درد دل

(عبیداللہ لطیف, Faisalabad)

منقول

وہ ناشتہ کر رہی تھی مگر اس کی نظر امی پر جمی ہوئی تھی, ادھر امی ذرا سی غافل ہوئی. ادھر اس نے ایک روٹی لپٹ کر اپنی پتلون کی جیب میں ڈال لی. وہ سمجھتی تھی کہ امی کو خبر نہیں ہوئی-
مگر وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ ماؤں کو ہر بات کی خبر ہوتی ہے-
وہ سکول جانے کے لئے گھر سے باہر نکلی اور پھر تعاقب شروع ہو گیا.
تعاقب کرنے والا ایک آدمی تھا.
وہ اپنے تعاقب سے بے خبر کندھوں پر سکول بیگ لٹکائے اچھلتی کودتی چلی جا رہی تھی.
جب وہ سکول پہنچی تو. . .
دعا شروع ہو چکی تھی-
وہ بھاگ کر دعا میں شامل ہو گئی.
بھاگنے کی وجہ سے روٹی سرک کر اس کی جیب میں سے باہر جھانکنے لگی
اس کی سہیلیاں یہ منظر دیکھ کر مسکرانے لگیں
مگر وہ اپنا سر جھکائے، آنکھیں بند کیے پورےانہماک سے جانے کس کے لئے دعا مانگ رہی تھی.
تعاقب کرنے والا اوٹ میں چھپا اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا-
دعا کے بعد وہ اپنی کلاس میں آ گئی.
باقی وقت پڑھنے لکھنے میں گزرا
مگر اس نے روٹی نہیں کھائی-
گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی اسکول سے چھٹی کا اعلان ہوا تمام بچے باہر کی طرف لپکے.
اب وہ بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی-
مگر اس بار اس نے اپنا راستہ بدل لیا تھا.
تعاقب کرنے والا اب بھی تعاقب جاری رکھے ھوئے تھا-
پھر اس نے دیکھا وہ بچی ایک جھونپڑی کے سامنے رکی. جھونپڑی کے باہر ایک بچہ منتظر نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
اس بچی نے اپنی پتلون کی جیب میں سے روٹی نکال کر اس بچے کے حوالے کر دی.
بچے کی آنکھیں جگمگانے لگیں-
اب وہ بے صبری سے نوالے چبا رہا تھا.
بچی آگے بڑھ گئی.
مگر تعاقب کرنے والے کے پاؤں پتھر ہو چکے تھے.
وہ آوازوں کی باز گشت سن رہا تھا.
لگتا ہے. . . . .
کہ اپنی منی بیمار ہے-
کیوں. . . . کیا ہوا ...؟
اس کے پیٹ میں کیڑے ہیں.
ناشتہ کرنے کے باوجود ایک روٹی اپنے ساتھ اسکول لے کر جاتی ہے
وہ بھی چوری سے- یہ اس کی بیوی تھی.
کیا آپ کی بیٹی گھر سے کھانا کھا کر نہیں آتی.
کیوں. . . کیا ہوا...؟
روزانہ اس کی جیب میں
ایک روٹی ہوتی ہے-یہ کلاس ٹیچر تھی.....
وہ جب اپنے گھر میں داخل ہوا
تو اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے-
ابو جی. . . . . .
ابو جی. . . . . . کہتے ہوئے منی اس کی گود میں سوار ہو گئی..
کچھ پتا چلا. اس کی بیوی نے پوچھا.
ہاں. . . !!
پیٹ میں کیڑا نہیں ہے.
درد دل کا مرض ہے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 106 Articles with 118113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2019 Views: 273

Comments

آپ کی رائے