صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم عوام اور ادویات کی بڑھتی قیمتیں

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

وطن عزیز پاکستان میں صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم افراد کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باوجود عوام کی بہت بڑی تعداد علاج معالجے کی سستی اور معیاری سہولتوں سے محروم ہے ،عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت تقریبا دنیا کی نصف آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے گزشتہ سال عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کیئے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ دنیا کی بارہ فیصد آبادی اپنی کمائی اور گھریلو اخراجات کا دس فیصد بجٹ اپنے علاج و معالجے پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، کہا جاتا ہے کہ اس وقت دنیا کے دس کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کے باوجود صحت کی سہولیات کے لیے اپنی آمدن کا بڑا حصہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں،ترقی یافتہ ممالک کی اگر بات کی جائے تو وہاں بجٹ کا ایک بڑا حصہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص کیا جاتا ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک بشمول وطن عزیز پاکستان میں حکومت صحت کے لئے جو بجٹ مختص کرتی ہے اُس سے بہت بڑی آبادی صحت کی سہولیات سے مستفید نہیں ہو پاتی اگرچہ سابقہ پنجاب حکومت نے صحت کے شعبہ پر کافی حد تک توجہ مرکوز رکھی جس سے نئے ہسپتال اور پہلے سے موجود صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ نئے بلاکس اور پہلے سے قائم عمارت کی تزئین وآرائش شامل رہی موبائل ہسپتال پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے لیکن افسوس کہ یہ ہسپتال بھی مکمل طور پر فنکشنل نہ ہوسکے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی تزئین وآرائش اچھا قدم تو ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری مزیدڈاکٹر زاور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعیناتی اور اُن سے ملازمت کے دوران ایمانداری سے اپنے فرائض کو بجا لانا تھاجہاں تک بات ہے ادویات کی اُس کی سستے داموں فراہمی ایک خواب ہی رہا ہے پنجاب کے ہسپتالوں میں قائم کیے گئے ادویات کے سٹو روں سے اکثر مریضوں اور انکے لواحقین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ یہاں سے جان بچانے والی یا دیگر اہم ادویات دستیاب نہیں ہوتیں جس کے لئے انہیں بازار سے مہنگی ادویات خریدنی پڑتی ہیں اور ڈاکٹرز کی اکثریت چاہے وہ پرائیویٹ ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں تعینات نسخے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات لکھ دیتے ہیں ،سانچ کے قارئین کرام !گزشتہ روز ایک موقر قومی اخبار کی خبر کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں نو سے پندرہ فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے پہلے خبر پر نظر ڈالتے ہیں "ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے دواؤں کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد اضافہ کر تے ہوئے اُس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے ،نوٹی فکیشن کے مطابق قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ تمام ادویات کی کمپنیوں کو دوا کی پیکنگ پر لازمی تحریر کرنا ہوگا،دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے کافی عرصے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا،اس ضمن میں یہ کمپنیاں سپریم کورٹ بھی گئیں اور انہوں نے ادویات کی فراہمی بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں یہ اضافہ کیا ہے" ۔سانچ کے قارئین کرام !کہا جارہا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا کیونکہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال اور پیکنگ میٹریل کے نرخوں میں اضافہ ہوا اور مہنگی گیس بجلی سے انڈسٹری پر بوجھ بڑھا جس کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ،جیسے کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہمارے ہاں پہلے ہی مایوس کُن ہے اوپر سے مزید متوسط اور غریب طبقہ پر بجلی گرا دی گئی جس سے مہنگائی کی چکی میں پستے افراد کے لئے جینا ہی مشکل بنا دیا گیا عوامی سطح پر ابھی پہلے ہی بجلی ،گیس اور اس سے جڑی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا رونا رویا جارہا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم عوام کو ایک اور جھٹکا لگا دیا گیا ،حکومت کو ادویات کی فراہمی سستی کرنے کے ساتھ اِنکے معیار کوبہتر بنانا انتہائی اہم ہے ،ایسا نہ ہو کہ متوسط غریب طبقہ جو پہلے ہی مہنگا ئی کی چکی میں پس رہا ہے کو غیر معیاری ادویات موت کے قریب لے جائیں یہ المیہ ہے کہ وطن عزیز میں راتوں رات امیر بننے کے چکر میں معاشرے کے ناسور ملاوٹ کرتے ہیں اور پھر اسی ناجائز دولت کے بل بوتے پر معزز بن کر عوام کی ہمددری کا ڈھونگ رچاتے ہیں حکومت وقت کو متوسط اور غریب عوام کے لئے فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں تمام ضروری ادویات کی مفت فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کے لئے واضح عملی اقدامات کرنا ہونگے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دوچار دن میڈیا پر تو بیانات کا سلسلہ جاری رہے بعدازاں عوام کو ادویات بنانے والی دوا ساز کمپنیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے ٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66330 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2019 Views: 446

Comments

آپ کی رائے