نتیش اور ادھو : منافقت پہ جنہیں اختیار حاصل ہے

(Dr Salim Khan, India)

رائج الوقت سیاست کی معرفت کے لیے ادھو ٹھاکرے اور نتیش کمار میں فرق سمجھ لینا کافی ہے۔ یہ دونوں فی الحال بی جے پی کے سیاسی محاذ این ڈی اے میں شامل ہیں۔ یعنی ان کا ڈی این اےیکساں ہے۔ ان لوگوں کی طبیعت سیماب صفت ہے۔ یہ لوگ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتے۔ ان کا موقف بدلتا رہتا ہے اور اسی کے ساتھ ان کے دوست اور دشمن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ بی جے پی کے ساتھ ان کا تعلق عاشق و معشوق کا سا ہے کہ یہ سب حسب ِ موقع ایک دوسرےکو روٹھنے اور منانے میں لگے رہتے ہیں ۔نتیش اور ادھو جب کمل سے ناراض ہوتے ہیں تو سرِ بازار اس کو ذلیل و خوار کرتے ہیں اور جب خوش ہوتے ہیں تو اس کی ساری کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے جئے جئے کار کرتے پھرتے ہیں۔ مختلف مواقع پر یہ قومی جمہوری محاذ ( این ڈی اے) سےکنارہ کش بھی ہوچکے ہیں اور پھر اس میں شامل بھی ہوگئے ۔ ان کے آنے جانے کو بی جے پی دل پر نہیں لیتی۔ وہ جانتی ہے یہ سوریہ ونشی ابن الوقت اپنی فطرت سے مجبور ہیں اس لیےہنستے کھیلتے برداشت کرلیتی ہے۔ بقول علامہ اقبال (ترمیم کی معذرت کے ساتھ) ؎
جہاں میں اہل شیطاں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِ دھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِ دھر نہیں نکلے

نتیش کمار نے ۲۰۱۴؁ کے انتخابات سے قبل مودی جی کو امیدوار بنائے جانے پر بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ یہ سودہ ان کو مہنگا پڑا اور مودی لہر میں وہ تنکہ کی مانند بہہ گئے۔ اپنے وزیر اعلیٰ ہونے زعم میں انہوں نے تنہاانتخاب لڑا اور ایسی شکست سے دوچار ہوئے کہ ۲۰ سے ۲ یعنی ۱۰ فیصد پر پہنچ گئے۔ اس کے برعکس شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور زبردست کامیابی حاصل کی ۔ مہاراشٹر کے اندر بال ٹھاکرے کے زمانے میں شیوسینا کا کردار بڑے بھائی کا تھا لیکن وقت کے ساتھ بی جے پینے قدم جمالیے۔ اس کے بعد یہ نوبت آئی کہ قومی انتخاب میں بی جے پی کو زیادہ اور صوبائی میں شیوسینا کا پلڑا بھاری رہتا تھا ۔اب حالت یہ ہے قومی اور صوبائی دونوں سطح پر بی جے پی کو برتری حاصل ہوگئی ہے لیکن شیوسینا اس کا ضمیمہ بنی ہوئی ہے۔ اس کو خوف ہے کہ این ڈی اے سے نکلنے کی صورت میں اس کے ارکان اسمبلی وزارت کی لالچ میں پارٹی چھوڑ کربی جےپی میں چلے جائیں گے لیکن اپنے کارکنان کو بی جے پی سے دور رکھنے کے لیے عوامی سطح پر طنز و تشنیع کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ منافقانہ رویہ اس شعر کی مانند ہے؎
منافقت پہ جنہیں اختیار حاصل ہے
وہ عرض کرتے ہیں تجھ سے گلہ نہیں کرتے

مہاراشٹر میں پہلی مرتبہ جب ۱۹۹۵؁ کے اندر کانگریس کو شکست دے کر یہ زعفرانی اتحاد برسرِ اقتدار آیا تو شیوسینا کے منوہر جوشی کووزیراعلیٰ اور بی جے پی کے گوپی ناتھ منڈے کو نائب وزیراعلیٰ کا عہدے پر فائزکیا گیاتھا۔ ۱۹۹۹؁ میں اگلے انتخاب کے پیش نظرسینا پرمکھ بال ٹھاکرے نے جوشی کو ہٹا کر رانے کو وزیراعلیٰ بنادیا لیکن وہ تجربہ ناکام ہوا۔ کانگریس دوبارہ اقتدار میں آگئی اورنارائن رانے نے ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کرکے سوابھیمان مورچہ بنالیا شیوسینا کو خیر باد کرنے کے بعد رانے کانگریس سے ہوتے ہوئے بالآخر بی جے پی کے دام میں جا پھنسے ۔ انہیں اب یقین ہوچلا ہے کہ بی جے پی ٹکٹ نہیں دے گی اس لیے اب وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ان کی حالتِ غیر محسن بھوپالی کے اس شعر کی مصداق ہے ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ اِ دھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

قومی انتخاب میں شکست کی ذمہ داری قبول کرکے نتیش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا نیزجتن رام مانجھی کو وزیراعلیٰ کا بنا دیا ۔ مانجھی کے بارے میں نتیش کو یہ خوش فہمی تھی چونکہ وہ نہایت پسماندہ طبقہ سے آتے ہیں اس لیے جب ان سے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا جائے گا وہ ہاتھ جوڑ کر چلے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ریاستی انتخاب سے قبل جب مانجھی کوکشتی کی پتوار لوٹانے کے لیے کہا گیاتو انہوں نے انکار کردیا ۔ اس کا لازمی بزورِ قوت برطرفی تھا۔ نتیش کمارکا ساتھ چھوڑتے ہی جتن کمار مانجھی نے بھی رانے کے سوابھیمان مورچہ کی مانند ہندوستان عوام مورچہ قائم کیا اور بی جے پی سے بغلگیر ہو گئے ۔ نتیش کمار کے الگ ہوجانے سے این ڈی اے میں بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا تھا جسے مانجھی، پاسوان اور خشواہا سے پورا کیا گیا ۔ اب جبکہ نتیش کمار واپس این ڈی اے میں آچکے ہیں بی جے پی نے خشواہا اور مانجھی کو نکال باہر کیا ۔ نتیش کمار کے یو پی اے سے نکل آنے کے سبب وہاں خلاء پیدا ہوگیا ہے اس لیے مانجھی اور خشواہا نے اپنے آپ کو وہاں فٹ کردیا ۔ جتن کمار مانجھی اور نارائن رانے جیسےخزاں رسیدہ پتوں پر یہ شعر صادق آتاہے؎
یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے

نتیش کمار نے ایک ہارے ہوئے سپاہی کی مانند بی جے پی کی پناہ میں جانے کے بجائے اس کے خلاف ایک نئی بساط بچھائی ۔ ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی کو ناقابلِ تسخیر سمجھا جارہا تھا نتیش کمار نے بہار میں مہاگٹھ بندھن کا تجربہ کیا ۔ اس اتحاد کا سہرہ بنیادی طور لالو یادو کے سر تھاکیونکہ جب مرکزی حکومت نتیش کمار کے خلاف سازش کرکے انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے پر تلی ہوئی تھی تو آر جے ڈی کی حمایت نے اسے بچالیا لالو یادو نے کانگریس اور نتیش کے ساتھ مل کر ایک مہا گٹھ بندھن بنایا جس نے خلاف توقع این ڈی اے کو چاروں خانے چت کردیا ۔ بہار کی زبردست شکست نے مودی اور شاہ کا دماغ درست کردیا۔ بی جے پی تیسرے نمبر پر اور آر جے ڈی پہلے مقام پر آگئی۔ اس طرح گویا ماضی کی شکست کا ماتم کرنے بجائےنتیش کمار نےمہاگٹھ بندھن میں شامل ہوکر بی جے پی کو پچھاڑ دیا ۔ محسن بھوپالی کا یہ شعر اسیبات کی نصیحت کرتا ہے ؎
جو آنے والے ہیں موسم انہیں شمار میں رکھ
جو دن گزر گئے ان کو گنا نہیں کرتے

صوبائی انتخاب میں مہا گٹھ بندھن نے بی جے پی کو۹۱ سے گھٹا کر ۵۳ پر پہنچادیا ۔ نتیش کی جے ڈی یو بھی آر جے ڈی کی مدد سے ۴۴ کا نقصان اٹھانےکے باوجود ۷۱ نشستوں پر کامیاب رہی ۔ اسمبلی میں دوسرے نمبر پر ہونے کے باوجود نتیش نے وزیراعلیٰ کاعہدہ ہتھیا لیا ۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے نتیش کمار کو سرجن گھوٹالے میں گھیر کر دباو بڑھایا تو وہ جے ڈی یو کو چھوڑ کراین ڈی اے میں لوٹ آئے اوربی جے پی کی حمایت سے اقتدار پر قبضہ بنائے رکھا ۔ جے ڈی یو کے پاس چونکہ آر جے ڈی کم نشستیں تھی اس لیے نتیش کمار کا اقتدارلالو یادو کے مرہونِ منت تھا اور وہ ہمیشہ دباو میں رہتے تھے ۔ اپنے سے کمزور بی جے پی کو پارٹنر بناکر وہ شیر بن گئے۔ یوں سمجھ لیں کہ مہاگٹھ بندھن میں جے ڈی یو قوام تھی اس کے برعکس بی جے پی کےسشیل مودی کو اپنا نائب بناکر نتیش کمار نے صوبائی بی جےپی پر اپنی قوامیت مسلط کردی ۔ سیکولرزم اور فسطائیت کی دہائی دینے والے اس نزاکت کو نہیں سمجھنے پانے کی وجہ سے نتیش کمار کی ابن الوقتی کو کوستے ہیںجبکہ آج کل کےتمام سیاستدانوں پریہ شعر صادق آتا ہے ؎
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

مہاراشٹر میں قومی انتخاب کے چند ماہ بعد ہی صوبائی الیکشن آگئے ۔ اس وقت مودی لہر بامِ شباب پر تھی اس کے چلتے شاہ جی نے ادھوٹھاکرےکا ساتھ چھوڑ کر تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد میں کامیابی کے لیے لازم تھا کہ کانگریس اور این سی پی کے اتحاد کو توڑا جاتا کیونکہ ان کی متحدہ طاقت کا مقابلہ کرنا بی جے پی کے بس کا روگ نہیں تھا ۔ اس لیے ریاستی انتخاب میں این سی پی کے کانگریس سے الگ ہوجانے کے بعد ہی بی جے پی نے شیوسینا سے اپنا رشتہ منقطع کیا ۔مہاراشٹر کے اندراین سی پی بھی جے ڈی یو کی طرح ایک سیکولر علاقائی جماعت کی ہے۔ شردپواربلاواسطہ بی جے پی کا تعاون تو کرسکتے ہیں مگر اس کی حکومت میں شامل ہونے کا خطرہ نہیں مول لیتے ۔پوارنہ توادھو کی مانند پوری طرح مجبور ہیں اور نہ نتیش کی طرح مادر پدر آزاد ۔ این سی پی کے خنجر گھونپنے کی وجہ ممکن ہے نتیش کی طرح کا بلیک میل رہا ہویا کوئی اور مجبوری اس لیے کانگریس نے اسے نظر انداز کردیابقول شاعر ؎
نہ دیکھا جان کے اس نے کوئی سبب ہوگا
اسی خیال سے ہم دل برا نہیں کرتے

یہ ایک حقیقت ہے کہ شرد پوار کی بلاواسطہ مدد کے بغیر بی جے پی کےلیے شیوسینا کو طلاق دینا ممکن نہیں تھا شاہ جی کی اس حکمت عملی کا زبردست فائدہ ہوا ۔ وہ اپنے بل بوتے پر شیوسینا سے آگے نکل گئے۔ اکثریت سے محرومی کے باوجود اپنا وزیر اعلیٰ بنا لیا ۔ اسمبلی کے اندر اقلیت میں ہونے پر بھی این سی پی کے بلاواسطہ تعاون یعنی وا ک آوٹ کے سبب اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا اور ساری اہم وزارتیں آپس میںتقسیم کرلیں۔ شیوسینا حسرت بھری نگاہوں سے سب دیکھتی رہی یہاں تک کہ شاہ جی کو رحم آگیا ۔مہاراشٹر میں بی جے پی نے برضا و رغبت شیوسینا کو ساتھ نہیں لیا بلکہ وہ ایک مجبوری تھی۔ اسمبلی کے جملہ ۲۸۸ ارکان میں بی جے پی کے صرف ۱۲۲ تھے ۔ اس کو معمولی اکثریت کے لیے ۲۳ مزید ارکان کی حمایت درکار تھی ۔ اس لیے ہندوتوا کا بہانہ بنا کر شیوسینا کو گلے لگا لیا گیانیز بچی کھچی غیر اہم وزارتوں تھما دی گئیں۔ شیوسینک اس وقت غالب کا یہ شعر گنگنا رہے ہوں گے؎
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس ذودپشیماں کا پشیماں ہونا

مہاراشٹر کے اندرلوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کو ۲۳ اور شیوسینا کو ۱۸ مقامات پر کامیابی ملی تھی ۔ ابھی حال میں بہار کے اندرجب شاہ جی نے رام ولاس پاسوان کے لیے ۶ نشستیں چھوڑ کر نتیش کمار سے نصف نصف کرلیا تو ادھو ٹھاکرے کے حوصلے بلند ہوگئے ۔ وہ بھی بڑے بڑے مطالبات کرنے لگے لیکن شاہ جی انہیں بری طرح پھٹکار دیا۔ لاتور میں پارٹی کارکنا ن کو دوسروں پر انحصار نہ کرنے کی تلقنا کی اور اپنے بل بوتے پر انتخاب لڑنے کی تیاری پر زور دیا ۔ شاہ جی بولے اگروہ (یعنی شیوسینا )ہمارے ساتھ آئیں تو ہم ان کی کامیابی کو یقینی بنائیں گےورنہ پٹخ دیں گے ۔انہوں نے ۴۸ میں سے ۴۰ نشستوں پر کامیابی درج کرانے کا عزم کیا تاکہ مخالفین(بشمول شیوسینا)کو دل کا دورہ پڑجائے گا۔شاہ جی اس لب و و لہجے میںنتیش کمار سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے ۔ اپنے قدیم ترین ہندوتووادی حامی شیوسینا کے برعکس بہار میں خود کو سیکولر کہنے والے نتیش کمار کے ساتھ شاہ جی کا رویہ کیوں مختلف ہے؟ اس سوال پر ادھو ٹھاکرے جب بھی غور کرتے ہوں گے تو ان کے ذہن میں اکبر الہ بادی کا یہ شعر ضرور آجاتا ہوگا؎
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

یہ حسن اتفاق ہے جے ڈی یو اور شیوسینا کا انتخابی نشان تیر کمان ہےلیکن نظریاتی سطح پر جے ڈی یو اور بی جے پی میں بُعد پایا جاتا ہے جبکہ شیوسینا اور بی جے پی میں فکری ہم آہنگی ہے۔ اس لیے نتیش کمار کے مقابلے ادھو ٹھاکرے بہتر سلوک کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ نتیش کمار نے حکومت کے تین طلاق بل کی کھل کر مخالفت کی ہے ۔ چراغ پاسوان نے صاف کہا کہآئندہ انتخاب رام مندر کے مسئلہ پر نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد پر لڑا جائے گا جبکہ شیوسینا رام مندر کے معاملے میں بی جے پی سے بھی زیادہ پرجوش ہے ۔ اس نے ایوان پارلیمان میں پہلے مندر پھر سرکار کا نعرہ بلند کیا اس کے باوجود بی جے پی اس کو اپنے قریب کرنے کے بجائے دور کیوں کرتی ہے اور نتیش و پاسوان کو قریب رکھنے کی وجہ کیا ہے؟بی جے پی کے ناروا سلوک پر شیوسینا کو یہ سوال کرنا چاہیے ؎
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی وعدہ یعنی نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مہاراشٹر اور بہار کی سیاسی صورتحال میں ایک یکسانیت یہ ہے کہ دونوں مقامات پر دو طاقتور علاقائی جماعتیں ہیں۔ بہار میں لالو کی آرجے ڈی اور نتیش کی جے ڈی یو ہے تو مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور شرد پوار کی این سی پی ہے۔ جس طرح آر جے ڈی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی صورت بی جے پی کے ساتھ نہیں جاسکتی اسی طرح شیوسیناکی مشکل ہے کہ وہ چاہ کر بھی کانگریس کی حمایت نہیں کرسکتی اور اگر کرے بھی تو کانگریس کو اس کا قبول کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ بی جے پی کوشیوسینا کی اس مجبوری کا احساس ہے ۔ شیوسینا کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی اس کی تضحیک کرتی ہے۔ اس کو شیوسینا سے یہ خطرہ نہیں ہے کہ وہ کانگریس اور این سی پی کے ساتھ ہاتھ ملا کرکمل کو دھول چٹا دے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ شیوسینا کے ہندوتوواد نے اسے سیاسی اچھوت بنا دیا ہے۔رام مندر جیسے مسائل کو اٹھاکر وہ اپنی ذلت و رسوائی میں اضافہ کررہی ہے۔ شیوسینا کی حالت زار پر آتش کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
کسی نے مول نہ پوچھا دلِ شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

مہاراشٹر کے اندر فی الحال این سی پی نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے لیے چند نشستیں چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ اس کے باوجود این سی پی کی بی جے پی سے آشنائیڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وہ شادی کے بندھن سے آزاد ہونےکے باوجود ایک دوسرے کے کام آتے ہیں جبکہ شیوسینا بی جے پی لڑنے جھگڑنے والی زوجہ ہے۔بی جے پی جب چاہتی ہےاپنی اس جیون ساتھی کو یکمشت تین طلاق دے کر نکال دیتی ہے اور بغیر حلالہ کہ گھر میں بلالیتی ہے۔ نتیش وہ ہرجائی معشوق ہے جو حسبِ ضرورت خلع لے کر پرانے ناطے توڑ دیتا ہے اور نئے رشتے قائم کرلیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ادھو کے مقابلے نتیش کی ناز برداری کی جاتی ہے۔اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جے ڈی یو نے بی جے پی سے رفاقت کے باوجود اپنی سیکولر شبیہ کو محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ وہ متنازع معاملات میں بی جے پی سے اتفاق نہیں کرتی بلکہ مخالفت تک کردیتی ہے اس لیے بے دھڑک یوپی اے یا این ڈی اے میں آتی جاتی رہتی ہے۔ ایسے میں جوشعر نتیش کمار بی جےپی سے کہتے ہیں وہی شاہ جی شیوسینا کو سنا دیتے ہیں ؎
تو ہے ہر جائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

بہار کے اندر گزشتہ قومی انتخابات میں بی جے پی ۲۲ اور اس کی حامی ایل جے پی کو ۶ نیز آر ایس ایل پی کو ۳ مقامات پر کامیابی ملی تھی ۔ اس طرح گویا این ڈی نے ۴۰ میں سے جملہ ۳۱ مقامات پر اپنا پرچم لہرایا تھا اس کے برخلاف نتیش کمار کی جے ڈی یو ۲ پرتھی یعنی خشواہا سے بھی ایک نشست کم ۔ اس کے باوجود بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ نے ۲۰۱۹؁ انتخاب کے لیے جے ڈی یو کے ساتھ الحاق کرکے صرف ۱۷ پر راضی ہوگئے یعنی میدان میں اترنے سے قبل ۵ سیٹوں کا نقصان گوارہ کرلیا اور صرف ۲ سیٹیں جیتنے والےنتیش کی ۱۷ پر حمایت کا اعلان کردیا ۔ اپنے سب سے کمزور ساتھی آر ایس ایل پی کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر اس کی لاش سڑک پر پھینک دی مگر ایل جے پی کو ۶ نشستیں دے کر اس کا ماتھا چوم لیا۔ نتیش کمار کے آگے شاہ جی کا یہ ساشٹانگ نمسکار(سجدۂ تعظیمی ) ان کے جیسے رعونت پسند رہنما کے لیے جگر مرادآبادی کے اس شعر کی مصداق تھا؎
یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجیئے
ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1199 Articles with 434209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2019 Views: 320

Comments

آپ کی رائے