عشق کی آگ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

رات کا تیسرا پہر تھا ایک سناٹا اور اور اس میں میری سوچ کا زنّاٹا اور تحریر کو پکا کر تیار کرنے کے لیے ڈھونڈ رہا تھا کسی پرانی یاد کا گُندھا آٹا اور ایک دم سے مل گیا
وہ کاٹا !!
مجھے یاد آرہا تھا وہ پراٹھا
جو کوئی بنایا کرتا تھا جس میں آٹے کے ساتھ تھوڑی سی محبت کی نمی اور ذرا سی ناراضگی کا نمک آٹے میں نمک کے برابر اور اس ناراضگی میں اس کچی محبت کے کچے پیڑے کو دونوں طرف سے مار پڑ رہی تھی جو وہ خاموشی سے سہنے کے علاوہ کیا کر سکتا تھا اُن ہاتھوں کی محبت کی خاطر جو اسے پسند تھے اور جن میں پہنی چوڑیاں کھنک رہی تھیں اس کھنکتی محبت کی طرح جو اپنے آپ کو چُھپا کر بھی نہیں چھپ سکتی عورت کی طرح جو لباس سے اپنے آپ کو چھپا کر بھی نہیں چُھپ سکتی کیونکہ وہ تو کسی کے تصور میں ہوتی ہے اور تصور میں تو کوی پابندی نہیں نہ کوی پردہ ہے اب وہ تو اس خیال کے ہاتھ میں میں ہوتی ہے جو اُسے جس حالت میں بھی دیکھنا چاہے اس پر تو کوی گرفت نہیں ہوتی جیسے خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے وہ جسے چاہے خوبصورت بنا دے
وہ آٹے کا پیڑا جو تخلیق ہونے جا رہا تھا ایک ایسی شے میں جو دوسروں کی بقا تھی جس میں وہ فنا ہونے جارہا تھا اور اس آگ کی بھٹی سے گزرنے کو تیار تھا اپنے بنانے والے ہاتھوں کی محبت میں اور اُس کی خاطر آگ میں جانے کو تیار تھا
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشاے لبِ بام ابھی

مگر وہ تو خالق کائنات تھا اور وہ بھی کچھ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ اپنے دوست کو کیسے اکیلے چھوڑ دے گا اور وہ دکھانا چاہتا تھا اُن نہ مانے والوں اور رہتی دنیا تک مانے والوں کے دلوں کے اطمنان دینے کے لیے اور یہ کہ ہر شے "کُن" کے تابع ہے اور آگ کی کیا مجال کہ اس کے حکم سے روگردانی کرے اور عشق کی آگ کے سامنے اس آگ کی کیا حیثیت تھی اور اس کی جلانے کی صلاحیت کو حکم ہو گیا تھا کہ
خبر دار !!
ٹھنڈی ہو جا !!!
اور ساینس کا قانون " کُن " کے سامنے بے بس تھا اور "فیکون " ہونے کو بے چین تھا اور اس حکم پر وہ آگ ادب سے جُھک چکی تھی اور اپنی جلانے کی صفت کو بھول چُکی تھی اور وہ سلامتی کی حد تک ٹھنڈی ہو چکی تھی

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

‎بالآخر نمرود بادشاہ نے آتشکدہ تیار کرکے آپکو آگ میں جلانے کے احکام صادر کردیئے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
‎ترجمہ: ’’ہم نے فرمایا: اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور
‎سلامتی ابراہیم پر۔‘

آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا ...... آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 204 Print Article Print
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 207 Articles with 49831 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: