سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ صدق و وفا کے پیکر

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

محمد کفیل
ممبر:۔اسلامک رائٹرزموومنٹ پاکستان
رحمت دو عالم سرور کائنات حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و وسلم نے جب فاران کی چوٹی پر نبوت کا اعلان فرمایا تو صادق و امین کہنے والے نعوذباﷲ ساحر و کاذب کہنے لگے حتی کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی جانی دشمن ہوگئے ۔
اس مشکل دور میں اگر کسی نے اس موقعہ پر جان ومال اور اولاد کو قربان کر کے بلادلیل کے تصدیق و اعانت کی دنیا انہیں سیدناصدیق اکبر ؓ کے نام سے جانتی ہے۔
آپ رضی اﷲ عنہ کے بارے اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا !
"وہ جو سچائی لے کر آیا (حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ) اور جس نے تصدیق کی" (حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ) ( القرآن )۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل ترین شخصیت ہیں ،آپ رضی اﷲ عنہ نے پیغمبر اسلام اور دین اسلام کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔
آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی حقیقی صدق وفا کا پیکر تھی۔
آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا حقیقی مصداق تھے ۔
فرمایا : " تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرلے"
آپ رضی اﷲ عنہ نے ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنی جان و مال اور اولاد پر ترجیح دی آپ رضی اﷲ عنہ کی سیرت سے ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کرنے کا حقیقی درس ملتا ہے۔
سیرت مصطفی میں علامہ ابن حجر رحمتہ اﷲ علیہ کی کتاب فتح الباری کے حوالے سے لکھا ہے کہ
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ ارشاد فرمایا :
"لوگو ! بتاؤ سب سے زیادہ شجاع و بہادر کون ہے ؟"
لوگوں نے کہا !" آپ "
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ! "میرا حال تو یہ ہے کہ جب کسی نے میرا مقابلہ کیا ہے میں نے اس سے انتقام لیا ۔
سب سے زیادہ شجاع و بہادر تو ابو بکر تھے میں نے ایک بار دیکھا کہ قریش رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مارتے تھے اور کہتے تھے
’’انت جعلت الالھۃ الھا واحدا‘‘ترجمہ : ‘تو ہی ہے جس نے تمام خداؤں کو ایک بنادیا ۔
ہم میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ آپ کے قریب جائے اور آپ کو چھڑائے ۔
حسن اتفاق سے ابوبکر رضی اﷲ عنہ آگئے اور دشمنوں کے درمیان گھس پڑے ایک مکا اِس کے مارا ایک مکا اْس کے رسید کیا اور جس طرح اْس مرد مؤمن نے ( جو حضرت موسی علیہ السلامپر ایمان رکھتا تھا ) فرعون اور ہامان کو کہا :
ترجمہ : ‘‘ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اﷲ ہے ‘‘ (القرآن )
اسی طرح ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اس وقت کفار سے مخاطب ہوکر کہا :
ترجمہ : ‘‘تمہارا ناس ہو تم ایک ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اﷲ ہے ‘‘
حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ کہہ کر رو پڑے اور فرمایا تم کو اﷲ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں آل فرعون کا رجل مؤمن افضل تھا یا ابوبکر ؟"
لوگ خاموش رہے ، پھر فرمایا" خدا کی قسم ابوبکر کی ایک گھڑی فرعون کے مرد مؤمن کی تمام زندگی سے بدرجہا بہتر ہے اس نے اپنے ایمان کو چھپایا تھا اور ابوبکر نے اپنے ایمان کا اظہار فرمایا اور اس شخص نے فقط زبان سے نصیحت پر اکتفاء کیا اور ابوبکر نے زبانی نصیحت کے علاوہ ہاتھ سے بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نصرت و حمائت کی۔"
عیش وعشرت ، نشاط وفرحت اور سلامتی و عافیت کے وقت میں دعوی محبت آسان ہے لیکن اصل عشق و محبت یہی ہے جس کا اظہار حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے کیا۔
آپ رضی اﷲ عنہ نے اس وقت اپنا مال خرچ کیا ،جب کوئی بھی مدد کرنے والا نہ تھا، ہجرت سے قبل چالیس ہزار درھم کا سرمایہ خرچ کیا ، ہجرت نبوی کے بعد مسجد نبوی کی زمین کا معاملہ ہو یا تعمیر کا یا غزوہ تبوک کا موقعہ ،کبھی بھی مال خرچ کرنے سے ہچکچائے نہیں ۔
غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چندہ کا اعلان کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اپنے گھر کا کل سامان لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو رسول اﷲ صلیاﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :
ابوبکر گھر کیا چھوڑ کر آئے ؟ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ‘‘خدا اور اس کا رسول میرے لیے کافی ہے‘‘
جواب سن کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے عرش سے آپ کے لیے سلام آیا۔
آپ کی زندگی ہر عاشق رسول کے لیے مشعل راہ ہے کہ محض دعوؤں سے عشق نہیں ہوتا بلکہ عشق کے لیے قربانی چاہیے -
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 364 Print Article Print
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 199 Articles with 92266 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More

Reviews & Comments

Language: