ربّ رحمن کی رحمت سے مایوسی کیوں ....!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 انسان کی زندگی میں ہرطرح کا وقت اور طرح طرح کے موڑ آتے ہیں، جب کبھی خوشیاں اور آسائشیں ہمیں ربّ رحمن کی عبادت سے غافل کرتی ہیں تو ہم راستے سے بھٹک جاتے ہیں اور پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان حالات میں انسان کا ابدی دشمن شیطان غالب آجاتا ہے جو ہمارے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر ہمیں اپنے جال میں پھنساکر گمراہ کرنا چاہتا ہے۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا خالق اور اس ساری قائنات کا ربّ اللہ تعالیٰ ہے ، جس کی ایک صفت رحمن اور رحیم بھی ہے۔ پس جب ہمارا ربّ رحمن اور رحیم ہے تو ہمیں کبھی بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ہمیں وقتاً فوقتاً غور کرنا چاہئے کہ زندگی میں جب بھی ہمیں مشکلات اور پریشانیوں نے آگھیرا اور ہم مایوس ہو گئے اور ہم نے سوچ لیا کہ اب تو ہماری ہلاکت ہی ہے ، ہمیں اس مشکل اور پریشانی سے نجات کی کوئی صورت ممکن نظر نہ آئی.... توپھر کس نے ہمیں اس پریشانی سے نجات دی....؟ پھر کس کی رحمت سے ہم سے یہ مشکل وقت ختم ہوا....؟ بلاشبہ اللہ ربّ العزت کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ ان کا شمار قطعاً ممکن نہیں۔ اللہ ربّ العزت کے ان احسانات کو یاد کرکے ہی ہم اللہ ربّ العزت کے احسان مند بندے بن سکتے ہیں۔افرا تفری کے اس دور میں اطمنان بخش زندگی کے لئے ضروری ہے کہ بندے کا ربّ تعالیٰ سے محبت کا رشتہ قائم ہو۔ ربّ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ بندے کے دل میں بھی خالق کائنات کی محبت سب سے زیادہ ہو، تب ہی وہ احکامات خداوندی کو بہتر طور پر بجا لاکر کامیاب اور اطمنان بخش زندگی بسر کرسکتا ہے۔ بندے کی خالق سے محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ربّ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرے۔ توحےد اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ ربّ العزت اس ساری کائنات کا واحد خالق حقےقی ہے، اس کا کوئی شرےک، ثانی و ہمسر نہےں، اور ساری کی ساری حمد و ثناءاسی وحدہ لاشرےک ، کل شئیٍ قدےر کے لےے ہے۔ توحیدےعنی اللہ ربّ العزت کی وحدانےت کی گواہی پورے اسلام کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جس کسی نے سچے دل سے اور سوچ سمجھ کر اللہ ربّ العزت کے وحدہ لا شرےک ہونے کی شہادت دی اور شرک سے بچارہا اس شخص کی زندگی مکمل طور پر دین اسلام کے مطابق ہوگی۔ کیونکہ جب کسی شخص کی گواہی یہ ہو کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، وہی عطا کرنے والا ،روکنے والا ہے، ہدایت دینے والا ہے ،اللہ کے سوا کوئی عطاءکرنے والا نہیں، اور نہ اس کے سوا کوئی نفع دینے والا ہے، تو اس طرح ہر ضرورت کے وقت اس کے ذہن میں اللہ تعالیٰ ہی کی یاد آئیگی اور اس کے تمام احکام بھی یاد آئینگے ۔
 
بے شک اللہ تعالیٰ واحد ہ ویکتا ہے نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا ، نہ اس کا نہ کوئی مقابل ہے نہ نظیر، نہ مثال، نہ تمثیل ،نہ عکس۔اللہ ربّ العزت کی ذات اور صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ہر پل ہر جگہ اللہ تعالیٰ موجود ہے،واحد ہے، قادر ہے، علیم ہے،خبیر ہے،غالب ہے، رحیم ہے۔ ارادہ کرنے والا ہے، سمیع ہے، بزرگ و برتر ہے۔ بلند و بالا ہے، دیکھنے والا ہے، زندہ و باقی رہنے والا ہے، بے نیاز ہے، علم کے ساتھ حلم رکھتا ہے ، اپنی قدرت کے ساتھ قادرہے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں، کوئی پیداوارِ فطرت اس کے حکم سے باہر نہیں، اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں، وہ جیسا چاہے کرے، اس کے فعل پر ملامت نہیں، اس کے سب اچھے نام اور بلند و بالا صفات ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بندے اس کے حکم کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ اس کی حکومت کے اندر وہی ہو سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے ۔ کائنات میں جو کچھ امور آتے رہتے ہیں، سب کا خالق وہی ہے۔ اسی نے قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا ، اسی نے ہمارے پےارے نبی سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آخری رسول بنا کر بھیجا ہے۔ واضع رہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا ہوگی تو ہمیں زندگی کی حقیقی راحتیں میسر آئیں گی، اور ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی بھی ہمارے لئے خوشگوار ثابت ہوگی۔ جب کسی بندے کے دل میں خالق کی حقیقی محبت پیدا ہوجاتی ہے تو وہ مخلوق میں کسی کا سردار بننا بھی پسند نہیں کرتا کیونکہ اس کی نظر میں بڑائی کا تصور صرف اللہ تعالیٰ کیلئے موجود ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں خالق کائنات سے خالص محبت نصیب فرمائے، جو ہمارے دلوں کو نور ایمانی سے منور کردے ، اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کو تا حےات سلامت رکھے ، اور اپنے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 373 Print Article Print
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 658 Articles with 235216 views »
Journalist and Columnist.. View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ