دعوے اور عمل

(Ansar Usmani, Karachi)

’’ایمپریس مارکیٹ کی تاریخ سے ہمارے بڑے بوڑھوں میں بہت سی کہانیاں موجود ہیں۔جنہوں نے اس شہر کو پھلتے پھولتے دیکھا ہے،وہ خوب جانتے ہیں کہ اس جگہ کا ہماری روح سے گہرا تعلق ہے ‘‘۔باباجی ہمیں متوجہ کرتے ہوئے کہا۔’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں ایمپریس مارکیٹ میں ٹھیلا لگاتا تھا ۔میری عمر 9سال تھی۔ ہمارا گھر ادھر جھونپڑ یوں میں ہوتا تھا۔میں دن میں آٹھ سے دس روپے کمالیتا تھا اور ہمارا کنبہ اسی میں خوش ہوجاتا تھا ۔اس مارکیٹ نے ہمارے بھوکے پیٹ پالے۔ہمیں روزگار دیا ۔دیکھو بیٹا! انسان جس جگہ سے رزق کماتا ہے،جہاں اس کا ٹھیا جم جائے ،گاہک بن جائیں ،وہ جگہ اس کا ،اس کے بچوں کا اور اس کی زندگی کا ساتھی بن جاتی ہے۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جب وہ کسی جگہ کاروبار شروع کرتے ہیں تو پہلے وہ جگہ کرائے پر لیتے ہیں۔سال بعد دکان کا مالک کرایہ میں اضافہ کردیتا ہے،تو کریہ دار وہ اضافہ بھی قبول کرلیتا ہے۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہ ،وہ دکان اس کا روزگار بن جاتی ہے۔ہونا تویہ چاہیے کہ ہر سال کے کرایے کے اضافے سے تنگ ہو کر وہ بندہ اپنی ذاتی دکان خرید لے۔یہ دیکھو میرے برابر میں ہارڈ وئیر کی دکان ہے۔بابا نے برابر والی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔یہ خان صاحب میرے بعد یہاں آئے ۔اب ان کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ یہ دکان خرید سکتے ہیں ۔مگر یہ دوسری جگہ جانے کو راضی نہیں ۔وجہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان کا کام یہاں جم چکا ہے ‘‘۔ بابا جی نے مارون سیگریٹ کا آخری کش لیا اور دھواں دوسری طرف منھ کرکے چھوڑا کہ وہ جان چکے تھے کہ میں سیگریٹ کے دھوائیں سے کھانس رہاہوں۔اور برا منھ بنا رہا ہوں۔

اچھا بابا! یہ بتایئے آپ نے آمریت کا دور بھی دیکھا ،جمہوری ادوار کو بھی قریب سے پرکھا ۔کیا لگتا ہے آپ کو یہ موجودہ حکومتی اقدامات کس قدر درست ہیں؟ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا ہے۔ حکومت پانچویں مہینے دوسرا منی بجٹ لے آئی۔سرکاری زمینوں کو واگزار کرانے کی اس مہم میں ناجانے عام عوام کا ذاتی کتنا نقصان ہوا ۔خان صاحب امداد لینے میں مصروف ہیں ۔سعودیہ ،چین ،متحدہ عرب امارات ، قطر نے اربوں ڈالر امدا د کا اعلان کیا ہے۔لیکن بے روزگار ی،مہنگائی سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک عجیب سی بے چینی عوام میں اس حکومت کو لے کر پیدا ہوچکی ہے۔باباجی نے اسکرو ڈرئیور سائڈ میں رکھا، ناک پر سے عینک کا بوجھ ہلکا کیا اور بولے ۔’’لیڈر اور سیاست دان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔سیاست دان جو ہوتے ہیں وہ ملک چلاتے ہیں۔اورلیڈر جو ہوتا ہے وہ نام چلاتا ہے۔ہٹلر لیڈر تھا اس لیے اس کا نام زندہ ہے۔یہ کوئی تک بنتی ہے کہ آپ بار بار ماضی کے چوکے چھکے یادد لاکر عوام کے بنیادی حقوق سے ان کی توجہ ہٹاتے رہو ۔آپ بتاؤ مجھے کہ حکومت نے ایمپریس مارکیٹ صاف کی ۔ہزاروں گھروں میں چھولے ٹھنڈے پڑ گئے۔ایسے اقدامات ایک لیڈر تو کر سکتا ہے،لیکن کوئی سیاست دان نہیں۔میں نے ہر دور کو کھلی آنکھ سے دیکھا ہے۔افسوس کہ ایسے حالات دیکھنے سے قبل میں مر کیوں نہیں گیا۔یہاں تک کہ کربابا جی بہت سنجیدہ ہو چکے تھے۔اور ان کی آنکھیں دکھ کا انگارہ بن چکی تھیں‘‘۔

ہم نے بھی بابا کی بات کی تائید کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی تو وہ بولے۔’’ اسٹیٹ بنک کی حالیہ معاشی رپورٹ بال کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔غریب آدمی کا بجٹ اس کی جیب پر پتھربنتا جارہا ہے۔گیس کی قیمتوں میں اضافہ ،بجلی کے آئے دن بڑے بریک ڈاؤن کی خبریں،معاشی ترقی کی شرح نمو میں اہداف سے لمبی چھلانگیں ،مالی سال 2018-2019 میں بھی خسارہ اپنے عروج پر رہے گا ۔غریب کو ان سب کے باوجود حکومت سے سوائے مایوسی ،اندھیرے کے کچھ نہیں ملا۔حالاں کہ مرکزی بنک کی رپورٹ پر نوخیز حکومت کو ہوش کے ناخون لینے چاہیے ۔اور موجودہ معاشی ،اقتصادی ،سماجی صورت حال سے عوامی مشکلات کا مداوا کرنے کی کوششیں ہونی چاہئیں ۔لیکن دوبجٹ پیش کرنے کے بعد انصافی گورنمنٹ عوام کے حالات سے انصاف نہ کر سکی۔اس حکومت میں نیت کا کھوٹ نہیں مگر مناسب حکمت عملی کا عملی مظہر بھی تو نظر نہیں آیا ۔صرف دعوے ،وعدے اور پکڑ دھکڑ سے تو ملک نہیں چلتے نا۔عوام کی مشکلات سننے کے لیے وقت ہونا چاہیے ۔ایسے تو نہیں ہوتا کہ بس اپنی سنائی جاؤاور غریب کی آوازقصہ پارینہ بن جائے‘‘۔

’’احتساب کے ساتھ جمہوری حکومتوں میں عوامی ریلیف کی پالیسیاں بھی ساتھ چلتی ہیں۔عوامی سطح پر دیکھا جائے تو کئی صنعتیں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بے روزگاری میں اضافہ کر دیا ہو۔ایک کروڑ نوکریاں تو نہ ملیں الٹا کئی لاکھ گھر وں میں فاقے پڑ گئے۔یہ سچ ہے کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و نسق میں سختی سے مالی بحران میں کمی آئی ہے مگراس پس منظر میں عوام کے حوصلے بلند نہیں ہوتے ۔معاشی ،اقتصادی ترقی کا سفر سستی روی سے چل رہا ہے۔اور جس طرح حکومت ملک کے حالات بہتر کرنے پر زور دے رہی ہے عوام کی فلاح کے لیے بھی بھر پور توجہ دیے‘‘ ۔ بابا جی کا درد دل ہمارے بھی دل کا درد بن گیا اور ہم اس امید کے ساتھ وہاں سے آگئے کہ اﷲ پاک انہیں دعوے پر عمل کرنے والا بنادے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 164 Print Article Print
About the Author: Ansar Usmani

Read More Articles by Ansar Usmani: 91 Articles with 32373 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: