ایمانداری

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انیلہ نثار
کچن میں پانی ختم ہو چکا ہے۔ آپ صبح جلدی اٹھ کر پانی بھر لیجیے گا، ایسا نہ ہو کہ اوپر والے جاگ جائیں۔ جانتے ہیں نا لسٹ میں ہمارے پانی کا استعمال کم جانا چاہیے، عبداﷲ کی امی اس کے ابو سے رازداری سے بات کر رہی تھیں۔ عبداﷲ کے ابو صبح فجر کے وقت اٹھ کے پانی کے کین بھرنے لگے۔ عبداﷲ کی امی نے اسے بھی نماز کے لیے جاگا دیا۔ وہ نماز پڑھنے ابو کے ساتھ مسجد گیا اور اپنا حفظ قرآن کا سبق یاد کرنے لگا۔ سبق یاد کرنے کے بعد ناشتہ کرنے گھر آیا تو دیکھا کہ اوپر والے انکل کام کے لیے جا رہے تھے۔ امی نے ناشتہ دیا اور ابو کو کہا کہ آپ ایک کین پانی کا اوربھر لیں دن کے استعمال کے لیے۔ عبداﷲ نے یہ سنا تو کہنے لگا امی آپ ڈرم سے استعمال کر لیجیے گا، امی نے عبداﷲ کو ڈانٹتے ہوئے کہا عبداﷲ آپ چپ ہو کہ ناشتہ کرو۔ امی ابو اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے اورعبداﷲ ناشتہ کر نے کے بعد دوبارہ مدرسہ چلا گیا۔ واپس آ کر ٹیوشن گیا، وہاں استانی آج جھوٹ اور ایمانداری پہ سمجھا رہی تھیں اور عبداﷲ گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا۔

آج جب عبداﷲ گھر لوٹا تو کافی پریشان لگ رہا تھا۔ بہن نے پوچھا لیکن خاموشی سادھ لی اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اسی طرح شام ہو گئی۔ امی بھی نوٹ کر رہی تھیں کہ آج عبداﷲ کافی خاموش ہے۔ آخر رات کے کھانے پہ جب سب اکھٹے ہوئے تو امی نے عبداﷲ کے ابو سے کہا کہ آج عبداﷲ کافی چپ چپ ہے۔ آخر ابو نے بھی پوچھ ہی لیا، ’’کیا ہوا عبداﷲ بیٹا آج سب آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، آپ آج کیوں الگ تھلگ ہو سب سے؟ کون سی بات آپ کو پریشان کر رہی ہے‘‘؟۔ نہیں ابو میں پریشان نہیں، بس مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا صیح ہے اور کیا غلط؟

’’ابو آج ٹیوشن والی مس نے ہمیں بہت سی باتیں بتائیں اور کہانی بھی سنائی‘‘، عبداﷲ نے کہا۔ ’’کیا کیا بتایا تماری استانی صاحبہ نے‘‘، امی نے حیرت سے پوچھا تو عبدااﷲ بتانے لگا کہ ’’مس نے بتایاتھا کہ کوئی ایسی بات جو کسی کے لیے جاننا ضروری ہو اور ہم اس بات کو نہ صرف چھپائیں بلکہ اس کی جگہ کوئی غلط بات بیان کریں جھوٹ کہلاتا ہے۔کسی کہ ساتھ کوئی زیادتی کرنا یا جان بوجھ کہ کچھ غلط کرنا بے ایمانی کہلاتی ہے اور اگر ہم کبھی بھول کر بھی اپنے جھوٹ یا بے ایمانی کے ساتھ اﷲ کو منسلک کر دیتے ہیں تو اس کا حساب ہمیں اﷲ پاک کو لازمی دینا ہوگا کیونکہ ہم جس انسان کے ساتھ بے ایمانی کرتے ہیں یا جھوٹ بولتے ہیں اگروہ انسان نہیں بھی جانتا اسے معلوم نہ بھی ہو پر اﷲ پاک تو ہمیں دیکھتا ہے وہ بھی ہر وقت۔ ابو جی اورمس تو یہ بھی بول رہی تھیں کہ جھوٹے انسان کا کوئی اعتبار بھی نہیں کرتا بھلے وہ جھوٹ کہ بعد سچ ہی کیوں نہ بولے ۔

ماشاء اﷲ آپ کو تو آپ کی مس نے بہت ہی عمدہ باتیں بتائیں ہیں اور آپ کو سب یاد بھی ہیں۔ میرے بیٹے آپ ان پر ہمیشہ عمل بھی کرنا۔ ابو نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ یہ جواب سنتے ہی عبداﷲ سوچ میں پڑ گیا تو بہن نے پوچھا اب اس میں اتنے سوچنے والی کیا بات ہے؟ عبداﷲ نے بہن کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر یہ ساری باتیں بہت اچھی ہیں تو پھر ہم ان پر عمل کیوں نہیں کر سکتے۔ اس پر عمل نہیں ہو سکتا میں اسی لیے پریشا ن ہوں۔ کھل کہ بولو عبداﷲ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ امی نے تجسس سے پوچھا۔امی جیسے مس نے بتایا تھا کہ کوئی ایسی بات جو کسی کے لیے جاننا ضروری ہو اور ہم اس بات کو نہ صرف چھپائیں بلکہ اس کی جگہ کوئی غلط بات بیان کریں جھوٹ کہلاتا ہے۔ تو ہم بھی تو جھوٹے ہوئے نا پھر؟ دیکھو ہم اوپر والی انکل آنٹی کو سچ نہیں بتاتے کہ ہم ان سے زیادہ پانی چھپ کر استعمال کرتے ہیں بلکہ ہم تو ان کو روز ہی جھوٹ بولتے ہیں۔

اسی طرح جب ان کو پانی کا بل ادا کرنا ہو گا تو وہ ہمارے استعمال شدہ پانی کا بھی بل ادا کریں گے کیوں کہ ان کو تو ہماری سچائی نہیں پتا۔ امی اور ابو پہلے دن ان کو بول رہے تھے کہ ہم کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے اگر کریں تو ہمیں اﷲ پوچھے تو اس طرح اﷲ ہمیں سزا لازمی دے گا۔ ہم تو باربار چھپ کے کین بھی بھرتے ہیں اور جب وہ لوگ نہیں ہوتے تو نل میں بھی پانی استعمال کرتے ہیں۔ میں اسی لیے صبح سے پریشان ہوں کہ ایک تو ہم جھوٹ بولتے ہیں اوربے ایمانی بھی کرتے ہیں اور اﷲ پاک کو بھی اپنے جھوٹ کے ساتھ شامل کرتے ہیں اور باجی جس دن ان کو ہمارا سچ پتہ چل گیا اس دن سے وہ کبھی بھی ہماری کسی بات کا یقین نہیں کریں گے۔ امی ابو جو خاموشی سے یہ باتیں سن رہے تھے فورا بولے عبداﷲ آپ چھوٹے ہیں ابھی، جا کر اپنے کمرے میں آرام کریں۔ عبداﷲ اپنے ذہن میں بہت سارے سوالات لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور امی بھی کچن سمیٹ کر آرام کرنے چلی گئیں۔

ایک دن اچانک عبداﷲ کے بڑے بھائی رحمن امی کو زور زور سے آواز دیتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ امی کچن سے ہاتھ صاف کر تی ہوئیں باہر آئیں تو رحمن نے بتایا کہ امی اس بار بجلی کا بل بہت ہی زیادہ آیا ہے کہاں سے دیں گے اتنا بل، امی بجلی کا بل دیکھتے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں اور بجلی والوں کو کوسنے لگیں۔ عبداﷲ جو پاس ہی بیٹھا اپنے ریاضی کے سوالات حل کر رہا تھا یہ سب سن کے بولا میری مس نے یہ بھی کہا تھا کہ زیادتی اور بے ایمانی کی سزا اﷲ پاک دنیا میں ہی دے دیتا ہے آپ نے اوپر والوں سے جھوٹ بول کر پانی کے پیسے زیادہ لیے اور اﷲ پاک اب بل کے ذریعے آپ سے و ہ پیسے وصول کر رہے ہیں۔
یہ بات سنتے ہی امی شرمندگی کے ساتھ اپنے کمرے میں گئیں جہاں عبداﷲ کے ابو بیٹھے تلاوت کر رہے تھے۔ عبداﷲ کی امی کو ایسے دیکھ کر پوچھا کیا ہوا؟ تو آنکھوں میں آنسو لیے اس کی امی نے کہا آج واقعی مجھے احساس ہوا ہم اپنے بچوں کی تربیت کرنے کے لیے بہتر والدین نہیں ہیں۔ ہم ان کو اچھی اچھی باتیں بتاتے تو ہیں ان کوقرآن و سنت پہ عمل کرنے کے مشورہ تو دیتے ہیں لیکن ہم خود اس پہ عمل نہیں کرتے اور بچے تو باتوں سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ ہم سے توبہتر عبداﷲ کی استانی صاحبہ ہیں۔ مجھے بھی اس دن عبداﷲ کی باتیں سن کر شدت سے اس بات کا احساس ہوا۔ عبداﷲ کی والد نے سر جھکا کر جواب دیا اور اسی شرمندگی کے ساتھ دونوں نے عہد کیا کہ آئندہ وہ نہ تو کبھی جھوٹ بولیں گے اور نہ کبھی کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497347 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2019 Views: 694

Comments

آپ کی رائے