میرے بولتے ہاتھ اور سُنتی آنکھیں

(M H Babar, )
’’سائن لینگوئج ‘‘قوت سماعت سے محروم افراد کی مادری زبان پر خصوصی تحریر

بینش توصیف خان ، لاہور
اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بے پنا ہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم ان صلاحتیوں میں سی کسی ایک صلاحیت کے بغیر بھی جینے کا تصور کریں تو ایک لمحے میں اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے لیے قوت ِ گویائی عطا فرمائی ۔ گفتگو کے لیے دنیا بھر میں قومی اور علاقائی لحاظ سے مختلف زبانوں کا استعمال ہوتاہے۔ ہر زبان کی ایک الگ اہمیت اور خوبصورتی ہے۔ ان زبانوں میں ایک زبان ایسی بھی ہے جو باقی زبانوں سے نہ صرف مختلف بلکہ اس میں تخلیقی عنصر پایا جاتا ہے۔’’سائن لینگوئج ‘‘جسے اشاراتی زبان بھی کہا جاتا ہے ۔یہ محروم سماعت افراد کی مادری زبان ہے۔ محروم سماعت افراد سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں، ان سے بات چیت کے لیے ’’سائن لینگوئج ‘‘ کا استعمال اولین ترجیح ہے۔ یہ ایک بصری اور دستی زبان ہے۔جس میں نظر ، ہاتھوں کے اشاروں ، چہرے کے تاثرات ، سر اور جسم کی حرکات کا مخصوص طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ایک تخمینے کے مطابق دنیا کی 5 فیصد سے زیادہ آبادی سماعت سے محروم ہے۔ قوتِ گویائی اور سماعت سے محرومیت بہت تکلیف دہ صورتحال ہے۔ اس محرومی کی وجہ سے انسان نہ تو دوسرے انسان کی بات چیت سُن سکتا ہے اور نہ ہی اپنی بات کا اظہار کرپاتا ہے۔ایسے افراد سے رابطے کے لیے ’’سائن لینگوئج ‘‘ (اشاراتی زبان ) ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں محروم سماعت افراد کو وہ حیثیت نہیں دی جاتی جو عام افراد کو ملتی ہے۔جبکہ محروم سماعت افراد بھی اسی دنیا اور معاشرے کا حصہ ہیں ۔محروم سماعت افراد ’’سائن لینگوئج ‘‘ کے ذریعے اپنی گفتگو اور احساسات بیان کر سکتے ہیں۔ محروم سماعت بچوں کے لیے سپیشل ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے بھی الگ سے ہوتے ہیں۔ جہاں ’’سائن لینگوئج ‘‘ اولین ترجیح ہے اوراساتذہ اسی زبان کے ذریعے انہیں تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر بدقسمتی سے ایسے افراد کو گھر میں گفتگو کا موقع نہیں مل پاتا کیونکہ والدین ، بہن بھائی یا دیگر افراد ’’سائن لینگوئج ‘‘معلوم نہ ہونے کی وجہ سے محروم سماعت افراد سے بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ ہاتھ کے چند سادہ اشاروں سے بات چیت سمجھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر مکمل بات نہیں سمجھ پاتے ۔ جس کی وجہ سے یہ محروم سماعت افراد الگ تھلگ ہو کر بیٹھے رہنے کی وجہ سے جارحانہ طبعیت کا شکار ہوجاتے ہے۔ بین الاقوامی ممالک میں محروم سماعت (ڈیف ) بچوں کو بچپن ہی سے ’’سائن لینگوئج ‘‘ سکھانا شروع کردی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اس کی تربیت دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے ۔ بچے کے ابتدائی سال یونہی گزار دئیے جاتے ہیں اور جب اُسے سکول میں داخل کروایا جاتا ہے ، تب وہ اپنی مادری زبان سے آشنا ہوتا ہے ۔ چونکہ گھر والے انکے جذبات اور گفتگو کو اہمیت نہیں دیتے اس لیے وہ انکی زبان سیکھنے کو بھی اہمیت نہیں دیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ محروم سماعت افراد اپنی ہی ڈیف کمیونیٹی میں زیادہ خوش رہتے ہیں جہاں وہ آپس میں اپنی بات چیت کا اظہار کرتے ہیں ۔’’سائن لینگوئج ‘‘معلوم نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کی ضروریات اور جذبات سے انجان رہتے ہیں ۔ گفتگو کے اس خلا کی وجہ سے محروم سماعت افراد معاشرتی ، قانونی اورشرعی حقوق سے لاعلم ہوتے ہیں اور انکی اس لاعلمی کا ناجائز فائدہ بھی اُٹھایا جاتا ہے ۔’’سائن لینگوئج ‘‘کی آگاہی اور اسکی اہمیت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کئی والدین اپنے محروم سماعت بچوں کی شادی نارمل افراد سے کرنے پر بضد رہتے ہیں ۔جس کے نتیجے میں محروم سماعت افراد کواپنی اذدواجی زندگی میں بھی کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے شریک حیات سے بات چیت کے لیے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ازدواجی زندگی میں بھی نا خوش رہتے ہیں۔ جبکہ ایسے افراداپنی ہی کمیونیٹی میں شادی کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ ’’سائن لینگوئج ‘‘ (اشاراتی زبان )کے ذریعے انہیں بات چیت کرنے میں آسانی رہے۔ گفتگو کے اسی خلا کی وجہ سے انہیں ملازمت میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے ان افراد کو ملازمت کے مواقع بھی کم فراہم ہوتے ہیں۔دورِ حاضر میں محروم سماعت افراد کے بول چال کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے’’ سپیچ تھراپی‘‘ اور’’ سائن لینگوئج‘‘ پر کا م ہو ا بھی ہے اور مزید توجہ بھی دی جارہی ہے۔سپیشل ایجوکیشن سے متعلقہ کچھ اداروں نے ’’سائن لینگوئج ‘‘ کی کتابیں بھی ترتیب دی ہیں اور مزید آسانی کے لیے اب ویڈیوز کی شکل میں بھی انٹرنیٹ پر ’’سائن لینگوئج ‘‘کی سہولت موجود ہے۔اسکے علاوہ اب ان افراد سے بات چیت کے لیے پروفیشنل ’’سائن لینگوئج ‘‘ انٹرپریٹر ز (مترجم)کی سہولت بھی موجود ہے ۔مختلف زبانوں کی طرح ہر ملک کی سائن لینگوئج بھی مختلف ہے ۔ جیسے پاکستان سائن لینگوئج (PSL) ، امریکن سائن لینگوئج (ASL) ، برٹش سائن لینگوئج (BSL) ، انڈین سائن لینگوئج (ISL) کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ مگر محروم سماعت افراد کو اﷲ تعالیٰ نے خاص حِس عطافرمائی ہے کہ وہ جس میں ملک سے ہوں آپس میں سائن لینگوئج کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کے اشاروں کو سمجھ لیتے ہیں۔ محروم سماعت افراد سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ انکی گفتگو اور جذبات کو سمجھنے کے لیے ’’سائن لینگوئج ‘‘ ضرور سیکھیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M H Babar

Read More Articles by M H Babar: 74 Articles with 24031 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2019 Views: 303

Comments

آپ کی رائے