(ندائے انسانی ) وزیراعظم اور امریکہ کے2خطوں کی کہانی!

(Muhammad Ayub, )

چند دنوں کی مدت میں، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو امریکہ سے دو مختلف شخصیات کی طرف سے خطوط موصول ہوئے ہیں۔پہلا خط ایک ایسی پاکستانی خاتون کی طرف سے جس کو دنیا بھر میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو طویل عرصہ سے غیر قانونی اور سفاکانہ طور پرامریکہ کی قید میں ہے اوربہیمانہ تشدد کا شکار ہے جبکہ دوسرا خط امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے، دونوں خطوط میں ایک بات یکساں تھی کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے مدد کی درخواست کی گئی تھی۔

ایک خط میں عمران خان کو "ہیرو"کہہ کر ان سے مدد کیلئے نیازمندانہ درخواست کی گئی ہے کہ جس نے ایک لیڈر کے طور پر انصاف اور وقار کے اصولوں کو اختیار کرنے کا اعلان کررکھا ہے ۔اس خط میں انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنے قانونی حق کے لئے مدد کی درخواست کی گئی ہے جس کو پورا کرنا وزیراعظم کا آئینی فریضہ ہے۔ دوسرا خط بھی مدد چاہتا ہے لیکن تکبر اور بالادستی کے لب و لہجہ میں جیسے ایک آقا اپنے حکم کی تعمیل چاہتا ہے۔بے بسی کے اس منظرنامہ میں سوال یہ ہے کہ ’’ خان صاحب دونوں خطوط کے جواب میں کیا ردعمل ظاہرکریں گے؟‘‘

وزیراعظم کا جواب ان کی لیڈرشپ اور قوم کے وقار کی وضاحت کرے گا کہ سابقہ حکمرانوں، رہنماؤں اور اداروں کی طرح امریکہ کی مکمل طورپرتابعداری کریں گے یا پھر اپنے حلف کی پاسداری کریں گے۔یہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور پاکستانی عوام کے وقار کو بلندکرنے کے، خان صاحب کے دعووں کو پرکھنے کا وقت ہے۔ایک پاکستانی شہری کی قدرو قیمت کا انحصار اب بجا طورپر ہمارے محبوب وزیراعظم کے ہاتھوں میں ہے۔

عمران خان پہلے رہنما تھے جنہوں نے بار بار اعلانیہ طور پرکہا کہ عافیہ کو واپس وطن لانا ایک اہم ترین مسئلہ ہے جو ہر پاکستانی کی خودی (Self Worth)کوبلندکرنے کا باعث بنے گا اوردنیا کو واضح طور پر پیغام دے گا کہ پاکستانیوں کو کمتر (Sub-human) سمجھ کر بدسلوکی کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔اب،قدرت نے انہیں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے تصورات کے مطابق عوام کی توقعات پر پورا اترنے یا پھر اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح بدعنوان سیاسی اور غلامانہ نظام میں رہنے کا موقع دیا ہے۔دیکھتے ہیں کہ کیا ہمارے رہنما کی بات سچی ہے اور وہ بلندکردار اورایکشن لینے والی شخصیت رکھتا ہے۔ہم اس پربھی یقین کرتے ہیں کہ ہمارا لیڈرآگے بھی ثابت قدم رہے گا۔ ایٹمی قوت کا حامل رہنما ہونا بے معنی اور شرمندگی کا باعث بن جاتاہے اگر بیرونی دنیا میں آپ کے شہریوں کو صفر احترام (Zero respect) دیا جاتا ہو۔خان صاحب نے عافیہ کو وطن واپس لانے اور قوم کے وقار کو بحال کرنے کا وعدہ کیاہوا ہے۔خدا نے انہیں اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کا یہ منفرد موقع عطا کردیا ہے۔اب اس کا انحصار خان صاحب پر ہے کہ وہ امریکہ سے آئے ہوئے ان ’’دو خطوط‘‘ کا جواب کس طرح دیتے ہیں جو کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا۔

کیا جواب وہی پرانے فارمولہ کے مطابق قوم کی عزت و ناموس پر ڈالر کو ترجیح دینا ہوگا یا "نیا پاکستان" کو ظاہر کرنے کیلئے ہم اپنی بیٹی کوبا وقارطریقہ سے واپس لیں گے قبل اس کے کہ ہم افغانستان کے دلدل سے نکلنے میں امریکہ کی مدد کریں۔امریکی صدر ٹرمپ امریکی مفادات کو ہر شے پر مقدم رکھ کر مقاصد حاصل کرنے کیلئے کسی ڈیل سے نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کیا ہمارے وزیراعظم اس چیلنج کو قبول کریں گے؟قوم بغور دیکھ رہی ہے اورپر امید بھی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہماری امید اور نیا پاکستان ایک اور سراب ہے کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ کیلئے عمران خان کا جواب فی الفور اور تابعداری پر مبنی رویہ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔کیااس معاملے میں ہمارے وزیراعظم نے اپنے شہری کا احترام کیاہے، کیا وہ پاکستان کے ہر شہری کا احترام قائم کرنے اور ان کی حفاظت کرنے کے اپنے حلف پر قائم ہیں؟عافیہ کا خط ابھی تک ان کے جواب کا منتظر ہے اور قوم امید رکھتی ہے کہ اس مرتبہ ہم مایوس نہیں ہوں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 95 Print Article Print
About the Author: Muhammad Ayub

Read More Articles by Muhammad Ayub: 10 Articles with 3651 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: