماعت یعنی سلفی واہلحدیث مکتبہ فکر کے یہاں دلائل کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق ایک طلاق مانی جاتی ہے جو طلاق رجعی کہلاتی ہے اورجس شوہرکو اپنی بیوی سے رجوع کا اختیارحاصل ہوتاہے ۔ وہیں دوسری طرف ایک مجلس میں تین یا اس سے زائد طلاق دینا شریعت اسلامیہ کی نگاہ میںمکروہ وناپسندیدہ عمل ہے ،جس پر اللہ کے رسولﷺ نے برانگیختگی کا اظہار فرمایاہے اور اسے کتاب اللہ سے کھلواڑ قراردیاہے ۔جیساکہ سنن نسائی کی روایت سے معلوم ہوتاہے ۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو جو طلاق کا طریقہ بتلایا ہے وہ کچھ اس طرح ہے: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾(بقرۃ:۲۲۸)ترجمہ :طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ‘‘ ۔پھر اس کے بعد طلاق کی شکل بیان کیاکہ کتنی رجعی ہے اور کب غیر رجعی ہے ،جیساکہ اللہ نے فرمایا :﴿ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﴾(بقرۃ:۲۲۹) یعنی یہ طلاق دو مرتبہ ہیں،پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدیناہے‘‘۔ اس کےبعد غیر رجعی کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ :﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ترجمہ:پھر اگر اس کو طلاق دیدے تو اب وہ اس کے لیے حلال نہیں ،جب تک کہ وہ عورت اس کے سواکسی دوسرے سے نکاح نہ کرےاور طلاق نہ ہوجائے ‘‘۔ (بقرۃ:۲۳۰)

دراصل زمانہ جاہلیت میں یہ حق طلاق ورجوع غیر محدود تھا، جس سے خواتین پر بہت ظلم وزیادتی ہوتی تھی اور لوگ اپنی بیویوں کو ستانے اور پریشان کرنے کے لیے کئی کئی مرتبہ طلاق دیتے اور پھر ان سے رجوع کرلیتے ، اسی فعل بد سے بچنے کے لیے شریعت نے یہ حدود متعین کردیے ہیں کہ طلاق تین سے زائد مرتبہ نہیں دے سکتے ۔

ان آیات مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو تین مختلف طہر میں بغیر مجامعت وہمبستری کیئےالگ الگ طلاق دے گا ،تب اس کا طلاق کتاب وسنت کی روشنی میں صحیح ومقبول ہوگا اور اس کی بیوی اس کے لیے حرام ہوجائے گی ،علمائے سلف کے علاوہ فقہ حنفیہ میں بھی بہت سارےاہل علم اسی کے قائل ہیں اور اسی کے علمائے اہلحدیث بھی قائل ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق ،تین نہیں بلکہ ایک ہی ہے ،جب کہ دیگر علمائے احناف اس کے برعکس ہیں ۔حالانکہ اہلحدیث مکتبہ فکر کے افرادعلمائے احناف سے اس مسئلہ میں اختلاف کے باوجود اتحاد بین المسلمین کے پیش نظرحکومت کی غلط پالیسوں کی تردید میں ان کے ساتھ رہے اور ان سےاپنا رشتہ جوڑے رکھا کہ کہیں اختلا ف کی صورت میں امت کاشیرازہ منتشر نہ ہوجائے اورحکومت کی پالیسیاں امت مسلمہ پر حاوی نہ ہوجائیں ۔ورنہ اہل علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کتاب وسنت میںایک ساتھ تین طلاق دینے کی کوئی واضح دلیل ایسی نہیں ہے ،اور ایسا کرنا ایک ناپسندید ہ فعل نیز شریعت مطہرہ کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ برصغیر ہندوپاک سمیت کئی دیگر اسلامی ممالک کے ممتاز ومعتبر علمابھی اس بات کی ہمیشہ وکالت کرتے رہے ہیں ،کہ اللہ نے جس مسئلے میں شوہربیوی کو غور وفکر کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے، بندے کو یہ حق کہاں سے مل جاتا ہے کہ اس مہلت کو ختم کردیں۔امام ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:’’ صحابہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس، زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن عوف، ایک روایت کے مطابق حضرت علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کابھی یہی فتویٰ ہے کہ ایک وقت کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔ تابعین میں سے حضرت عکرمہ، طاوس اور تبع تابعین میں محمدبن اسحاق، خلاص بن عمرو، حارث عکلی، داود بن علی اور بعض اہل ظاہر، بعض مالکیہ، بعض حنفیہ اور بعض حنابلہ کا بھی یہی موقف رہا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں گی‘‘۔ (اعلام الموقعین ۳؍۴۴ ، اغاثۃ اللھفان ۱؍۳۳۹۔۳۴۱)

اسی طرح دیگر مکتبہ فکر کے بے شمار ممتاز علماءبھی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے ہیںان میں معروف دیوبندی عالم دین مولانا سعید احمد اکبر آبادی (انڈیا)، مولانا عبد الحلیم قاسمی (جامعہ حنفیہ گلبرگ، لاہور) اور جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل بریلوی حنفی عالم دین مولانا پیر کرم شاہ ازہری (سابق
جج سپریم اپیلیٹ شریعت بنچ، پاکستان) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ معاصر علمائے عرب میں شیخ ازہر شیخ محمود شلتوت حنفی (جامعہ ازہر، مصر)، ڈاکٹر وہبہ الزحیلی (دمشق، شام)، شیخ جمال الدین قاسمی، شیخ سید رشید رضا مصری اور ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے بھی ایک وقت کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا ہے۔
اس مسئلہ میں علماکے درمیان اختلاف کے باوجود اگر کوئی کسی کو مطعون کرے اور الزام تراشی کرے ،یہ کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے اور وہ یہ کی وہ بھی ایک متشرع شخصیت کی طرف سے اس طرح کا معاملہ ہو ،ملک وعوام کے درمیان اپنی خدمات جلیلہ ،سماجی ورفاہی خدمات کے ذریعہ مشہور ومعروف ہو جو ملک کی مشہور دینی وملی درسگاوہ سے فارغ التحصیل ہو، اس سے ایسی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی ، لیکن پارلیمنٹ میںدانستہ یا غیردانستہ طور پر جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔غرض مولانا کے اس بیان کا ریکشن ہونا طے تھا اور ہوا بھی ،جس کی بناء پر سلفی علماوعوام نےقلم وقرطاس اور زبان وبیان کے ذریعہ برانگیختی کاکھل کر اظہار فرمایا ، جس پر مولانا نے فورامعافی مانگتے ہوئے اپنے قول کو واپس لے لیااور معافی مانگتے ہوئے کہا کہ:’’ میں اپنے اس بیان پرنادم وشرمندہ ہوں ،سبقت لسانی اور انجانے میں نہ جانے کیسے میرے زبان سے ایسی غلط اور نازیبا باتیں نکل گئیں جس کا مجھے کافی افسوس ہے ۔میں اپنے تمام سلفی بھائیوں سے معافی مانگتاہوں ‘‘۔اور ساتھ ہی مولانا نے پارلیمنٹ سے بھی اپنی بات کو حذف کرنے کی بھی بات کہی ہے اور قانونا عرضی بھی داخل کردی ہے ۔
مولاناایک عالم دین ،کئی دینی وملی تنظیموں کے سربراہ ہونے کے ساتھ سیاستداں بھی ہیں ،انھیں ملک کے موجودہ صورتحال کا بخوبی اندازہ بھی ہے ،مسلمانوں کے حالات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں ،اس کے باوجود ملک کے عظیم پلیٹ فارم اور بھری محفل میں ایسی بات کہہ کر سلفی اخوان کومجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ مولانا نے دراصل جس تنظیم کو’’ارہابی ‘‘ جیسے گھنائونے القاب سے ملقب کیاہے ،حقیقی معنوں میں وہی ملک وملت ،دین وشریعت کےپاسبان ،کتاب وسنت کے حامل ، اتحاد واتفاق کے خوگر ،اخوت وبھائی چارگی کے علمبردار اور امن وسلامتی کے رہبر وقائد ہیں ۔ان کا نام ہی اہل حدیث و سلفی ہے۔ جس کا واضح مفہوم قران وحدیث کے مطابق عمل کرناہے، اللہ کے اور اس کےرسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارناہے، تقلید سے اجتناب کرتے ہوئے تحقیق کے راستے کو اپناناہے اور مسائل کا استنباط قرآن و حدیث سے کرناہے،جس کے امام وبانی اللہ کےحبیب ، تمام انبیائے کرام کے سردار ،خاتم النبین جناب محمد رسول اللہﷺ ہیں ۔اور ساتھ ہی آپ کے جملہ تمام صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین عظام، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین کرام اور امت کے علمائےسلف ہیں۔ جنہیں معیار ہدایت بتلایاگیاہے ،جن کے نقش قدم پر چلنے کی امت کو تعلیم دی گئی ہے ۔ ایسےاخوان جو کتاب وسنت کے خوشہ چیں ہوں اور صحابہ کرام واسلاف عظام کو اپنا اسوہ تسلیم کرتے ہوں ان کو اپنی بھونڈی زبان میں گالیاں دینادراصل یہ منافقت کی نشانی ہے جو ہردور میں بدطینت ،غلیظ افکار وخیالات کے حامل افراد کا شیوہ رہاہے ۔

ایسے جاہلوں ،کم عقلوں اورفاسق وفاجرنام نہاد حامل کتاب وسنت سے التماس ہے کہ خدارااگرآپ کو شریعت مطہرہ اور اسلامی شادی بیاہ ،طلاق وخلع کے بارے میں علم نہیں ہےتو خاموش رہیں، یااس موضوع پر تیاری اور مطالعہ کریں ،آپ صاحب اقتدار ہونے کے ساتھ ایک عالم دین ہیں ،ملک کی عظیم دیوبندی درسگاہ کے پروڈیکٹ اور سپوت ہیں ،اپنی بدنامی کے ساتھ اس ادارہ کی مٹی پلید مت کریں ۔ آپ کوکسی کے خلاف بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے کہ کہاں اور کیا بول رہے ہیں ،کس کے خلاف بول رہے ہیں ۔ اس کا ریکشن کیا ہوگا ،جس سےامت کا شیرازہ بکھر سکتاہے ۔ ہم ہیں کہ امت کا شیرازہ بکھرنے سے بارہا کتراتے ہیں ،اتحادواتفاق کی بات کرتے ہیں اور آپ جیسےلوگ ہیں کہ اپنوں ہی کےخلاف زہر افشانی کرتے رہتےہیں ۔ اس گھنائونے الزام وجرم اور آپ کے معافی نامہ پر سلفی اخوان واحباب تو معاف کرسکتے ہیں لیکن وہ احکم الحاکمین جو عرش پر مستوی ہے جو تمام انسان کے دلوں کے راز اور ظاہر وباطن سے بخوبی واقف ہے ہم سب کا خالق ومالک ہے ،اگر دلوں میں بدنیتی اور طبیعتوں میں تقلیدیت کا بخار ہے تو وہ ضرور گرفت کرے گا ۔

جب کہ آج کے اس مادہ پرستی اور پرآشوب دور میں ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر رہیں ،آپس میں بھائی چارہ کے ماحول کوبنائے رکھیں ،کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور اپنےتمام اختلافی واندرونی مسائل کتاب وسنت کی روشنی میں حل کریں ۔اسی میں ہم سب کی کامیابی وکامرانی کا راز مضمر ہے ۔ ورنہ بقول شاعر -ڈاکٹر راحت اندوری :
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
اللہ ہماراحامی وناصر ہو ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 114 Articles with 67951 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2019 Views: 265

Comments

آپ کی رائے