یہ جنگ نہیں ضرورت ہے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عائشہ یاسین
کئی دنوں سے یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ جنگ اچھی چیز نہیں۔ خاص طور سے سوشل میڈیا دو طرح کے رجحانات کو فروغ دے رہا ہے۔ ایک طرف نئی نسل کو زبانی کلامی جنگ میں مصروف کر رکھا ہے۔ جہاں لوگ آرام دہ کمروں میں اور نرم نشستوں پر بیٹھ کر لفظی جنگ کے پیچ و خم لڑا رہے ہیں اور دوسری طرف ایک تعداد ایسی ہے جو جنگ کو سراسر امن کا دشمن سمجھ رہی ہے اور جنگ کو کسی بھی مسئلے کا حل باور نہیں کرارہی پر شاید ہم بھول رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہم یہ دونوں رجحانات کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتے۔ ہم نے وقت کی نزاکت کو دیکھنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بقا اور ساخت کو بھی قائم رکھنا ہے۔ جنگ کی بات نہ ہی کبھی پاکستان نے کی اور نہ ہی کبھی کوئی ایسا قدم اٹھایا جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے بلکہ ہمیشہ امن اور مذاکرات سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دنیا میں اپنی ساخت کو بحال کر چکا ہے اور امریکا، یورپ اور ایشیا میں امن کی نشان کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یہ جنگ ہم نہ ہی کر رہے ہیں اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم پر یہ جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ اس کی واضح مثال پلوامہ کا واقعہ ہے جو کہ بھارت کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا رد عمل ہے جوکہ کشمیری نوجوان کے ساتھ تشدد کے نتیجے میں سامنے آیا لیکن مودی سرکار نے اس کو الیکشن کے لیے لاٹری کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بھارت کے سامنے اپنی حب الوطنی کے طور پر پیش کرنے کے لیے پہلے دھمکیوں اور الزامات سے وار کیا اور پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ مودی کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ مودی سرکار یہ بھول رہی ہے کہ جتنا نقصان ہمیں اٹھانا پڑے گا تو شاید اس سے سو گنا نقصان اس کو خود بھگتنا پڑے گا۔

کل شب سے جو خبریں موصول ہوئیں اس سے اندازہ ہوا کہ پاکستان اپنے دفاع کا آغاز کرچکا ہے جو کہ لازمی امر تھا۔ بھارت نے مذاکرات کو نظر انداز کرکے اور شدت پسندانہ رویہ اختیار کرکے اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ بھارت کی عوام کو مودی کے اس اقدام پر ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ اقتدار کی ہوس میں شاید الیکشن کو ہی ملتوی کروا کر ہندوستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ رہی ہم پاکستانیوں کی بات تو جب ہم میدان میں اتر ہی چکے ہیں تو ان شاء اﷲ فتح ہمارا مقدر بنے گی کیونکہ ہم نے پاکستان اسلام کے نام پر بنایا تھا اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بننے سے کوئی دنیاوی قوت نہیں روک سکتی۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی بھارتی عزائم کے سندھ دریا کے اس پار وہ آسکیں گے ان کا ایک خواب ہی رہ جائے گا کیونکہ کہ اس ملک کا بچہ بچہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہے اور اپنے ملک کے لیے اپنی پاک فوج کے شانے بشانے کھڑا ہے۔ یہ جنگ جنگ نہیں بلکہ رہتی دنیا کے سامنے ایک فیصلے کی گھڑی ہے۔ ہم نے شمشیر سے لے کر ایٹم بم تک قربانیاں دیں ہیں۔ اگر ہمارے ملک پر ایک آنچ بھی آئی تو دشمن ملک بھی اس آگ میں لپٹے گا ضرورت صرف جذبہ ایمانی کی ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تین تلواریں اتحاد، ایمان اور تنظیم کی پھر وہ دن دور نہیں جب ہم فتح یاب ہوں گے اور رہتی دنیا تک مثال قائم کریں گے۔ اﷲ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔ آمین

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345825 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: