جو ہو سکا نہ کیا اسے بھول جاؤں؟

(Luqman Hazarvi, Islamabad)

ہمارا ملک بہت کچھ ہونے کا منتظر ہے۔ہمارا ملک ایک ایسی تبدیلی کے ہونے کا منتظر بھی رہا ہے کہ جو اس ملک کا بھلا کرسکے۔ہمارا ملک ایسے رکھوالوں کا بھی منتظر ہے کہ جو اس ملک کی محبت سے سر شار ہوں۔ہمارا ملک ایسے اداروں کا بھی منتظر ہے کہ جو اپنے کام کو بخوبی سرانجام دیں۔ہمارا ملک ایسے اداروں کا بھی منتظر ہے کہ جو دوسروں کے افعال میں ٹانگیں نہ اڑائیں۔ہمارا ملک ایسی عدالت کا بھی منتظر ہے کہ جو جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انصاف کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ہمارا ملک ایسی فوج کا بھی منتظر ہے کہ جو ملکی سرحدوں پر اپنا تن من لوٹا دیں۔ہمارا ملک ایسی سیاست کا بھی منتظر ہے کہ جو شفاف ہو، غیر کا اس میں شگاف نہ ہو اور یہ سیاست عوامی و ملکی مفاد میں ہو۔اگر ایسا ہو نہیں سکا تو کیا میں اسے بھول جاؤں؟

ہمارا ملک منتظر ہے ایک ایسی ریاست کا کہ جو اسلامی قوانین کی آڑ میں غیروں کی تنصیبات کی بیخ کنی کرنے کو اپنا گرویدہ بنائے۔ہمارا ملک منتظر ہے ایسے تعلیمی اداروں کا کہ جو کاروبار کرنے کے بجائے بچوں کا مستقبل بنائیں۔ہمارا ملک منتظر ہے ایک ایسی سوچ کے حامل افراد کا جو اس ملک کی ترقی کے روح رواں بنیں۔ہمارا ملک منتظر ہے ایک ایسی پولیس کا جو رشوت کے بل بوتے پر پلنے کے بجائے خود پر قناعت کرتے ہوئے پلے۔ہمارا ملک منتظر ہے ایک ایسے سماج کو جو دوسروں کا سہارا بنے۔ہمارا ملک منتظر ہے ایک ایسے معاشرے کا جس میں سب کے لیے یکساں قانون ہو اور اس کا قانون کا عملی مظاہرہ بھی دکھتا ہو۔اگر میرے ملک میں ایسا نہیں ہے تو کیا میں اسے بھول جاؤں؟

ہماری عوام ترس رہی ہے ایک ایسے حکمران طبقے کے لیے جو بونگیاں کم مارے اور کام کرنے کو زیادہ ترجیح دے۔ہماری عوام ترس رہی ہے ایک ایسی مقننہ کے لیے جو جو باہمی خرافات پر قانون سازی کے بجائے عوامی مسائل کے حل کیلئے قانون سازی کرے،عوامی مشکلات کا حل پیش کرے،عوامی امنگوں پر پورا اترے،عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کو یقینی بنائے اور دوسروں کے سہارے چلنے کے بجائے اپنے وسائل کو بروکار لاکر ان کا سہارا بنے۔ہماری عوام ترس رہی ہے ایسے تعلیمی اداروں کے لیے جو سب کو یکساں طور پر تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کرے۔ہماری عوام ترس رہی ہے صحت کے ایسے اداروں کے لیے جو عالمی معیار کے مطابق علاج فراہم کریں۔اگر ایسا ہو نہیں سکا تو کیا اسے بھول جاؤں میں؟

ہماری عوام ترس رہی ہے ایسے روزگار کے لیے جو انکی بنیادی ضروریات پوری کرے۔ہماری عوام ترس رہی ہے ایسے سازگار حالات کے لیے جن میں وہ اپنا کاروبار سہل پسندی سے کرسکیں۔ہماری عوام ترس رہی ہے ایسے بجٹ کے لیے جو عوام دوست ہو اور ٹیکسوں کی بھرمار سے خالی ہو۔ہماری عوام ترس رہی ہے ایسی جگہ کے لیے جہاں وہ آسانی سے اپنا تن چھپانے کے لیے ایک چھت قائم کرسکے۔اگر ایسا نہیں تو کیا اسے بھول جاؤں میں؟

دولت ، شہرت، طاقت، صدارت، وزارت کسی کے بھی ساتھ نہیں رہتی بلکہ ایک سے دوسرے اور تیسرے کو یوں اس کا سفر جاری رہتا ہے ۔ قوموں، لوگوں اور مختلف ادوار و وقتوں کے واقعات کا ذکر صاف صاف اور واضح طور پر تاریخ میں موجود ہے ۔ وقت کا سفر جاری رہتا ہے ۔ سمجھداری اور تجربات سے استفادہ حاصل کرنے والے لوگ اس کو سمجھ کر اور سیکھ کر اچھی اور کامیاب زندگی گزارتے ہیں اور اپنے اپنے شعبوں اور ذمے داریوں کی ادائیگی میں بہترین طور پر پہچانے جاتے اور نامور ہوجاتے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ جو ہو نہ سکا کیا میں اسے بھول جاؤں؟جو ہو نہ سکا میں اسے بھولا نہیں۔امید کے چراغ اب بھی جل رہے ہیں۔امید کے بندھن پر دنیا قائم ہے۔مجھے اب بھی امید ہے کہ ایک ایسی قیادت آئے گی جو اس ملک کے مسائل کے ساتھ چمٹ کر انہیں حل کرے گی۔جو عوام پسند قیادت ہوگی۔مجھے امید ہے کہ میرا وطن ایک دن ان برے حالات سے نکل کر اچھے حالات میں آئے گا۔ہر برے دن کے بعد اچھے کی امید ہے۔جس مقصد کے لیے ہمارا ملک معرض وجود میں آیا ہے اگر ان پر اب نہیں ہے تو میں اسے بھولوں گا نہیں بلکہ اسے درست پٹڑی پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔جو ہو نہ سکا وہ ہوسکتا ہے اگر ہر کوئی یہ سوچ اپنا لے۔ہر کوئی اس ملک کی فلاح و بہبود کو اپنا مقصد بنا لے تو اب تک جو ہو نہ سکا وہ بہت جلد ہوسکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 155 Print Article Print
About the Author: Luqman Hazarvi

Read More Articles by Luqman Hazarvi: 24 Articles with 8456 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: