پاک بھارت کشیدگی،بیک ڈور رابطے شروع

(Haseeb Ejaz, Lahore)

پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں وقتی طور پر بہتری آتی ہے مگر پھر بھارت اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہوئے اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے کشیدگی پیدا کرتا ہے، اور یہ بات طے ہے کہ صرف بھارت کا جنگی جنون اور جارحانہ عزائم کشمیر کی آزادی اور خطے میں قیام امن کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں ،جنگیں ہوئیں اور کبھی جنگی ماحول بھی بنا اور پھر قدرے نارمل سطح پر بھی آگئے، پلوامہ حملے کے بعد کے بھی بھارت کے جانب سے اشتعال انگیز بیان بیازی سے یہ فضا پیدا ہورہی تھی کہ جیسے جنگ ہونے کو ہیں،مگر وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ کی جانب سے دو ٹوک موقف نے بھارت کو اپنے رویے پر سوچنے پرمجبور کردیا۔ کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ جنگ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور جب دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہوں توپھر جنگ میں پہل کاری پر سو بار نہیں بلکہ ہزاروں بار سوچنا ضرور پڑیگا یہی وجہ کہ کئی دن مودی کی جاری گیڈر بھبکیاں اب دم توڑتی دیکھائی دینے لگی ہیں، اس لئے اب بیک ڈور روابط کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ تحریک انصاف کے اہم رہنما ایم این اے رمیش کمار ونکوانی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے اہم ملاقات کی ہے۔ایک خبر کے مطابق رمیش کمارکا کہنا ہے انھوں نے اپنا مثبت نوٹ بھارتی وزیراعظم تک پہنچادیا اب ان کے رویے میں تبدیلی آئے گی ۔خبر کے مطابق تحریک انصاف کے اقلیتی رکن اسمبلی رمیش کمار کا دورہ بھارت مذہبی ہے تاہم انھوں نے اس دوران نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوروزیر خارجہ سشما سوراج سے سمیت کئی بھارتی رہنماؤ ں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ رمیش کمار نے میڈیاسے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی نریندرمودی سے تقریب کے دوران ملاقات ہوئی ، بھارتی وزیراعظم ان سے گرمجوشی سے ملے۔ انھوں نے نریندرمودی کو بتایا کہ وہ پازیٹونوٹ لیکر آئے ہیں اورمثبت پیغام لیکرواپس جانا چاہتے ہیں جس پربھارتی وزیراعظم کی ہدایت پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان سے 25 منت تک ملاقات کی۔ رمیش کمار نے بتایا انھوں نے بھارتی وزیرخارجہ کوبتایا کہ پاکستان میں اب کپتان کی حکومت ہے ، وہ پٹھان ہے اورجوکہتا ہے وہ کرکے دکھاتا ہے، ہم آپ کویقین دلاتے ہیں کہ پلوامہ حملوں میں کوئی پاکستانی ادارہ ملوث نہیں ہے ، بھارت ثبوت دیں توہم تحقیقات اورتعاون کریں گے۔ رمیش کمارکے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی سیکھنے کے لیے ہوتا ہے اسے پکڑکرنہیں بیٹھا جاسکتا، دشمن کو دوست بناکربھی دشمنی ختم کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا وہ خود گنگا نہا کر آئے ہیں اور کبھی جھوٹ نہیں بولتے ، بھارت پرواضع کیا کہ پلوامہ حملوں میں پاکستان اورپاکستانی اداروں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ الزامات کی سیاست سے باہرنکلنا ہوگا۔رمیش کما رونکوانی کے مطابق اس ملاقات کے بعد انھیں برف پگھلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ رمیش کمارنے سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی پی سنگھ سے بھی ملاقات کی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ پلوامہ واقعے سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہیں، اگر بھارت ٹھوس شواہد فراہم کرے تو ہم ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے، وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ 2015 میں میری نریندر مودی سے نئی دہلی میں ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ غربت کا خاتمہ ہمارے خطے کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تہیہ کیا تھا کہ دہشت گردی کے کسی وقعے سے امن عمل سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، تاہم بدقسمتی سے پلوامہ واقعے سے پہلے ستمبر 2018 میں ہی یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس اب امن بھارت میں الیکشن تک ایک خواب ہی رہ گیا نریندر مودی کو امن عمل کو ایک موقع دینا چاہیے۔جبکہ دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کا آئندہ ہفتے ابوظہبی میں آمنا سامنا بھی متوقع ہے،یکم مارچ سے ابوظبی میں دو روزہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع ہوگا،بھارت اجلاس میں بطور گیسٹ اعزا زی مہمان شرکت کرے گا،سفارتی ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی اور شسما سوراج اگلے ہفتے ابوظہبی جائیں گے،سفارتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کا امکان انتہائی کم ہے مگر کچھ بھی بڑی خبر آسکتی ہے ۔پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے بھارتی دھمکیوں پر جو حکمت عملی اپنائی اور موقف پیش کیا ہے وہ ساری قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔خودساختہ ڈراموں کو بنیاد بنا کر معصوم کشمیری عوام پر بربریت کے ظلم ڈھانے والی بھارتی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور احساس کر لینا چاہے کہ سیاسی وسفارتی ذرائع سے مسئلہ کشمیر کادیرپا قابل قبول فوری حل ناگزیرہوچکاہے کیونکہ دنیا پر واضح ہوچکا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے سانحہ پلوامہ کا اُس وقت ارتکاب کیا جب عام انتخابات سر پر ہیں اور بھارت میں انتخابات سے قبل ایسے واقعات روایت کا حصہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارت کے موقف کو عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے اور مسئلہ کشمیر کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی عوام 70برس سے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہ طاقت کے سامنے نہ جھکے ہیں نہ جھکنے والے ہیں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 108 Print Article Print
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 95 Articles with 38355 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More

Reviews & Comments

Language: