ملت افغاں درآں پیکر دل است!

(Malik Shafqat Ullah, Jhang)

امریکہ افغانستان میں وہی غلطیاں کر رہا ہے جن کا ارتکاب افغانستان پر قبضے کے آخری ادوار میں تباہی و ذلت کے با وجود برطانیہ اور سوویت یونین نے کیا تھا۔ گزشتہ دونوں عالمی طاقتوں کی طرح اب امریکہ بھی اسی انجام سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔ دونوں عالمی طاقتیں وہاں سے نکلنا چاہتی تھیں لیکن وہاں اپنا قبضہ بھی باقی رکھنا چاہتی تھیں ۔ دونوں نے اپنے بعد وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت باقی رکھنے پر اصرار کیا ۔ اب تیسری طاقت امریکہ بھی وہاں اپنے مضبوط فوجی اڈے باقی رکھنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے، اور وہاں سے جانے کے بعد افغانستان کی حکومت اور نظام بھی من مرضی کا چاہتا ہے۔ بظاہر تو افغانستان پر امریکی حملے کی فوری وجہ نائن الیون کے واقعات بنے ، لیکن اس کی خواہش اور تیاریاں گزشتہ کئی عشروں سے جاری تھیں۔اشتراکی روس کے خلاف جنگ میں عوام کی مدد کر کے ایک ہدف حاصل کرنا یقینی طور پر اس کے پیش نظر تھا۔ افغانستان اور وسطی ایشیاء کے وسیع تر قدرتی وسائل تک رسائی بھی غیر اعلانیہ ، مگر بڑا واضع ہدف تھا۔ سوویت یونین فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت نہ بننے دینا بھی اسی امریکی ہدف کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے کیلئے تھا ۔ مختلف افغان دھڑوں اور جنگی سرداروں کے اختلاف اور لڑائیوں کی آگ پر مسلسل تیل چھڑکتے رہنا بھی انہی مقاصد کے حصول کیلئے تھا۔

افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اس کی حلیف فوجوں کے گزشتہ 18 برسوں کے دوران آٹھ ہزار چار سو پچاس فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ۔ ان میں صرف امریکہ کے ہلاک ہونے والے فوجی دوہزار نو سو پچاسی تھے ۔ امریکہ کی اس مسلط کردہ افغان جنگ میں اب تک تین ہزار ارب ڈالر سے زائد کے امریکی وسائل بھسم ہو چکے ہیں۔ یہ امریکی جنگی جنون جو پچھلے کئی عشروں سے تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ اس بدمست ہاتھی کیلئے امریکی دانشور ڈاکٹر جوئل اینڈریس اپنی کتاب Addicted To War میں لکھتے ہیں کہ امریکہ میں جنگی جنون پچھلے پانچ عشروں سے بھی زائد مدت سے پروان چڑھ رہا ہے۔ امریکہ نے اپنی جنگی مشین کو برقرار رکھنے اور دنیا کو اپنی بھرپور طاقت دکھاتے رہنے پر کم و بیش پندرہ ہزار ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ جنگی جنون نے امریکہ کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کچھ کافی ہے کہ عوام کی محنت کی کمائی سے وصول کئے ہوئے ٹیکسوں کی مدد سے فوج اور اسلحہ خانے کو جو کچھ دیا جاتا رہا ہے اس کی مالیت ، اثاثوں کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہے ۔ تمام فوجی تنصیبات ، فوجی حملے اور سابق فوجیوں کی بہبود کے کھاتے میں جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ سالانہ اسی ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔امریکا کی جنگی مشین متحرک رکھنے کیلئے بہت کچھ درکار ہے ۔ امریکہ نے چھے عشروں کے دوران جوہری تجربات کے ذریعے کم بیش چار لاکھ اسی ہزار فوجیوں کو ایٹمی تابکاری مواد کے سامنے کھڑا کیا ہے۔ ان میں بہت سوں کیلئے صحت کے پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ہزاروں امریکی فوجی کینسر میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2018 میں یہ اعلان تو کر دیا کہ امریکا افغانستان میں اپنی باقی ماندہ 14 ہزار فوجیوں میں آدھے فوری طور پر نکال رہا ہے اور اس سے ایک دن قبل انہوں نے اسی طرح کا اعلان شام کے حوالے سے بھی کیا تھا۔یہ بیانات بغیر سوچے سمجھے اس طرح دئیے گئے کہ امریکہ وزیر دفاع احتجاجاََ مستعفی ہو گئے۔ چئیر مین جوائنٹ سٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ نے وضاحت کی کہ افغانستان میں امریکی کاروائیاں منصوبے کے مطابق جاری رہیں گی۔ دوسری جانب دیکھیں تو خطے میں مختلف امریکی نمائندے اور ذمہ دار حکومت کی ’’شٹل پالیسی ‘‘ بلندی پر ہے۔ افغان نژاد خصوصی امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد پاکستان، خلیجی ریاستوں اور چین میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ۔ افغان طالبان کے ساتھ یہ مذاکرات کئی بار تعطل کا شکار ہوئے اور آخر کار طالبان کی یہ شرط قبول کر لینے کے بعد اکیس جنوری 2019 کو دوبارہ شروع ہوئے کہ ’’ امریکہ ، افغانستان سے مکمل انخلا کا وقت معین کرے گا‘‘۔ امریکہ نے شرط قبول کرتے ہوئے اضافہ کیا کہ :’’افغانستان کو کسی ملک کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا‘‘۔ مذاکرات دو روزہ تھے لیکن کئی دن تک جا ری رہے ۔ کابل میں قائم افغان حکومت کی شدید خواہش تھی کہ اسے بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے لیکن طالبان نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔

امریکہ اور طالبا ن کے مابین مذاکرات کا نتیجہ جو بھی نکلے ، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افغانستان میں نئے دور کا آغاز ہونے کو ہے ۔ ایسے ہر نازک موڑ کی طرح اس موقعے پر تمام اطراف کو انتہائی احتیاط ، حکمت ، انصاف ، حقیقت پسندی اور کھلے دل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا کہ جنگ جیت کر ختم ہونے کے بعد ہار دی ۔ 1979میں سوویت یونین کا آخری فوجی بھی نکل گیاتو امید پیدا ہوئی کہ خون شہداء سے سیراب اس سر زمین کو اب سکون اور ترقی دیکھنا نصیب ہو گی ۔ لیکن روسی سلطنت نے اپنے انخلا کے بعد اپنی قائم کردہ کٹھ پتلی نجیب اﷲ کی حکومت کو باقی رکھا ۔ اشتراکی روس کے خلاف جہاد پر پوری افغان قوم ہی نہیں ، پورا عالم اسلام متحد تھا، لیکن پورا عالم اسلام مل کر بھی جہاد کی قیادت کر نے والے راہ نماؤں کو متحد نہ کر سکا۔ پروفیسر برہان الدین ربانی (مرحوم)اور حکمت یار گلبدین کے مابین آرا کا اختلاف پہلے دن سے موجود تھا ۔پروفیسر ربانی سوویت یونین مداخلت کا مقابلہ صرف سیاسی میدان میں کرنے کے قائل تھے ، جبکہ حکمت یار مسلح جہاد ضروری سمجھتے تھے ۔ بالآخر سب راہ نماء جہاد پر متحد تو ہو گئے لیکن دس برس ساتھ گزرنے کے با وجود باہمی خلیج کم نہ کر سکے۔ حالیہ افغان تاریخ کے دوراہے پر ایک بار پھر بون کانفرنس کے اصل کردار فعال تر ہیں۔ لیکن ایک حقیقت سب اطراف کو یاد رکھنا ہو گی کہ نومبر 2001 میں کانفرنس امریکی حملے اور جزوی فتح کے تناظر میں منعقد ہوئی تھی ۔ آج بظاہر امریکہ ، افغانستان سے نکلنے کیلئے کسی معقول راستے کی تلاش میں ہے ۔ لیکن اگر گزشتہ 18سال کی ناکامیوں اور تباہی سے سبق نہ سیکھا گیا ، تو شاید رہا سہا وقار بھی خاک میں مل جائے گا۔تاریخ افغانستان کے اس نازک موڑ پر ایک انتہائی اہم فریضہ خود افغان طالبان کو بھی انجام دینا ہوگا ۔ انہیں اپنے سابقہ دور حکومت اور اس کے بعد رو پذیر تمام واقعات کا بے لاگ جائزہ لیتے ہوئے اپنے رویے پر بھی سنجیدہ نظر ثانی کرناہو گی ۔ علامہ اقبال کیا خوب کہہ گئے کہ:
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملت افغاں درآں پیکر دل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
در کشادِ او کشادِ آسیا

ایشیا آب و خاک سے بنا ایک جسم ہے ، جس میں ملت افغان دل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی تباہی پورے ایشیا کی تباہی اور اس کی تعمیر پورے ایشیا کی خوش حالی ہو گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
About the Author: Malik Shafqat Ullah

Read More Articles by Malik Shafqat Ullah: 33 Articles with 9416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: