تماشا جاری ہے

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
پٹاری کو سامنے رکھ کر مجمع لگایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے پٹاری میں شیش ناگ ہے ۔ نئی نسل اس تماشے کو امید بھرے اشتیاق سے دیکھتی ہے ۔مگر اسے حقیقت کا احساس ہوتا ہے تو اس کی جوانی بیت چکی ہوتی ہے ۔ وہ مجمع چھوڑ کر چل پڑتی ہے تو نئی نسل نئی امیدوں سے تماشے کا حصہ بنتی ہے ۔ تماشا جاری ہے ۔ ۔۔

پروڈا
( Public Representation Office Disqualification Act )
نامی قانوں تو16 جنوری 1949 کو متعارف کرایا گیاتھا مگر اسے لاگو اگست 1949 سے کیا گیا تھا۔اس قانون کی زد میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ اور ان کے وکیل حسین شہید سہروردی آئے۔قائد اعظم کی وفات کے بعد ان کے بنگالی ساتھی حسین شہید سہروردی ہی ایسی شخصیت تھے جو اس ملک کے حقیقی سویلین خیر خواہ تھے مگر ان کا بنگالی ہونا ریاست کے کچھ مقتدر لوگوں کو کھٹکتا تھا۔ البتہ 1949میں اس ایکٹ کے ذریعے ان سے نجات حاصل کر لی گئی۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ پیر الہی بخش کو کرپٹ نا اہل کر دیا گیا۔1956 میں مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ ابو القاسم فضل الحق کر ہٹا دیا گیا۔ یہ وہی فضل الحق تھے جنھوں نے لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد لاہور پیش کی تھی جو بعد میں قرارداد لاہور کے نام سے مشہور ہوئی۔1959 میں جنرل ایوب غداروں کو روکنے کا اپنا قانون لائے جس کو پوڈو
Public Office Disqualification Order
کہا گیا۔ اس آرڈر میں جنرل ایوب صاحب نے مزید ترمیم کر کے اسے ایبڈو
Effective Bodies Disqualification Order
کا نام دے دیا۔ اس قانون کے تحت قریب 70 اور 80 کے عدد کے درمیان سیاستدانوں پرغداری اور کرپشن کا الزام لگایا گیا۔ مغربی پاکستان سے قیوم خان بھی اس کی زد میں آئے ۔ایوب خان کے خلاف راولپنڈی پولی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے ایک طالب علم عبد الحمید نے لیاقت باغ کے گیٹ کے سامنے ایوب کتا کا نعرہ لگایا تو پولیس نے اس گولی مار کر خاموش کر دیا تو غداری کے الزامات اپنی موت آپ ہی مر گئے۔ لفظ ْ غدار ْ زہریلے سانپ جیسی گالی ہوا کرتا تھا۔ یہ گالی سیاستدانوں کو پڑنا شروع ہوئی تو اس لفظ کی تلخی کم ہونا شروع ہوئی اور جب پاکستان کے ایک سابقہ وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کو غدار اور بھونکنے والا کتا کہا گیا تو جیسے سانپ کے دانت نگل گئے ہوں لفظ غدار کے خلاف پائی جانے والی نفرت کم ہو گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کو ْ انڈیا کا ایجنٹ اور غدارنامی سانپْ نے ڈسنے ہی سے انکار کر دیا ۔معاشروں کو ایسے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے جو حریف کا کلیچہ چیر کے رکھ دے۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں مخالفین کے لیے سیاست کی پٹاری سے سانپ کی بجائے ْ کافرْ نام کا نیا و تازہ خنجر نما فتویٰ برآمد کیا گیا۔اور ذولفقار علی بھٹو کے عقائدکے گلے پر پھرنے کی کوشش کی گئی۔ ملک کے ایک معروف صحافی نے لکھا کہ یہ شخص ہندو ہے اور اس کا نام و نسب بھی لکھ ڈالا مگر چھری نے گلا کاٹنے سے انکار کردیا۔ْ کافرْ نامی خنجرکارزار سیاست میں نامراد ہوا۔

موجودہ دور میں ْ کرپٹ ْ ایسی گالی ہے جو ہر حریف کے سینے پر ٹھاہ کر کے لگتی ہے۔ مگر ہماری عدالتوں میں ہوئی بحثوں اور میڈیا پر چلائی مہموں کے بعد عوام میں اس گالی کی سختی بھی معدوم ہوتی جارہی ہے ۔ چند سال پہلے کسی کو کرپٹ کہا جائے تو اس کا چہرہ غصے سے لال اور رویہ پیلا ہو جاتا تھا۔ اب یہ الزام سن کر لوگ ہنس دیتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ لفظ کرپٹ کا بھی استعمال سیاسی ہو گیا ہے۔

ملک میں کرپشن کا احساس1949 میں ہی ہو گیا تھا بلکہ کہا گیا کہ پاکستان کی پیدائش کے دن ہی کرپشن کے شیطان نے بھی جنم لے لیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خلاف پہلا قانون 1949 میں بنا مگر اسے نافذ 14 اگست 1947 سے کیا گیا۔

جنرل ایوب نے مارشل لاء لگانے کے بعد اپنے عزیز ہم وطنوں کو بتایا کہ ملک میں کرپشن کے برگد کا درخت بہت تناور ہو گیا ہے اور وہ اس کو جڑوں سے اکھاڑ دیں گے ۔ البتہ اقتدار پر قبضہ کر لینے کے بعد عوام کو نہ درخت نظر آیا نہ اس کی جڑیں نکال کر عوام کو دکھائی گئیں البتہ 1990 میں بے نظیر بھٹو کو کرپشن کے الزامات پر نکال باہر کیا تو کرپشن کو پکڑنے کے لیے پہلی بار 20 لوگون کو پرائیویٹ طور پر بی بی کی کرپشن کا سراغ لگانے کے کیے تعینات کیا گیا۔ 1992 میں صدر نے نواز شریف کو نکالا تو ان پر بھی کرپشن ہی کے الزامات لگے۔

1993میں بی بی دوبارہ وزیر اعظم بنیں تو نواز شریف کے خلاف موٹر وے اور یلو کیب سکیم میں کرپشن کے الزامات سامنے آئے۔ قومی بنکوں سے قرض معاف کرانے اور پنجاب میں کواپریٹو سوسائیٹیزکے ذریعے بڑی رقوم کے غبن کے الزامات سامنے آئے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف مجموعی طور پر150 مقدمات قائم ہوئے۔

1996میں صدر نے وزیر اعظم بی بی کو بر طرف کیا تو ان پر بھی کرپشن ہی کے الزامت لگائے گئے۔ اس بار کرپشن کا سراغ لگانے کے لیے احتساب آرڈیننس لایا گیا اور عوام کو بتایا گیا کہ احتساب 1985 سے شروع کیا جائے گا۔

1997 میں نوازشریف کی د وبارہ حکومت بنی تو نیا احتساب بل لایا گیا۔ اور سیف الرحمن کو احتساب کا کام سونپا گیا۔ 1998 میں احتساب سیل کانام احتساب بیورو رکھ دیا گیا۔ اس بار نشانہ بے نظیر، ان کے خاوند آصف علی زرداری اور دوسرے سیاسی مخالفین بنے ۔ اس بار احتساب کی زد میں کراچی کے تاجر بھی آئے۔1999 میں بے نظیر کی ملک سے غیر موجودگی کے دوران بی بی اور زرداری پر کرپشن ثابت ہو گئی اور دونوں کو پانچ پانچ سال جیل اور 86 لاکھ ڈالر جرمانہ کی سزا سنا دی گئی۔ زرداری صاحب کو جیل بھیج دیا گیا ۔

1999 میں جنرل مشرف نے نیب National Accountabilty Bureo متعارف کرایا۔ نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ بغیر عدالتی مقدمے کے کسی بھی فرد کو 90 دن تک زیر حراست رکھ سکتا ہے۔ 90 دن کے بعد بھی ملزم کو اپیل کا حق نہیں ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے ساتھی جنرل سید امجد حسین کو نیب کا چیرمین مقرر کیاتو عوام نے دیکھا کہ جنرل امجد کے کہنے پر کسی تاجر کو ہتھکڑی لگتی تھی تووزیر اعظم شوکت عزیز کے کہنے پر وہ ہتھکڑی کھل جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد نے اپنے ملک میں امیر شہزادوں اور تاجروں سے پیسے نکلوانے کے لیے ہمارے نیب کے ماڈل کو استعمال کیا تھا۔

اکتوبر 2007 میں جنرل مشرف نے این آر او جاری کیا۔ جس کے تحت سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور بیوروکریسی کے خلاف مقدمات ختم کردے گئے۔ البتہ 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ نے این ٓر او کے قانون ہی کو منسوخ کر دیا۔

اس بار نیب کی زد میں آ کر نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے سیل نمبر 1 میں ان کے بھائی شہباز شریف اسی جیل کے سیل نمبر 3 میں بند ہیں۔ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں وفاقی وزراء بتاتے ہیں کہ وہ بھی جلد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوں گے ۔ اس بار نیب کی سعی کے پیچھے سیاسی قوت تحریک انصاف کی ہے۔ تحریک انصاف کے چیرمین کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین کی سند عطا کر کے ملک میں موجود چوروں اور ڈاکووں کا احتساب کرنے کا حق دے دیا ہوا ہے۔

احتساب ایسی پٹاری ہے جس کو سامنے رکھ کر مجمع لگایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے پٹاری میں شیش ناگ ہے ۔ یہ تماشا پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی شروع کر دیا گیا تھا ۔ نئی نسل اس تماشے کو امید بھرے اشتیاق سے دیکھتی ہے ۔مگر اسے حقیقت کا احساس ہوتا ہے تو اس کی جوانی بیت چکی ہوتی ہے ۔ وہ مجمع چھوڑ کر چل پڑتی ہے تو نئی نسل نئی امیدوں سے تماشے کا حصہ بنتی ہے ۔ تماشا جاری ہے ۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 399 Print Article Print
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 93 Articles with 35059 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: