ایک صحابی رسول کی ایمان افروز داستان

(Muhammad Tahir, Maneshra)

 (ایک صحابیؓ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جو ایمان لانے کے بعد کسی ادنیٰ ترین گناہ کے بھی مرتکب نہ ہوئے)

انسان فطری طور پر خیر وشر کا سر چشمہ ہے ۔جو لوگ اپنے دور جاہلیت میں بہتر ہوتے ہیں ان لوگوں میں اسلام لانے کے بعد بھی خیر وصلاح کا عنصر غالب ہوتا ہے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک جلیل القدر صحابی ؓ کی دو تصویریں ہمارے سامنے ہیں ۔ایک تصویر جاہلیت کے ہاتھوں نے بنائی اور دوسری اسلام کی انگلیوں کی مرہونِ منت ہے ۔وہ صحابی حضرت زید الخیل ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ انھیں اسی نام سے پکارتے تھے اور اسلام لانے کے بعد رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں زید ؓالخیرکے نام سے یاد فرمایا ۔عربی ادب کی کتابوں میں ان کی پہلی تصویر کے نقوش اُبھارے گئے ہیں ۔امام شیبانی نے قبیلہ بنو عامر کے ایک بزرگ کا بیان ان الفاظ میں نقل کیا ہے ۔ایک سال ہمارے علاقے میں زبردست قحط اور خشک سالی نے ایسی قیامت برپا کی کہ کھیت اور باغ سوکھنے اور جانور ہلاک ہونے لگے ،حالات کی سختی سے تنگ آکر ہمارے قبیلے کا ایک شخص اپنے اہل وعیال کو لے کر حیرے (عراق کا ایک شہر جو نجف اور کوفہ کے درمیان واقع ہے )چلا گیا اور انھیں وہاں چھوڑ کر ان سے رخصت ہوتے ہوئے بولا۔جب تک میں تمھارے پاس لوٹ کر نہ آجاؤں تم لوگ یہیں میرا انتظار کرنا ۔پھر اس نے قسم کھائی کہ میں ان کے پاس آؤں گا تو مال ودولت کے ساتھ ورنہ اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔پھر اس نے کچھ زادِ راہ اپنے ساتھ لیا اور پیدل ہی چل پڑا ،وہ دن بھر چلتا رہا ،رات کے سائے گہرے ہونے لگے تو اس نے دیکھا کہ سامنے ایک خیمہ نصب ہے اور اس کے قریب ہی گھوڑے کا ایک بچھیرا بندھا ہوا ہے ،اسے دیکھ کر اس نے اپنے دل میں کہا ۔’’ یہ پہلا مال غنیمت ہے جو میرے ہاتھ لگا ہے ۔‘‘

پھر وہ بچھیرے کے پاس پہنچا اور اس کی رسی کھولی اور ابھی اس پر سوار ہونے کا ارادہ ہی کررہا تھا کہ اس کے کانوں میں آواز آئی ’’ اسے چھوڑ دو اور جان کی خیر چاہتے ہو تو فوراََ یہاں سے چلے جاؤ ۔‘‘وہ بچھیرے کو چھوڑ کر آگے چل پڑا اور سات روز تک چلتا رہا ،چلتے چلتے وہ ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں اونٹوں کا ایک باڑا تھا ،باڑے کے قریب ہی بالوں کا ایک بہت بڑا خیمہ اور اس کے اندر چمڑے کا ایک چھوٹا سا گول خیمہ تھا۔یہ چیزیں اپنے مالک کے صاحب ثروت اور خوش حال ہونے کا پتہ دے رہی تھیں ،اس نے اپنے جی میں کہا ،اس باڑے میں رہنے والے اُونٹ بھی ہوں گے اور اس خیمے میں رہنے والے اس کے مکین بھی ،پھر اس نے خیمہ کے اندر ونی ماحول پر ایک نظر ڈالی ،سورج اب افق مغرب کے آخری سرے پر پہنچ کر غروب ہونے کی تیاری کررہا تھا ،تو اس نے خیمے کے وسط میں ایک نہایت ضعیف العمر شخص کو دیکھا ،وہ اس کے پیچھے جاکر بیٹھ گیا ،مگر بوڑھے کو اس کا بالکل علم نہیں ہوا ،چند لمحوں کے بعد آفتاب غروب ہوگیا۔اور اسے سامنے سے آتا ہوا ایک سوار نظر آیا جو بے مثل قدوقامت اور ڈیل ڈول کا مالک تھا ۔وہ ایک بلند وبالا گھوڑے پر سوار چلا آرہا تھا اور دوغلام اس کے دونوں جانب پیدل چل رہے تھے ۔باڑے میں پہنچ کر سب سے پہلے بڑا اُونٹ بیٹھا ،پھر باقی اُونٹ بھی اس کے ارد گرد بیٹھ گئے ۔ــ’’ اس اُونٹنی کو دوہو ‘‘۔سوار نے ایک موٹی سی اُونٹنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک غلام کو حکم دیا ۔’’ اور شیخ کو پلاؤ‘‘۔غلام نے فوراََ حکم کی تکمیل کی ،اُونٹنی کو دوہا اور دُودھ سے بھرا ہوا برتن بوڑھے کے آگے رکھ کر خیمے سے باہر نکل گیا ،بوڑھے نے اس میں سے ایک دو گھونٹ دُودھ پی کر برتن نیچے رکھ دیا ،اس آدمی نے کہا کہ میں آہستہ سے اس کی طرف کھسک کرگیا ،برتن اُٹھایا اور اسے منہ سے لگا کر خالی کردیا اور پھر واپس زمین پر رکھ دیا ،غلام نے آکر برتن اُٹھایا اور باہر چلا گیا اور اپنے مالک سے بولا ’’آقا ‘‘ شیخ نے پورا دُودھ پی لیا۔سوار یہ سن کر بہت خوش ہوا اور دوسری اُونٹنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اسے بھی دوہو اور شیخ کو پیش کرو۔غلام اس کا حکم بجا لایا اور دُودھ سے بھرا ہوا برتن بوڑھے کے آگے رکھ دیا ،بوڑھے نے اس میں سے صرف ایک گھونٹ پیا اور برتن نیچے رکھ دیا ۔میں نے اسے اُٹھا کر اس میں سے آدھا دُودھ پیا اور باقی دودھ اس خیال سے بچا دیا کہ کہیں سوار کے دل میں کوئی شُبہ نہ پیدا ہوجائے۔پھر سوار نے دوسرے غلام کو ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ،اس نے حسبِ حکم بکری کو ذبح کردیا ،تو سوار اُٹھ کر اس کے پاس آیا اور بوڑھے کے لیے اس میں سے کچھ گوشت بھونا اور اسے اپنے ہاتھ سے کھلایا ،جب وہ آسودہ ہوگیا تو باقی ماندہ گوشت اس نے اور اس کے دونوں غلاموں نے کھایا ،پھر وہ سب اپنے اپنے بستروں پر چلے گئے اور تھوڑی ہی دیر بعد گہری نیند میں ڈوب کر خراٹے لینے لگے،اب میں چپکے سے اُٹھ کر بڑے اُونٹ کے پاس پہنچا اور اس کی رسی کھول کر اس پر سوار ہوگیا ،اُونٹ تیزی سے چل پڑ ا ،دُوسرے اُونٹ بھی اس کے پیچھے لگ گئے ،میں رات بھر چلتا رہا ،صبح کا اُجالا پھیلنے لگا تو میں نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی ،مگر کوئی شخص میرا تعاقب کرتا ہوا نظر نہیں آیا ۔میں نے اُونٹ کی رفتار اور تیز کردی اور برابر چلتا رہا حتیٰ کہ سورج کافی بلند ہوگیا ،میں نے ایک بار پھر پیچھے مڑکر دیکھا تو دور فاصلے پر کوئی چیز نظر آئی جیسے کوئی گدھ یا کوئی دوسرا بہت بڑا پرندہ ہو،وہ چیز مجھ سے قریب ہوتی گئی ،جب اس کی شکل صاف اور واضع طور پر نظر آنے لگی تو میں نے دیکھا کہ وہ کوئی آدمی ہے جو گھوڑے پر سوار چلا آرہا ہے ،وہ برابر میرے نزدیک آتا گیا ،یہاں تک کہ میں نے اسے پہچان لیا ۔وہ وہی سوار تھا اور اُونٹوں کو تلاش کرتا ہوا یہاں تک آپہنچا تھا۔اس وقت میں نے اُونٹ کو باندھ دیا اور ترکش سے ایک تیر نکال کر کمان پر چڑھا لیااور اُونٹ کو اپنے پیچھے رکھا ،یہ دیکھ کر سوار کچھ دُور فاصلے پر رُک گیااور مجھ سے بولا : ــ’’ اُونٹ کی رسی کھول دو‘‘۔ہر گز نہیں میں اس کی رسی نہیں کھولوں گا ۔میں نے کہا میں اپنے پیچھے حیرہ میں بھوک سے بِلکتے ہوئے بچوں اور فاقہ کی سختیاں جھیلتے ہوئے پریشان حال اہل وعیال کو چھوڑ کر آیا ہوں اور یہ قسم کھائی ہے کہ میں ان کے پاس مال لے کر لوٹوں گا ورنہ اسی کوشش میں مرجاؤں گا ۔توسمجھ لو کہ تم مر چکے ہو ۔تمھارا بُرا ہو ۔اُونٹ کی رسی کھول دو ۔اس نے مجھے ڈانٹتے ہوئے گرج کر کہا ۔ہرگز نہیں کھولوں گا ،میں نے بھی اسی اندازمیں جواب دیا ۔تب اس نے کچھ نرم ہوتے ہوئے کہا : تم بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہو اور دھوکہ کھارہے ہو ،پھر بولا اچھا اُونٹ کی نکیل لٹکاؤ ،نکیل میں تین گرہیں تھیں اور بتاؤ کون سی گرہ میں تیر ماروں ۔میں نے بیچ والی گرہ کی طرف اشارہ کردیا ،اس نے تیر چھوڑا اور وہ آکر اس کے بیچوں بیچ اٹک گیا جیسے اپنے ہاتھ سے اس میں پھنسایا ہو ،پھر اس نے یکے بعد دیگرے دونوں باقی گرہوں کو بھی اپنے تیروں کا نشانہ بنالیا ۔یہ دیکھ کر میں نے اپنے تیر کوترکش میں واپس رکھ دیا اور گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا ،وہ میرے قریب آیا اور اس نے میری تلوار اور کمان کو اپنے قبضے میں کرتے ہوئے مجھ سے اپنے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ،جب میں چپ چاپ اس کے پیچھے سوار ہوگیا تو مجھ سے مخاطب ہوا ،تمہارا کیا خیال ہے ــــ․․․؟ میں تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ کروں گا ․․․؟بہت بُرا ،میں نے جواب دیا ۔یہ کیوں ․․․؟ اس نے دریافت کیا ۔اس لیے کہ میں نے تمہارے ساتھ غلط طریقہ اپنایا اور تمہیں سخت پریشانی میں مبتلا کیا اور اب اﷲ نے تمہیں میرے اُوپر قابو دے دیا ہے ۔میں نے احساسِ ندامت کے ساتھ کہا ۔اس نے کہا تم سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کوئی بُرا سلوک کروں گا ،جبکہ تم مہلہل کے ساتھ کھانے پینے میں شریک اور رات ان کے ہم نشین رہ چکے ہو ۔مہلہل کا نام سنا تو میں نے اس سے کہا کہ ’’ تم زید الخیل ہو․․․؟ ہاں میں زید الخیل ہوں ‘‘ اس نے جواب دیا ۔تب تو میں ایک بہترین شخص کا قیدی ہوں ،اُمید ہے کہ تم میرے ساتھ عمدہ اور شریفانہ برتاؤ کروگے ۔تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ،اس نے کہا اور مجھے لے کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔خدا کی قسم اگر یہ اُونٹ میرے ہوتے تو انہیں تمہارے حوالے کردیتا ،لیکن یہ میری بہن کے ہیں ،ا ب تم چند روز میرے پاس ٹھہرو ،میں عنقریب ایک جگہ حملہ کرنے والا ہوں ،اس میں مجھے کافی مالِ غنیمت ہاتھ آنے کی توقع ہے ۔اس نے منزل پر پہنچ کر مجھے اطمینان دلاتے ہوئے کہا اور تین دن کے بعد ہی اس نے بنی نُمیر پر حملہ کیا اس حملہ میں تقریباََ سواُونٹ اس کے ہاتھ آئے ،اس نے وہ سارے اُونٹ مجھے دے دیے اور میری حفاظت کے لیے اپنے کچھ غلاموں کو میرے ساتھ کردیا اور میں بخیر وعافیت حیرہ پہنچ گیا۔یہ زید الخیل کی ان کے دورِ جاہلیت کی تصویر تھی ۔ان کے زمانۂ اسلام کی تصویر کے نقوش کتبِ سیرت میں اس طرح نمایاں کیے گئے ہیں ۔جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر زید الخیل کے کانوں میں پہنچی اور وہ ان کی دعوت سے کسی قدر آگاہ ہوئے تو انھوں نے اپنی سواری کو سفر کے لیے تیار کیا اور اپنے قبیلے کے بڑے بڑے سرداروں کو یثرب چلنے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لیے بُلایا ،بنی طے کا جو وفد ان کے ساتھ روانہ ہوا اس میں زُرارہ بن سدوس ،مالک بن جبیر اور عامر ابن جُوین جیسے اکابر قبیلہ شامل تھے ۔جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے مسجد ِنبوی کا رُخ کیا اور اس کے دروازے پر پہنچ کر اپنی اپنی سواریوں سے اُتر پڑے ۔اس وقت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور مسلمانوں کو وعظ ونصیحت فرمارہے تھے ۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا خطاب سُن کر اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم کی گرویدگی اور ان کی توجہ واثر پذیری کو دیکھ کر وفد کے لوگ سخت خیران واستعجاب سے دو چار ہوئے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دیکھا تو مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : میں تمہارے لیے عزیٰ اور تمہارے دوسرے تمام معبودوں سے بہتر ہوں ،میں تمہارے لیے بہتر ہوں اس سیاہ اُونٹ سے جس کی خدا کو چھوڑ کر تم پُر ستش کرتے ہو ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ بات سُن کر زید الخیل اور ان کے ساتھیوں پر دو مختلف اور الگ الگ قسم کے اثرات مرتب ہوئے ،کچھ لوگوں نے حق کی اس دعوت پر لبیک کہا اور آگے بڑھ کر اسے قبول کرلیا اور کچھ لوگوں نے اس سے اعراض کیا اور ازراہِ تکبر اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔زُرابن سدوس نے مسلمانوں کی نگاہوں میں آپ کے لیے بے پناہ جذباتِ عقیدت واحترام کا عکس دیکھا تو وہ حسد کی آگ میں جلنے لگا اور اس کا دل خوف سے بھر گیا ،اس نے اپنے ساتھ والوں سے کہا : میری نگاہیں ایک ایسے شخص کو دیکھ رہی ہیں جس کے آگے تمام عرب کی گردنیں جھک جائیں گی ،خدا کی قسم میں ہرگز اس کے سامنے سر تسلیم واطاعت خم نہیں کرسکتا ۔اس کے بعد وہ شام کی طرف نکل گیا اور وہاں اس نے راہبوں کی طرح اپنا سر منڈاکر نصرانیت اختیار کرلی ۔ البتہ زید الخیل اور ان کے دوسرے ساتھیوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا ۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے جیسے ہی اپنا خطبہ ختم کیا ،زید الخیل مسلمانوں کے مجمع میں کھڑے ہو گئے ،وہ نہایت شکیل ووجیہہ ،متناسب الاعضاء اور طویل القامت شخص تھے ،جب گھوڑے پر سوار ہوتے تو ان کے دونوں پاؤں زمین تک پہنچ جاتے ،ایسا لگتا کہ وہ گھوڑے پر نہیں کسی گدھے پر سوار ہیں ۔انہوں نے کھڑے ہوکر اُونچی اور بلند آواز میں کہا: یا محمد اشھد ان الا الہ الا اﷲ وانک رسول اﷲ ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا: تم کون ہو ․․․؟ ’’میں زید الخیل ابن مہلہل ہوں ۔انھوں نے نہایت ادب سے جواب دیا ۔تم زید الخیل نہیں ،زید الخیر ؓ ہو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم کو یہاں تک پہنچایا اور تمہارے دل کو قبولِ اسلام کے لیے نرم کردیا ۔اس کے بعد وہ زید الخیر رضی اﷲ عنہ کے نام سے معروف ہوگئے ۔پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کو اپنے مکان پر لے گئے ۔اس وقت آپ کے ساتھ حضرت عمر ؓ ابن خطاب اور صحابہ ؓ کی ایک جماعت بھی تھی ،جب یہ لوگ گھر پہنچے تو رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے زید ؓ کے بیٹھنے کے لیے ایک مسند زمین پر ڈال دیا ۔حضرت زید ؓ نے آپ کے سامنے اس پر بیٹھنے کو بے ادبی پر محمول کرتے ہوئے اسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف واپس کردیا ،یہ عمل دونوں جانب سے تین بار دہرایا گیا۔جب سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زید الخیر ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا : زید الخیر ! تمہارے علاوہ اس سے پہلے جس کسی کے اوصاف میرے سامنے بیان کیے گئے اور بعد میں میں نے اس کو دیکھا تو اسے اس کے بیان کردہ اوصاف سے کمتر ہی پایا ،پھر فرمایا : زید ! تمہارے اندردوایسی خصلتیں ہیں جو خدا اور اس کے رسول کے نزدیک نہایت پسند یدہ اور محبوب ہیں ۔’’ اے اﷲ کے رسول وہ دونوں خصلتیں کون سی ہیں ․․․؟ زید ؓ نے پر شوق لہجے میں سوال کیا ۔’’ وقار اور حلم ‘‘ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب دیا ‘‘۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرے اندر ایسی خصلتیں پیدا کی ہیں جو اس کو اور اس کے رسول کو پسند ہیں ۔زیدؓ نے نظریں جھکائے ہوئے کہا اور خوشی ان کے لہجے سے چھلک رہی تھی ۔پھر انھوں نے سر اُٹھا کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ! آپ مجھے صرف تین سو سواروں کا ایک دستہ دے دیں میں اس بات کی آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ میں ان کو ساتھ لے بلادِ روم پر حملہ کروں گا اور زبردست فتح وکامرانی حاصل کروں گا ۔آپ صلی اﷲ علیہ سلم نے ان کی اس بلند ہمتی اور عالی حوصلگی کو دیکھا تو فرمایا : شاباش اے زید ! تم کتنے باعزم اور حوصلہ مند ہو ۔اس گفتگو کے بعد حضرت زید الخیر ؓ کے ساتھ آنے والے ان کی قوم کے تمام لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔جب حضرت زید الخیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے وطن نجد کی طرف واپسی کا ارادہ کیا تو رسول اکر م صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں رخصت کرتے ہوئے فرمایا : یہ شخص کتنا عظیم ہے ،اگر یہ مدینہ کی وبا سے محفوظ رہ گیا تو آئندہ زبردست کارنامے انجام دے گا ۔( اس زمانے میں مدینہ منورہ میں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا ) مدینہ منورہ سے روانگی کے قبل ہی حضرت زید الخیرؓ اس وبائی بخار سے متاثر ہوچکے تھے ۔انھوں نے اثناء سفر میں اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قبیلہ بنی قیس کے علاقے سے کتراکے نکل چلو ،جاہلیت میں ہمارے اور ان کے درمیام زبردست معرکہ آرائیاں اور گھمسان کی جنگیں ہوچکی ہیں اور خدا کی قسم اب میں کسی مسلمان سے جنگ کرنا نہیں چاہتا ۔حضرت زید الخیر ؓ شدید بخار کے باوجود مسلسل سفر کرتے رہے ،ان کا بخار ہر آن بڑھتا جارہا تھا ،ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے قبیلہ میں پہنچ جائیں اور قبیلہ والے ان کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوں ۔راستے بھر ان کے اور موت کے درمیان کشمکش جاری رہی ،آخر کار موت نے اس جواں حوصلہ اور پر عزم انسان کو مغلوب کرلیا۔ انھوں نے راستے ہی میں اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور خدمتِ اسلام کی تمام حسین آرزؤں کو سینے سے لگائے ہوئے اپنے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ۔انا ﷲ واناالیہ راجعون ۔
(زندگیاں صحابہؓ کی صفحہ ۱۵۹)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 690 Print Article Print
About the Author: Muhammad Tahir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ