جنگیں ڈر سے نہیں ڈٹ جانے سے ٹلتی ہیں

(Chaudhry Mohammed Zulfiqar, )

جس روز سے ہندوستان نے میرے وطن پہ جنگ مسلط کی ہے۔ ٹی وی اور اخبارات میں بڑے بڑے بقراط اور سقراط اپنے اپنےتجزیے بیان اور تحریر کر رہے ہیں۔ سنکر اور پڑھ کر حیران بھی ہوتا ہوں اور پریشان بھی۔ حیرانگی اس پہ ہوتی ہے کہ جنگ کی اصل وجوہ کوئی بھی بیان کر رہا ہے نہ لکھ رہا ہے۔ سامنے کی ظاہری (مصنوعی )صورت ِ حال کو الفاظ بدل بدل کر بولا اور لکھا جا رہا ہے۔ کئی حضرات اپنے موقف کو وزنی بنانے کے لئیے بہت ثقیل الفاظ (عربی ، فارسی ،انگلش)استعمال کر رہے ہیں۔ اصل وجوہ سے مکمل چشم پوشی ہے۔

پریشانی اس پہ ہے کہ پاکستان قوم بہت سادگی سے الفاظ کے ان شہسواروں کے لائیو پروگراموں کے عادی ہو چکے ہیں۔ اوراخبارات کے کالمز ہی ان کی معلومات کا پہلا اور آخری ذریعہ ہیں۔ عام مطالعہ سے بالعموم اور قرآن مجید میں تدبر سے بالخصوص عامتہ الناس کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اس لئیے الفاظ کے جغادری پوری قوم کو اپنے الفاظ کی ڈگڈگی پہ نچا رہے ہیں۔

سیدھی سی بات ہے۔ کفار اسلام کو مٹا نے کے درپہ ہیں اور اسلام کو مٹانے کے لئیے ان کے نزدیک پاکستان کو مٹانا ضروری ہے۔ دشمن ہمیں چاروں طرف سے گھیر چکا ہے۔ مشرق میں ہندوستان بذاتِ خود موجود ہے۔ مغرب میں امریکہ پچاس ممالک کی مشترکہ افواج کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ بقول جرنل حمید گل مرحوم ورلڈ ٹریڈ بہانہ ہے افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے۔ یہ تو اللہ بھلا کرے افغان طالبان کا کہ انہوں نہ صرف یہ کہ امریکہ کہ پاؤں افغانستان میں جمنے نہیں دئیے بلکہ ان کی مار مار کر وہ درگت بنائی ہے کہ امریکہ بہادرتمام تر جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوجی قوت کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی منت سماجت کر رہا ہے کہ کسی طرح طالبان کے کمبل سے ہماری جان چھڑا دو۔ یعنی طالبان ہماری مغربی سرحد پہ محافظ ہیں۔

بہر کیف امریکہ اور ہندوستان کی افغانستان میں موجودگی ہمارے لئیے باعث خطر ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم موجود ہے۔ الطاف حسین کی تازہ ترین بھارت کی حمایت میں ہرزہ سنائی ( پاک فوج کو گالیاں) سماعت کر چکے ہونگے۔ بابر غوری (ایم کیو ایم) سابقہ وزیر شپنگ اینڈ سی پورٹ کی زیر نگرانی تراسی ہزار امریکی اسلحہ کے کنٹینر غائب کر دئیے گئے تھے۔ وہ اسلحہ پاکستان میں پاکستان دشمنوں کے پاس موجود ہے۔ انڈیا پاکستانی سرحد کے ساتھ چودہ ہزار بنکر بنا چکاہے۔

او آئی سی وزراء خارجہ کے اجلاس میں انڈیا کی انکل سام کے حکم کے ساتھ شرکت اور سعودی وزیرِ خارجہ کا پاکستان کا دورہ منسوخ ہونا۔ انڈین ہوائی جنگی جہازوں میں اسرائیلی اسلحہ کا استعمال۔ انڈیا کا پاکستان پہ حملہ اور نیتن یاہو کی انڈین وزیر اعظم مودی کے لئیے مشیرانہ خدمات سے اہل ِکفار کی انڈیا کی حمایت بہت واضع ہے۔ اہل ِکفار پاکستان کو مٹانے کے لئیے متحد ہو چکے ہیں۔ انڈین ہوائی جہازوں کی کاروائی پہلی عملی کاوش ہے۔ اب یہ جنگ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ مزید وضاحت کے لئیے عرض ہے کہ پلوامہ حملہ دوسرا نائن الیون ہے۔ پلوامہ ناٹک پاکستان پہ حملہ کرنے کا جواز تراشہ گیا ہے۔ یہ مودی کے انتخابات میں کامیابی کے لئیے نہیں پاکستان کے وجود کو ختم کر نے کے لئیے رچایا گیا ہے۔پاکستان کو مالی طور پہ کھو کھلا کر دینے کے بعد اہل کفار کا اگلا وار ہے۔ یہ جنگ کتنی طویل ہوگی۔ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں وقت اور جہتیں بدلتی رہیں گی۔ کیونکہ دشمن مکار بھی ہے اور عیار بھی۔ سعودی عرب اور امارات کو متنبہ کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے دونوں ممالک پاکستان کے لئیے پٹرول کی ترسیل بھی انکل سام کے حکم سے بند کر دیں۔ میرے خیال میں ایسا ہو جانا چاہئیے کیونکہ پاکستانی عوام اور فوج کا ہر طرف سے مایوس ہوکر اللہ سبحانہ وتعالی سے تعلق اور مدد و نصرت کا یقین پختہ ہو جائے۔ اور پھر اللہ سبحانہ کی نصرت سو فی صد یقینی ہے۔
بتوں سے تم کو امید خدا سے نا امیدی
بتا تو سہی اور آ ذری کیا ہے

طالبان ہمارے لئیے بہترین رول ماڈل ہیں۔ جب تک ہم مسلم اور غیر مسلم ممالک سے امید وآس باندھے رکھیں گے اللہ سبحانہ وتعالی ٰ کی نصرت رکی رہے گی۔ ہم ایٹمی طاقت رکھتے ہوئے بھی اسی طرح ذلیل خوار ہوتے رہیں گے۔
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اللہ تعالیٰ کے در کو چھوڑ کر در در ٹھوکرنے کھانا ہمارا مقدر رہے گا۔ میرا گمان یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی ٰایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ ہم سارے در چھوڑ کر اس کے در کے ہو جائیں۔ غزوتہ الھند اسی دھرتی کے مومنین نے سر کرنا ہے۔ قرآن کی ہدایت ہے کہ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔( المائدہ ) ۔ اب ہمیں یہ ہدایت سمجھ جانی چاہئیے۔ اگر نہ سمجھے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی اورکو چن لیں گے۔ جنگیں ڈر سے نہیں ڈٹ جانے سے ٹلتی ہیں۔ کفار کے سامنے ڈٹ جانا ہی مومن کی شان اور شہادت تمنا ہے۔ یہی ایک مومن کا ایسا ہتھیار ہے جس کا کفار کے پاس کوئی بدل نہیں۔ شہادت ہے مقصود ومطلوب مومن

بھارتی پائلٹ کی واپسی بزدلی کی بد ترین مثال ہے۔ حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم کی شہادت ہماری بزدلی کا جواب ہی تو ہے۔

میرا گمان ہے کہ پاک فوج کفار کی مکمل شکست تک ہر طرح کا کنٹرول اپنے ہاتھ لے لے گی۔ جنگیں جوان لڑا کرتے ہیں۔ کھلاڑی اور اناڑی نہیں۔ جنگیں ڈٹ جانے سے ٹلتی ہیں ڈر جانےسے جنگیں مسلط کر دی جاتی ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت کو اتنی سادہ بات کی بھی سمجھ نہیں ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 293 Print Article Print
About the Author: Chaudhry M Zulfiqar

Read More Articles by Chaudhry M Zulfiqar: 18 Articles with 8024 views »
I am a poet and a columnist... View More

Reviews & Comments

Language: