جیئیں تو ایسے (Episode 2)

(Shahid Hasrat, Multan)

جیئیں تو ایسے

اس نے کبھی تائی جان کے منہ سے کسی کی غیبت یا برائی نہیں سنی' نہ ہی کبھی تایا جی کو کسی سے لڑتے جھگڑتے یا الجھتے دیکھا۔ تایا جی پیشے کے اعتبار سے استاد تھے اور انہوں نے ہمیشہ اس پیشے کا وقار ملحوظ رکھا۔ وہ ہر کسی کو نیکی کا درس دینے والے عالم با عمل تھے ۔ دونوں میاں ' بیوی نے اولاد کی بھی بے مثال تربیت کی تھی۔

ثمن کو اپنے تایا جی کا گھرانہ ہر لحاظ سے آئیڈیل لگا کرتا تھا۔ آئمہ آپی تایا جی کی سب سے بڑی بیٹی تھیں اور ثمن تو گویا ان کی عاشق تھی۔ بے پناہ حسن اور تمکنت رکھنے والی آئمہ آپی کی نسبت ٹھہرائی گئی تو رانیہ اور اریبہ کے ساتھ مل کر ثمن نے بھی خوب ہی آنسو بہائے ۔ وہ اب بہت جلد پرائی ہونے والی تھیں ' یہ سوچ سوچ کر ثمن ک آنسو نہ رکتے تھے۔ آئمہ آپی نے ہمیشہ بڑی بہنوں کی طرح ہی اس کے لاڈ اٹھائے تھے' اب بھی انہوں نے اس کے آنسو پونچھ کر ڈھیروں تسلیاں دیں۔

" میں کوئی دوسرے شہر رخصت ہو کر تھوڑی جا رہی ہوں ثمن گڑیا! جلدی جلدی گھر گھر کے چکر لگایا کروں گی ۔" انہوں نے اسے پیار سے سمجھایا۔

وہ سمجھ بھی گئی اور بہل بھی گئی' واقعی آئمہ آپی کا سسرال یہیں اسی شہر میں ہی تو تھا۔ وہ لوگ دور پرے کے رشتہ دار بھی تھے۔ اویس بھائی بھی بہت خوب صورت تھے۔ ان کا آئمہ آپی سے صحیح جوڑ بنتا تھا۔

ثمن نے اپنی اداسی پس پشت ڈال کر آئمہ آپی کی شادی میں خوب رونق لگائی۔ آئمہ آپی پیا دیس سدھار گئیں۔ تایا جی کے گھر میں اداسیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔

آئمہ آپی! اپنے وعدوں کے برعکس بہت دنوں بعد میکے کا چکر لگاتی تھیں اور ان کے آنے کے بعد تایا جی کے گھر کی اداسیاں کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتی تھیں ' ایسا کیوں ہوتا تھا ثمن وجہ جاننے سے قاصر تھی ۔ پھر اسے اریبہ کی زبانی پتا چلا کہ وہ جس کو اداسی سمجھ رہی ہے' وہ حقیقت میں تایا جی کے گھرانے کی پریشانی ہے۔

آئمہ آپی کے سسرال والے بظاہر پڑھے لکھے ' مگر بے حد تنگ ذہنیت کے لوگ تھے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانا شروع کر دیے تھے۔ آئمہ آپی کی ذات ہر وقت کڑی تنقید کی ذد میں رہتی۔ ان کے کیے گئے ہر کام میں مین میخ نکالی جاتی ۔ ان کے خلاف اویس کے کان بھرے جاتے۔ ان کے سونے ' جاگنے' اٹھنے' بیٹھنے' کھانے ' پینے غرض ہر بات پر اعتراض کیا جاتا۔

آئمہ آپی کا حسن کملا کر رہ گیا تھا۔ ان کے لب مسکرانا بھول گئے' جبکہ انکھوں میں عجیب سے ہراس نے ڈیرے ڈال لیے۔ ان کی حالت دیکھ کر ثمن کا جی بہت دکھتا' مگر وہ دعا کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہ تھی' پھر ایک حیران کن بات ہوئی۔ تائی جان نے خضر بھائی کے لیے آئمہ آپی کی نند کا رشتہ مانگ لیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 234 Print Article Print
About the Author: Shahid Hasrat

Read More Articles by Shahid Hasrat: 17 Articles with 9256 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: