اللہ بے حیائی کو مہلت نہیں دیتا

(Faisal Ramzan, )

 گذشتہ دنوں ایک صحافی دوست سے معلوم ہوا کہ تحصیل لاوہ چکوال کے ایک گاؤں میں ایک نومولود بچی لاوارث حالت میں پڑی ہوئی ملی گاؤں کا ایک مقامی شخص اس بچی کو اپنے گھرلے آیا اوراسے اپنی بچی بناکر پالنا شروع کردیا اورآج یہ ننھی جان ڈیڑھ سال کی ہوگئی ہے ۔اللہ ہم پر اپنا خاص کرم کرے ہم گناہوں میں اتنا گر چکے ہیں کہ دردانسانیت کا جذبہ ہم سے روٹھ چکاہے اس بدبخت جوڑے نے گناہ سے بچاؤ کی خاطراس ننھی جان کو ویرانے میں پھینک کر ایک اورکبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا یاوہ بدبخت ماں باپ جو لڑکیوں کی پیدائش پر خوش نہیں ہوتے انہوں نے ایسے گھٹیا پن کامظاہرہ کیا ہولیکن مذکورہ واقعے سے لگتا ہے کہ یہاں کنواری ماں نے یہ حرکت کی ہے وگرنہ نکاح جیسے مقدس رشتے میں بندھ کر کوئی ماں یوں اپنی ممتا کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاسکتی نبی اکرم صلی الله عليه و آلہ وسلم نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں، ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب اور شائستہ ناموں سے کریں گے، شراب نوشی کریں گے مگر نام بدل دیں گے، سود خوری کریں گے اور اس کو نام کچھ اور دے دیں گے۔ غور کیا جائے تو یہ برائی کی سب سے بدترین صورت ہوتی ہے، کیوں کہ ا س میں بھلائی کے لبادے میں برائی کی جاتی ہے، تہذیب کے نام پر بد تہذیبی کو روا رکھا جاتا ہے، آزادی کے نام پر نفس کی غلامی کی راہ ہموار کی جاتی ہے، جس وقت اسلام دنیا میں آیا اس وقت بھی کم وبیش یہی حالت تھی، اہل عرب اپنے کو دین ابراہیمی کا پیروکار کہتے تھے، لیکن پوری طرح شرک میں ملوث تھے۔جب کوئی انسانی گروہ گناہ کا عادی ہوجاتا ہے اور جان بوجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا طریقہ ٴ کار یہی ہوتا ہے کہ وہ بدی کو نیکی اور برائی کو اچھائی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے، مغربی تہذیب نے آج یہی صورت اختیار کررکھی ہے، آج بہت سی مسلمہ اخلاقی برائیاں، تہذیب وثقافت کے نام سے رائج ہوگئی ہیں، جو لوگ اس سے اختلاف رکھتے ہوں، اسے براجانتے ہوں، ان کو تہذیب جدید سے نا آشنا، بنیاد پرست اور انتہاء پسند جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔ پوری قوت کے ساتھ اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ طوعاً یا کرہاً مغربی ثقافت وتہذیب کو اہل مشرق پر مسلط کر دیاجائے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ”فحاشی اور بے حیائی“ کا فتنہ ہے جو ”روشن خیالی“ کے نام سے پروان چڑھایاجارہا ہے۔قرآن کریم میں جابجا ”فحاشی“ کی مذمت اور اسے شیطان کا عمل قراردیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:”اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کااوربھلائی کرنے کا اورقرابت والوں کے دینے کا اورمنع کرتا ہے بے حیائی سے اورنامعقول کام سے اور سرکشی سے۔“

جب کسی معاشرے میں فحاشی کا رواج ہو وہاں بے غیرتی وبے حمیتی عام ہوجاتی ہے، جذبہٴ دینی ماند پڑ جاتا ہے، اسلام وایمان کے لئے زندہ رہنے کی فکر وقوت کمزور ہوجاتی ہے - گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک خداداد پاکستان میں فحاشی اور بے حیائی کا سیلاب جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، یہ ایک افسوس ناک اور خطرناک صورت حال ہے، جس کا سد باب ضروری ہے، ورنہ فحاشی اور بے حیائی کا یہ سیلاب پورے ملک کو لے ڈوبے گا۔ کسی غیر اسلامی معاشرہ میں فحاشی اور بے حیائی کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، مگر کسی اسلامی ملک میں خصوصاً وہ ملک جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو فحاشی اور بے حیائی کا ابھرنا ایک لمحہ فکریہ ہے!! جنسی اشتعال انگیزی پر مشتمل حیا باختہ عورتوں کی تصاویر اس قدر عام ہوگئی ہیں کہ گھریلو استعمال کی عام اشیاء کو بھی ان سے آلودہ کردیا گیا، اخبارات ورسائل کے سر ورق پر فلمی اور ماڈلنگ کی دنیا کی نیم عریاں تصویروں کا چھپنا ایک عام معمول ہے، جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی، وہ ٹی وی چینلوں اور فیشن شوزنے پوری کردی، فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے برقی آلات گھر گھر عام کردیئے گئے ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل کمپنیوں کے نت نئے پیکجز اور اسکیمیں اس وبا کو عام کرنے میں مؤثر کردار ادا کررہی ہیں اور یہ برقی آلات جس قدر کم قیمت پر پاکستان میں میسر ہیں، پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں، یہ مغربی قوتوں کا ایک خاص منصوبہ ہے جس کے تحت یہ سب کچھ بڑھایاجارہا ہے۔

حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے کہ ہر دین کا ایک مخصوص شعار ہوتا ہے اور اسلام کا شعار ”حیا“ ہے۔ سورة النور اور سورة الاحزاب میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اپنی نظروں اور عزتوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے، جب کہ مؤمن عورتوں کو صاف صاف انداز میں بتایاگیا ہے کہ ان کا لباس کیا ہے اور کس حلیہ میں ان کو اپنے گھروں سے باہر نکلنا چاہئے۔ سورة الاحزاب میں بے پردگی کو جاہلیت کے اس زمانہ سے جوڑا گیا ہے جب عورتیں بناؤ سنگھار کرکے باہر نکلتی تھیں، مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے”حیا اور بے پردگی“ کے بارے میں ان واضح احکامات کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کھلم کھلا بےحیائی اورفحاشی کو فروغ دیا جارہا ہے افسوس اس بات کا نہیں کہ مغرب زدہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہمارے معاشرتی اقدار کو کس انداز میں تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، مگر رنج تو یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے واضح احکامات اور آئین پاکستان کے اس وعدے کے باجود کہ پاکستان میں دینی شعار اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسا ماحول پیدا کیا جائے گا جہاں مسلمان قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں، اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں۔ کچھ معلوم نہیں کس نے اس طرز کی بے حیائی اور فحاشی پھیلا رکھی ہے اور کوئی روک ٹوک نہ ہونے کی وجہ سےہم مغرب اور انڈیا کی طرح عریانیت کی طرف نکل گئے ہیں اگر ہمارے سیاست دان، پارلیمنٹ، حکومت ، عدلیہ، میڈیا اور عوام اسی بے حسی کا شکار رہے تو پھر مغرب کی طرح ہم بھی اخلاقی پستی کی حدوں کو چھوکررہیں گے۔ہمارے پاس تو ویسے بھی شرم وحیا اور اخلاقی ومعاشرتی اقدار کے علاوہ اب کچھ بچاہی نہیں! ہمارے یہی اقدار ہمیں مغرب سے نمایاں کرتے ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کی حفاظت نہ کی اور اپنے آپ کو ہوا کے سپرد کردیا کہ جہاں چاہے اڑالے جائے تو ہم مکمل تباہ ہوجائیں گے۔ یہ موجودہ خاموشی اور یہ بے حسی انتہائی تکلیف دہ ہے۔ کاش ہمیں احساس ہوجائے کہ اگر اس عریانیت اور فحاشی پر آج ہم اس لئے خاموش رہے کہ فیشن شوز اور واہیات ٹی وی چینلز پر کام کرنے والی لڑکیاں اور عورتیں ہماری اپنی بچیاں نہیں تو یادرہے کہ کل ان لڑکیوں اور عورتوں کی جگہ آج کے تماش بینوں اور بے حس معاشرہ کے دوسرے افراد اور ذمہ داروں میں سے کسی کی بھی بیٹی، بیوی، بہن یا ماں نیم عریاں لباس میں ہزاروں لوگوں کے سامنے بے حیائی اورفحاشی پھیلانے کا ارتکاب کررہی ہوگی ہر شخص اپنا ایک حلقہ اثر رکھتا ہے، اپنے گھر اپنے محلہ اپنے قبیلہ اپنی مسجد اپنی جماعت میں اس آگ کو بجھانے کے لئے آواز بلندکی جائے خطباء منبر ومحراب، واعظین، مقررین اسٹیج اور اہل علم اپنے قلم سے اس وبا سے بچانے کے لئے صدائیں لگائیں، ان نالوں کا زیادہ نہ سہی، اثر ضرور پڑے گا۔ اس لئے کہ ہم سب کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ جس مسلم معاشرے میں برائی کے خلاف آواز اٹھانے والے نہ رہیں، قدرت کی طرف سے اس کی تباہی میں پھر زیادہ دیر نہیں لگتی اللہ ہم سب کاحامی وناصر ہو-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Ramzan

Read More Articles by Faisal Ramzan: 16 Articles with 5991 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2019 Views: 667

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ