پاک سعودی معاہدے خوش آئند

(Arsalan Rafiq, )

سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان دو روزہ دورہ پاکستان کے بعد واپس روانہ ہو گئے ان کے دورہ کے دوران وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے 20ارب ڈالرز مالیت کے 7 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹینڈرڈائزیشن کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القاسمی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دستخط کئے۔ کھیلوں کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ، امور نوجوان و کھیل ڈاکٹر فہمیدا مرزا نے دستخط کئے، سعودی اشیاء کی درآمد سے متعلق مالیاتی معاہدہ پر وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے دستخط کئے۔ توانائی کی پیداوار کے فریم ورک کی مفاہمتی یادداشت پر وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان معدنی وسائل کی ترقی میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا جس پر سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وزیر توانائی عمر ایوب خان نے دستخط کئے۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مشترکہ صدارت میں سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ اعلیٰ اختیاراتی سپریم کوآرڈینیشن کے قیام کی تجویز وزیراعظم عمران خان کے اکتوبر 2018ء میں سعودی عرب کے دورہ کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیش کی تھی۔ کونسل کا مقصد دو طرفہ تعاون کے کلیدی شعبوں میں تیز تر فیصلوں اور ان پر عملدرآمدکی بغور نگرانی کیلئے اعلیٰ سطح کا ادارہ جاتی نظام وضع کرنا تھا۔ کوآرڈینیشن کونسل میں دونوں ممالک کے متعلقہ وزرائے خارجہ امور، دفاع، دفاعی پیداوار، خزانہ، توانائی، پٹرولیم، آبی وسائل، اطلاعات و ثقافت، داخلہ، تجارت اور سرمایہ کاری اور انسانی وسائل شامل ہیں۔ یہ کونسل سیاسی و سلامتی، اقتصادی، سماجی و ثقافتی کے تین اہم شعبوں پر محیط ہوگی۔ پاک سعودیہ سپریم کوآڈینیشن کونسل کے تحت مخصوص شعبہ جات میں تعاون کا فریم ورک وضع کرنے اور متعلقہ وزراء کو سفارشات پیش کرنے کیلئے وزارتی اور سینئر حکام کی سطحوں پر سٹیرنگ کمیٹی اور جائنٹ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سپریم کونسل کے امور کار میں رابطہ کاری کا فریضہ انجام دیں گے۔ سپریم کونسل کا اجلاس ریاض اور اسلام آباد میں باری باری سالانہ بنیاد پر منعقد ہوں گے۔ سعودی عرب نے پاکستان میں توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کااعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر سے سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفیج کی ملاقات ہوئی جس میں توانائی کے اربو ں ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبوں پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے بعد جاری اعلا میہ میں کہاگیا سعود ی عرب معدنیات ، توانائی سمیت دیگر شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا۔ملاقات کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان تاریخی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان نئے اقتصادی باب کا آغاز ہو گا، سعودی توانائی کمپنی کا پاکستان میں دلچسپی لینا خوش آئند ہے، سعودی عرب متبادل توانائی کے منصوبو ں میں بھی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقا ت نئی بلندیوں پر پہنچ جائیں گے اور نئے اقتصادی باب کا آغاز ہو گا۔ سعودی عرب پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کرے گا،پاکستان میں توانائی کی مد میں درآمدا ت سب سے زیادہ ہیں۔بعد ازاں حکومت پاکستان اور سعودی سرمایہ کاروں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ چیئرمین اے سی ڈبلیو اے پاور گروپ محمد اے ابونییان کی سر بر اہی میں سعودی سرمایہ کاروں کے وفد کی حکومتی ٹیم سے مذاکرات ہوئے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومتی ٹیم کی سربراہی کی۔ وزیر توانائی عمر ایوب مشیر تجارت عبدالرازق داؤد چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف اور دیگر اعلی حکام موجود تھے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی برادرانہ اور مثالی تعلقات رہے ہیں جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ سے مضبوط تر ہوگئے اور یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔سعودی ولی عہد کے حالیہ دورے میں 21ارب ڈالر پر مشتمل خطیرسرمایہ کاری کی بنیاد پڑی جس میں سب سے بڑا حصہ گوادر میں آئل ریفائنری کا ہے۔سعودی عرب کی خطیر سرمایہ کاری سے دونوں ممالک مستفید ہونگے اور معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔صرف آئل ریفائنری کے قیام سے پاکستان کا درآمدی بل تقریباًآئل پروڈکٹس کی مد میں ڈیڑھ ارب ڈالر سے کم ہوگا، اسکے مقابلے میں سعودی عرب پاکستان کی بڑھتی ہوئی آئل مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھاسکے گا اور سرپلس پروڈکشن کو بآسانی خطہ کے دوسرے ممالک میں برآمد کرسکے گا۔ پاور، رینیوبل انرجی، پٹروکیمیکلز ، انفراسٹرکچر، مائننگ سمیت ٹورازم اور ہوٹل انڈسٹری میں سعودی عرب کی مختصر اور طویل مدتی سرمایہ کاری سے پاکستان میں ملازمتو ں کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ سے نئے سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہونگے۔مختصر مدت سرمایہ کاری کا حجم 7ارب ڈالر ہے جس کا دورانیہ ایک سے دو سال ہے، درمیانی مدت کی سرمایہ کاری 2ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور اسکی مدت 2سی3سال ہے جبکہ طویل المدت سرمایہ کاری 12ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور اسکا دورانیہ 3سے 5سال ہے۔عالمی مسابقتی انڈیکس پر137ممالک میں سے سعودی عرب 30ویں جبکہ پاکستان 115ویں نمبر پر ہے اور کاروباری آسانی کے انڈیکس پر 190ممالک میں سے سعودی عرب 92ویں جبکہ پاکستان 136ویں نمبر پر ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کو دونوں ممالک میں کاروباری آسانی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔سعودی عرب کی طرف سے پاکستانیوں کے لئے وزٹ ویزا فیس میں کمی قابل قدر ہے تاہم تجارتی اور کاروباری ویزوں کے حصول کو بھی سہل اور ارزاں کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے تاجر اور صنعتکار قریبی تعلقات استوار کرسکیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں پاک سعودی رابطہ کونسل کا قیام پاک سعودی تجارتی تعقات میں بہتری لانے کے حوالے سے خوش آئند ہے۔پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور کونسل جنرل سندھ عبیداﷲ الحربی کا دونوں ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردارہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی افواج پاکستان سعودی عرب کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ سعودی عرب سے پاکستان کو گزشتہ سال ترسیلات زر 920ملین ڈالر رہیں جبکہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت 3ارب ڈالر سے متجاوز تھی جس میں پاکستانی برآمدات 300ملین ڈالرتھیں۔پاکستانی برآمدات میں اضافہ کے لئے سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی تعلقات استوار کرے تاکہ سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی راہ ہموار ہوسکے۔پاک سعودی جوائنٹ چیمبر آف کامرس اور پاک سعودی رابطہ کونسل اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ پاکستانی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے۔ پاک سعودی رابطہ کونسل سعودی حکومت اور سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں بروقت سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری عملاً بڑھ سکے اور دونوں ممالک اس خطیر سرمایہ کاری کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاشی ، تجارتی اور صنعتی تعلقات کے فروغ سے دونوں برادر ممالک میں معاشی اور اقتصادی بہتری کی راہ ہموار ہوگی۔ دونوں ممالک کی اس سلسلے میں کی گئی کوششیں خوش آئند ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 111 Print Article Print
About the Author: Arsalan Rafiq

Read More Articles by Arsalan Rafiq: 67 Articles with 16425 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: