سفاکیت کی انتہا

(Tariq Hussain Butt, UAE)

انسانی جان تمام مذاہب میں تکریم اور تقدس کی علامت ہے ۔اقوامِ متحدہ کی بنیادیں بھی انسانی حرمت کے قانون پر رکھی گئی ہیں۔اس نے اقوامِ عالم کو اس بات کا پابند کیا ہوا ہے کہ وہ انسانی حرمت کیلئے قوانین مرتب کریں تا کہ ہر شہری بلا خوف و خطر اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر سکے ۔انسانی جان کی حرمت کا سب سے پہلا داعی اسلام ہے ۔تمام عالمی تنظیموں نے اسی کے سنہری اصولوں سے اپنے چارٹر میں روشنی بھری ہے ۔قانون و انصاف کا سنہری اصول ہے کہ کوئی مجرم بھلے ہی چھوٹ جائے لیکن کوئی بیگناہ سزا کا مستوجب نہیں ہو نا چائیے ۔ یہ انسانی جان کی تکریم کا نادر دیباچہ ہے لہذا انسان کی عزت و آبراور جان کو ہر شہ پر فوقیت حاصل ہے لہذا دنیا میں جہاں کہیں بھی جورو ستم یا ظلم وجبر کا ماحول ہو گااس کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے اور دنیا کی مہذب اقوام اس کی حمائت کرتی ہیں ۔ آزادی کی ساری تحریکیں دنیا میں انسانی حرمت کی خاطرپرپا ہوئی تھیں تا کہ انسانیت بڑے طمطراق سے اپنی تخلیق کے مقاصد کی جانب محوِ سفر ہو سکے۔حکومتوں کاکام اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہو تا ہے۔مثالی حکمران انصاف، رحمدلی ، سادگی اور کفائت شعاری کی علامت ہو تا ہے تا کہ شہریوں کے مال و دولت کا تحفظ ممکن ہو سکے اور انھیں فوری انصاف میسر ہو سکے ۔اسلامی ریاست کے خلفائے راشدین سادگی کا نمونہ تھے عدل و انصاف اورصداقت کا پیکر تھے ۔یہ بات نہیں کہ اس وقت تعیشت اور عیش وعشرت کا رواج نہیں تھابلکہ سچ تو یہ کہ اس وقت کی دو بڑی سپر طاقتوں ایران اور روم کے شہنشاہ عوام کے پیسوں پر عیش و عشرت کے محل تعمیر کرتے تھے اسلام کی آواز اس طرح کی تعیشت اور جبر کے خلاف تھی اور اس کے پیرو کاروں نے اپنے پاکیزہ اعمال، عدل و انصاف اور جوابدہی سے اپنی لازوال کمٹمنٹ کے مظاہرہ سے تاریخ کو انمول کر دیا۔احتساب کا عمل سب سے پہلے خود پر لاگو کیا تب کہیں جا کر تاریخ نے انھیں عدل و صداقت کا استعارہ بنایا۔دوسرں کی جوابدہی کا شغف تو بادشاہوں کا خاصہ تھا لیکں اپنوں کی جوابدہی کا عملی مظاہرہ اسلام کے پیرو کاروں کی پہچان تھا اور اسی پہچان نے انھیں دنیا میں سرفراز کیا جس پر اہلِ جہاں نے ان کی عظمتوں کے گن گائے۔،۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں انسانی حقوق کی پامالی کا مشاہدہ روز مرہ کا معمول ہے۔ یہاں پر جاگیر داروں،سرمایہ داروں ، وڈیروں، صنعتکاروں اور سرداروں نے ملکی نظام ِحکومت کو یر غمال بنا رکھا ہے ۔ پولیس ان کے اشاروں پر عمل داری اپنے لئے سعادت تصور کرتی ہے لہذ اان کی مرضی کے بغیر ایف آئی آرتک درج نہیں ہوتی۔ ان کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا کیونکہ تمام ادارے ان کے حاشیہ بردار ہو تے ہیں ۔ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ملک میں اعلی قوانین کی کمی ہے بلکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ قانون کو اس کی روح کے مطابق نافذ نہیں کیا جاتا ۔ ہمارے ہاں دو قوانین لاگو ہیں ایک قانون وہ ہے جو اشرافیہ کیلئے ہے اور ایک قانون وہ ہے جو محروم طبقات کیلئے ہے۔کمزور کو جب جی چاہتا ہے کچل دیا جاتا ہے جبکہ اشرافیہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے افراد کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے کہ وہ جس کو جی چاہے راستہ سے ہٹا دے اور جسے چاہے ہتھکڑیوں میں جکڑ دے۔ہمارے ہاں اس طرح کے واقعات اکثرو بیشتر ہوتے ہیں جس میں پولیس شترِ بے مہار بن کر عوام کو گولیوں سے بھون د یتی ہے ۔ ان کیلئے انسانی جان کی کوئی حرمت نہیں ہوتی بلکہ وہ قانون کی طاقت میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ ان کی نظر میں انسان کیڑے مکوڑوں سے بھی کمتر دکھائی دیتا ہے۔یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ ساہیوال کے المناک واقعہ نے جنم لیا ہے بلکہ ہماری تاریخ ایسے شرمناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔راؤ انوار کا معا ملہ ہو یا پھر ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ہو پولیس کی سفاکیاں ہماری تاریخ کے ماتھے کو داغدار کرتی رہتی ہیں ۔ ایک خاندان جو شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے عازمِ سفر تھا اسے گاڑی سے اتار کر معصوم بچوں کے سامنے قتل کر دیا گیا اور پھر اس پر اتنے جھوٹ بولے گے کہ انسان شسدر رہ جائے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں جس میں کسی بھی بات کو چھپانا ممکن نہیں ہے پولیس آج بھی کسی پرانے د ور میں زندہ ہے اور سفاکیت کے ایسے گھناؤنے اعمال کا مظاہرہ کر رہی ہے کہ انسانیت اپنا منہ چھپا نے پر مجبور ہے۔ساہیوال واقعہ اس لحاظ سے بد ترین ہے کہ اس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کا قتل کیا گیا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کسی کی جان و آبرو محفوظ نہیں ہے۔پولیس جسے چاہے گی اور جب چاہے گی اس کا قتلِ عام کر دے گی اور کوئی ان سے باز پرس نہیں کر سکے گا۔ہم نے ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کو سیاسی بنا دیا اور ان لوگوں کے نام قاتلوں کی فہرست میں ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس کے شواہد موجود نہیں تھے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مقدمہ طوالت اختیار کر گیا ۔اگر اس مقدمہ میں گولیوں چلانے والوں اور اپریشن کا حکم دینے والوں کے خلاف مقدمہ کو محدود رکھا جاتا تو بہت سے چہروں سے پردہ اٹھ سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔اب بھی اسی سوچ کی عکاسی ہو رہی ہے۔کیا عمران خان ساہیوال سانحہ میں ملوث ہو سکتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ پھر اپوزیشن ان کا استعفی کیوں مانگ مانگ رہی ہے؟ ساہیوال سانحہ تو عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک بد نما دھبہ ہے لہذا وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف سازش کیوں کریں گے؟ہم سیاست بازی میں اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہم جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ باعثِ عمل بھی ہے یا کہ نہیں؟ یہ سچ ہے کہ ساہیوال کا واقعہ عمران خان کی حکومت کے دوران پیش آیاحالانکہ وہ پولیس دہشتگردی کے شدید مخالف ہیں ۔ستم ظریفی دیکھئے کہ کہ ان کے اپنے وزراء واقعہ کو مشکوک بنا رہے ہیں اور حکومتی دعووں کے خلاف اس واقعہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان کو کسی کی نہیں سننی چائیے بلکہ اس میں ملوث پولیس افسراں اور اپریشن کا حکم دینے والے افراد کے خلاف مقدمہ دائر کر کے ان کو عبرت کی مثال بنا ناچائیے۔یہ سچ ہے کہ حکومت کا کام اپنے اہلکاروں کے افعال کادفاع ہو تا ہے لیکن جب افعال انسانی جانوں سے کھیلنے لگ جائیں تو ان کا دفاع کرنا حکوت کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔بہت سے وزرااس سانحے کے اثر کو کم کرنے کیلئے یہی کچھ کر رہے ہیں جس سے حکومت کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے ۔عمران خان اپنے جرات مندانہ موقف کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جا سکتاہے لیکن انسانی حقوق کی عظمت اور کرپشن کے خلاف ان کی جدو جہد سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔وہ پاکستان میں امید کا استعارہ ہیں ۔لوگ ان سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور ان سے قانون کی بہتر حکمرانی کی ا مید لگائے ہوئے ہیں۔کیا قانون کی حکمرانی اسی کا نام ہے کہ کسی بے گناہ خاندان کو سرِ عام گولیوں سے بھون دیا جائے اور ان کی اولاد کو اپنے والدین کا قتل کا نظارہ کرنے کیلئے زندہ چھوڑ دیا جائے ۔ سفاکیت کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن لگتا ہے کہ ہماری پولیس سفاکیت کی ساری حدیں پھلانگ چکی ہے۔ عمران خان کا امیج ایک سچے ،کھرے ،دیانت دار اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے والے قائد کا ہے جسے ساہیوال واقعہ نے بری طرح سے مجروح کر دیا ہے۔انھیں اس سانحے کو منطقی انجام تک پنچانے کیلئے کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دینی چائیے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ ایک عظیم سانحہ ہے لیکن اسی سانحے سے قانون کی حکمرانی کا نیاراستہ تراشا جا سکتا ہے۔چین نے چیرمین ماؤزے تنگ کی موت پر اس کے غم کو طاقت میں بدل دینے کا عہد کیا تھا جس سے چین دنیا کی سپر پاور بن چکا ہے لہذاہمیں بھی ساہیوال سانحہ جیسے واقعات کا راستہ روک کر نئی تاریخ رقم کرنے کا عہد کرنا ہو گا ۔ہمیں ماضی کے واقعات کو کھنگالنے اور الزمات کو دہرانے کی بجائے قانون کی حکمرانی کو یقین بنانا ہو گا ۔یہ راہ ریاست کی فتح،انسانیت کی فتح ، حکوت کی فتح اور عمران خان کی فتح کی راہ ہو گی ۔ عمران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کہ وہ انسانی عظمت کی فتح چاہتے ہیں یا مشیروں کی دکھائی گئی بھول بھلیوں میں الجھ کر اپنا تشخص تباہ کرنا چاہتے ہیں؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 286 Print Article Print
About the Author: Tariq Hussain Butt

Read More Articles by Tariq Hussain Butt: 476 Articles with 168662 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: