جذباتیت اک کارگر ہتھیار

(Arshad Sulehri, )

پاکستان کے عوام کی منتشر خیالی ہی اصل میں ملک کی ناز ک صورتحال ہے ۔دانستہ قوم کا لفظ استعمال کرنے سے گریزاں ہوں ۔حالیہ جنگی ماحول میں اس امر کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ 72سالہ سفر میں بطور پاکستانی قوم بننے اور قوم کی طرح جینے کے ڈھنگ سے ہم کوسوں دور ہیں اور دور ہوتے جا رہے ہیں۔جذباتیت کے گھوڑے پر سوار ہیں جو معلوم نہیں کہا ں رکے گا۔دلچسپ امر ہے کہ ہم خود بھی اترنا نہیں چارہے ہیں ۔بدقسمتی سے جو رہبر و راہنما بنتے ہیں وہ جذباتیت کے مزید سامان فراہم کرتے جا چلے جارہے ہیں ۔جذباتیت کے بھی اپنے اپنے رنگ ہیں۔اگر وطن پرست اور محب وطن ہیں تو باقی سب غدار اور ملک دشمن ہیں۔فوج پرستی ایک الگ سے جذباتیت ہے ۔جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ فوج ہے تو ملک ہے ۔فوج ہے تو ہم عوام حفاظت میں ہیں ورنہ انڈیا کب کا پاکستان پر قبضہ جما چکا ہوتا۔فوج کے سیاسی کردار اور فوج کی اقتدار کی خواہش ،فوج کی کرپشن پر بات کرنابھی ملک دشمنی کی زمرے میں آتی ہے۔مذہبی جذباتیت کے بہت سے رنگ ہیں اگر کوئی سنی العقیدہ ہے تو اس کے سوا باقی سب کا فر واجب القتل قابل گردن زنی ہیں۔سیاست کا چلن بھی یہی ہے کہ اگر تحریک انصاف کا حصہ ہیں تو باقی سب سیاسی پارٹیاں غلط اور سیاسی لیڈر بشمول کارکنان چور ڈاکواور ملک دشمن ہیں ۔زندگی کے دیگر معاملات سمیت بین الاقوامی ایشوز کے حوالے سے بھی ہماری جذباتیت حقائق پر حاوی ہوتی ہے ۔یہی حال دوسری جانب ہے ۔جینیاتی طور ہم ایک ہیں ۔ہماری عادتیں،ہمارے مسائل ،ہمارا رہن سہن ایک ہے۔ہمارے دکھ درد ایک ہیں ۔ہماری سیاسی پارٹیاں ،ہمارے سیاسی راہنما بھی ایک جیسے ہیں ۔ ہماری جذباتیت بھی ایک جیسی ہے ۔ہم انڈیا کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کیخلاف نعرے لگاتے ہیں ۔دونوں طرف اقتدار کیلئے عوام میں جذباتیت پیدا کی جاتی ہے ۔پاکستان کا قیام اور ہندوستان کی تقیسم کا عمل بھی جذباتیت کے ذریعے سے مکمل کیا گیا ۔قابض انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے نام پرہندومسلم اور سکھوں نے ایکدوسرے کو قتل کیا ۔انگریز زیر لب مسکراتے ہوئے تماشا دیکھتا رہا۔آپس کی لڑائی میں 27لاکھ ہندوستانی مارے گئے اور پھر جاکر ایک بھارت اور دوسرا پاکستان بن گیا۔انگریز جو دونوں پر حکمران تھا ۔ جس سے آزادی حا صل کرنا تھی ۔ جو دشمن تھا ۔وہ دونوں کا دوست ہے ۔آج پاکستان اور بھارت آپس میں دشمن ہیں ۔بلکہ کچھ زیادہ مذہبی جذباتیت کا شکار ازلی دشمن کہتے ہیں۔آج بھی ہم اپنے بچوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ ہم نے آزادی انگریزوں سے حاصل تھی یا ہندووں اور سکھوں سے حاصل کی تھی۔اگر ہم کہتے ہیں آزادی انگریزوں سے حاصل کی تھی تو پھر ہندووں اور سکھوں سے لڑائی کیوں ہوئی کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا ہے۔اگر ہم کہتے ہیں کہ ہندووں اور سکھوں سے آزادی حاصل کی تھی تو بھی بات نہیں بنتی ہے۔نصابی کتابوں میں دوقومی نظریہ ہی زیادہ پڑھایا جاتا ہے ،جس کے مطابق ہندو ہمارا دشمن ہے۔پہلی جذباتیت ہی بچے میں سکول سے پیدا کر دی جاتی ہے ۔اس کے بعد پھر چل سو چل جذباتیت ہی جذباتیت سے پالا پڑتا ہے۔صورتحال آج یہ ہے کہ پاکستان میں غربت،بے روزگار ،مہنگائی سمیت صحت ،تعلیم ،بجلی گیس اور دیگر بنیادی سہولیات ناکافی ہیں ۔مسائل ہی مسائل ہیں ۔حکمرانوں کے پاس آسان اور فوری حل جس کا حل عوام کی توجہ ہٹاکر کیسی جذباتیت کی جانب کردی جاتی ہے ۔پاکستان اور بھارت میں حکمران طبقات کی کامیابی کاراز جذباتیت میں ہے۔ایک کارگر ہتھیار ہے ۔الیکشن ہوں یا کوئی بڑا عوامی مسلہ ہو۔جذباتیت کے ہتھیار سے حل کرلیا جاتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 185 Print Article Print
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 87 Articles with 23596 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More

Reviews & Comments

Language: