فوج میں جانے کا جنون

(Tanveer Ahmed, )

’’میرے بیٹے کو فوجی بننے کا جنون ہے۔میرا ایک کزن فوج میں ہے۔ اس کی تصویریں دیکھ دیکھ کر اس کو ہر وقت فوجی بننے کا جنون رہتا ہے۔میرا کزن بھی میرے موبائل پر اپنی فوجی وردی میں تصویریں بھیجتا رہتا ہے اور میں وہ تصویریں اپنے بیٹے کو دیکھا کر ڈیلیٹ کر دیتا ہوں‘‘۔بہار ملٹری اکیڈمی اوکاڑہ میں داخلہ کے لیئے آئے ہوئے ایک والد نے مجھے بتا یا ۔
’’بہت اچھی بات ہے۔ ملک کی خدمت کرنے کا جنون تو ہونا چاہیے۔کس کلاس میں پڑھ رہا ہے آپ کا بچہ‘‘۔میں نے پوچھا۔
’’ابھی تو چوتھی کلاس میں ہے لیکن اُس کو فوجی ماحول میں رہنے کا شوق ہے۔ ہر وقت وہ فوجیوں والے کپڑے پہنتا ہے اور فوجی گاڑیوں سے کھیلتا ہے۔ایک دفعہ وہ شدید بیما ر ہوگیا اور بہت ذیادہ بخار ہو گیا اُس کو۔میں نے اس کو بازار سے فوجی گاڑیاں اور ٹیک لا کر دیئے اور وہ ان سے کھیلنے لگ گیا۔ اس کو ان چیزوں کا اسقدر جنو ن ہے کہ اس کا بخار اُتر گیا اور وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہو گیا‘‘۔
’’ایسا جذبہ تو ہر بچے میں ہونا چاہیے‘‘۔
’’جی بالکل ۔میرے بچے میں تو یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر ا ہوا ہے۔یہ اکثر فوجیوں کی طرح سلوٹ کر تا ہے اور ان کی طرح بہت سی ایسی ورزش کرتا ہے کہ ہم تو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں‘‘۔
’’بہت سے بچوں میں یہ صلاحتیں خداداد ہوتی ہیں۔آپ کو چاہیے کہ آپ اس کے جذبے کو پروان چڑھانے میں مدد دیں‘‘۔
’’ملٹری کالج میں جانے کا کیا طریقہ ہے؟‘‘۔
’’پاکستا ن میں موجود ملٹری کالجز میں داخلہ آٹھویں کلاس میں ہوتا ہے۔ اور وہ بچے آٹھویں کلاس سے سیکنڈ ائیر تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ملٹری کالجز میں داخلہ کے لیئے عمر کی حد گیارہ سال سے چودہ سال ہے اور پی اے ایف کالجز میں داخلہ کے لیئے عمر کی حد ساڑھے گیارہ سال سے ساڑھے تیرہ سال ہے۔ داخلہ کے لیئے طلبا ء کو ایک تحریری امتحان پاس کرنا پڑتا ہے۔ یہ تحریری امتحان پانچویں،چھٹی ،ساتویں اور آٹھویں کے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سلیبس میں سے آتا ہے۔ چار لازمی مضامین ریاضی، سائنس، انگلش اور اردو کا امتحان لیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ عام طور پر اکتوبر کے مہینے میں ہوتا ہے اور اس کا سنڑ آپ کے قریب ترین علاقے میں بنتا ہے۔ ہمار ے لیئے اس کا سنٹر لاہور میں بنتا ہے۔ ‘‘
’’تو بچے ٹیسٹ دینے کس طرح جاتے ہیں؟‘‘۔
’’ٹیسٹ دینے کے لیئے آپ کو وہاں پر سات بجے پہنچنا پڑتا ہے۔ جو کہ آپ پبلک کنوئینس پر نہیں پہنچ سکتے ۔ اس لیئے ہم لوگ خود ایک گاڑی کرائے پر لے کر ان کو وہاں لے کر جاتے ہیں اور واپس بھی لے کر آتے ہیں ۔ بچوں کو وہا ں پر کھانا بھی کھلاتے ہیں۔ اور بحفاظت واپس لاتے ہیں‘‘۔
’’تحریری امتحان میں کامیابی کیسے ہوتی ہے اور اس کے بعد کا کیا طریقہ کا رہے؟‘‘۔
’’ہر سال تحریری امتحان میں تقریباًپچاس ہزار طلبا ء شامل ہوتے ہیں جن میں سے تین سو ساٹھ بچے کامیا ب ہوتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اس لیئے اس امتحان کو پاس کرنے کے لیئے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹھ گھنٹے ادارے میں پڑھنے کے بعد بچے کو گھر جاکر بھی چھ گھنٹے پڑھنا پڑتا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تما م موضوعات کے متعلقہ ہر چیز میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اس تحریر ی امتحا ن کو پاس کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے‘‘۔
’’اس تحریری امتحان کا معیا ر کس طرح کا ہوتا ہے؟‘‘ْ۔
’’اگر دیکھا جائے تو اس تحریر ی امتحان کا معیار چھوٹے لیول پر سی ایس ایس جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس کو پاس کرنے کے لیئے آپ کو بہت ذیادہ جان مارنی پڑتی ہے۔جب بچے کا ٹیسٹ پاس ہوجا تاہے تو اس سے اگلا مرحلہ انٹرویو اور میڈیکل امتحان کا ہوتا ہے۔ انٹرویو میں وہ آپ کا اعتماد چیک کرتے ہیں اور میڈیکل میں آپ کو کسی ایسی بیماری کا شکا رنہیں ہونا چاہیے جو آپ کو سخت محنت نہ کرنے دے‘‘۔
’’اس تحریر ی امتحان کی فیس کیا ہوتی ہے اور بعد ازاں ملٹری کالج کی فیس کیا ہوتی ہے؟‘‘ْ۔
’’اس تحریری امتحان کی فیس ایک ہزارسے دوہزار تک ہوتی ہے اور اس کے بعد ملٹری کالج میں بچے کی ماہانہ فیس پانچ سے چھ ہزار ماہانہ ہوتی ہے جس میں رہائش اور کھانا بھی شامل ہوتا ہے‘‘۔
’’کیا اس کی تیاری پارٹ ٹائم میں کی جاسکتی ہے؟‘‘۔
’’کی تو جاسکتی ہے۔ لیکن بہتر ہے اس کو فل ٹائم دیا جائے ۔ اگر بچے کی عمر ابھی کم ہے تو وہ اس کی تیاری پارٹ ٹائم بھی کر سکتا ہے۔یہ چند دنوں کی محنت آپ کی زندگی سنوار دیتی ہے۔ عمومی تعلیم میں آپ ماسڑز یا ایم فل کرنے کے بعد آپ نوکر ی تلاش کرتے ہیں۔جب کہ ملٹری کالجز میں جانے کے بعد آپ کو ملازمت کی کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔آپ کا روشن مستقبل آپ کا منتظر ہوتا ہے‘‘۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 193 Print Article Print
About the Author: Tanveer Ahmed

Read More Articles by Tanveer Ahmed: 60 Articles with 24402 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: