سادہ مگر سوال یہ ہے

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
ہمیں پیچیدہ سوالات میں الجھانے کا بیڑہ جن لوگوں کے سپرد ہے۔ وہ صاحبان علم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبان وسائل بھی ہیں۔ جھوٹ کو سچ بتانا اور اس کا دفاع کرنا پروفیشنل ازم بتایا جاتا ہے۔مگر سالوں کا گھٖڑا بیانیہ اس وقت عوام کو حکمرانوں سے بد دل کر دیتا ہے جب ْ اندر گھس کر مارنےْ کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونکس میڈیا کے ذریعے کیے گئے دعوے ہوا میں تحلیل ہو کر زمین بوس ہو جائیں۔

مشہور قول ہے کہ سچ تین مرحلوں سے گذرتا ہے، پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے دوسرے مرحلے میں اس کی متشدد طریقے سے مخالفت کی جاتی ہے اور تیسرے مرحلے میں سچائی کویوں تسلیم کر لیا جاتا ہے جیسے اس سچائی کو کبھی ثبوت کی ضرورت ہی نہ تھی۔ امریکہ میں برپا ہوئے۹/۱۱ کے بعد دنیا بھر میں سچائی کو جعلی خبروں کی کند چھری سے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ افغانستان میں القاعدہ کے نام پر باقاعدہ جعلی خبروں کے ذریعے پہلے عوام کا ذہن بنایا گیاپھرطالبان کی حکومت کو ڈیزی کٹر بمبوں کے ذریعے تورا بورا بنایا گیا۔ عراق میں انسانیت کش اسلحہ اور ایٹمی بمبوں کا فسانہ اس ماہرانہ طریقے سے تراشا گیا کہ یورپ اور امریکہ میں محفوظ گھروں میں رہائش پذیر شہریوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ وہاں تو جعلی خبروں نے بھونچال برپا کیا تو فلسطین اور کشمیر میں حقیقی، انسانیت کش اور تاریخ کے بد ترین ریاستی جبر کے شکار نہتے عوام کو دہشت گرد ، امن کے دشمن اور امن عالم کے لیے خطرناک ترین لوگ بنا کر پیش کیا گیا۔ بھارت نے تو پلوامہ کے نوجوان، مظلوم اور بھارتی ظلم اور بربریت کے شکار عادل ڈار کا دنیا کے سامنے ایسا نقشہ پیش کیا ۔ جیسے وہ امن عالم کا دشمن ہو، دہشت گرد تنظیموں کا اہلکار ہو، اس کے تانے بانے پاکستانیوں سے اور دہشت گردی سے اس خوبصورتی سے ملائے گئے کہ دنیا انگشت بدندان ہو گئی۔ عادل کے خود کش حملے کو جواز بنا کر بھارت پاکستان پر چڑھ دوڑا۔جھوٹ کی مٹی پر لغو پروپیگنڈے کا پانی ڈال کر کچی مٹی کی اینٹوں سے اپنے بیانیے کا لال قلعہ تعمیر کیا۔ اپنے تئیں عالمی طاقتوں کی حمائت کا پلستر بھی چڑہا لیا ۔ جب بھارت روسی مگ طیاروں کے ذریعے ْ اندر گھس کر مارنے ْ کے بیانیے کو عملی جامہ پہنا رہاتھا۔ چین میں اس کی وزیر خارجہ علاقائی اثرورسوخ والے ممالک کو دہشت گردوں کی تعریف بتا رہیں تھیں تو امریکہ میں اس کی سفارت کاری کا یہ کہہ کر ڈہول پیٹا جا رہا تھا کہ اس نے پاکستان کا امریکی ساختہ ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے۔ جس دہشت گردی کے مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ۔کسی غیر جانب دار ادارے یا سرکار نے اس لغو دعوے کی تائید نہ کی۔ ایف سولہ مار گرانا بھی خود ساختہ بیانیے کا حصہ ثابت ہوا۔ مگر اصل ثبوت دنیا کو پاکستان کی اہلیت اور بردباری کا حاصل ہوا۔ راتوں رات تھاڈ نامی میزائلوں کا تین سو اہلکاروں سمیت نصب ہوجانا، امریکی صدر کا غیر ملکی دورے کے دوران بیان آجانا ، امریکہ وزیر خارجہ اور دوسرے ممالک کا فون کانوں سے نہ ہٹانامنت سماجت اور پروپیگنڈے کے بغیر ممکن ہو گیا۔ افغانیوں کا بھارتی کٹھ پتلی ہونے کا غبارہ افغانستان میں عسکری مرکز پر پھٹا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کے نمائندہ ایوان کے اجتماع میں سیاسی جماعتوں کا جو فوری اور مثبت رد عمل آیااس کے بعد حکومت نے ایک بھارتی ہواباز کی رہائی کا اعلان کر کے پاکستان کے بیانیے کو مضبوط کیا۔

بالا کوٹ حملہ کو بھارت کا ملک کے اندر ْ اندر گھس کر مارنےْ کا بیانیہ بن سکا نہ ملک کے باہر اسے اپنا حق دفاع منوا سکا۔چین نے بھارت کے ایماء پر پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹوکرکے بھارت کے علاقائی تھانیداری کے غبارے سے نیویارک میں ہوا نکال دی۔

ان واقعات نے اذہان میں کئی سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے جوابات بالکل سادہ ہیں ۔

پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے، حکومت اور عوام جنگ سے خوفزدہ ہیں اور ان کا یہ خوف انھیں امن کی بھیک مانگنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سوال کا پاکستان کے اندر جواب جاننے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ ہم عملی طور پر گھاس کھا کر اور ْ بلین ڈالرز کی بے غیرتی کی امداد ْ کو جوتے کی نوک سے ٹھکرا کر اس کا جواب دے چکے ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کے پس منظر میں ہمارا وہ تجربہ ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے جنگ لڑ کر ہم نے حاصل کیا ہے۔حالت جنگ میں پیدا ہونے والی ہماری نسل جوانی کی حدود کراس کر چکی ہے۔بارود کی بوہمارے لیے نامانوس نہیں رہی۔ بموں کے دہماکے ہماری زندگی کا حصہ رہ چکا ہے۔جہاں تک موت سے خوف کا تعلق ہے تو ْ شہادت ہے مطلوب و مقصود ْ نے موت کو زندگی سے مرغوب تر بنا دیا ہوا ہے۔ ہم شہیدوں کی میتوں پر گریہ ضرور کرتے ہیں مگر ہم ان کی قبروں پر ْ نشان عزم ْ لہرانا نہیں بھولتے ، اور شہید کا معصوم بیٹا جوان ہوتا ہی باپ کی راہ پر چلنے کے لیے ہے۔ اس کے باوجود ہمیں ادراک ہے کہ مسائل بات چیت سے حل ہوتے ہیں نہ کہ قوت سے۔ دنیا کی اکیلی سپر پاور نے نہتے افغانیوں سے ہمارے دالانوں میں جنگ لڑی مگر افغانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکا نہ طاقت کا رعب منوا سکا۔بھارت ستر ہزار کشمیروں کو ذبح کر کے اگر ان کی آزادی کی تڑپ کو ختم نہ کر سکا تو یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ْ اٹوٹ انگْ کا راگ بھی چھیڑے رکھے ۔

بھارت نے بہت محنت سے اپنا یہ بیانیہ بیچنے کی کوشش کی ہے کہ کشمیری اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔یہ پاکستان ہے جو انھیں ْ دہشت گردی ْ پر اکساتا ہے ۔ عادل ڈار نے موت کو گلے لگا کر بھارت کے اس بیانیے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ پاکستانی حدود میں بھارت کی جارحیت اس کے ایک ہواباز کی حراست اور رہائی نے پاکستان کی اہلیت، امن کی خواہش اور نیک نیتی کو عالم اقوام میں منوایا ہے۔اس موقع پر ایسے ناقابل تردید ثبوت بھی ہمارے ہاتھ لگ چکے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بغض، حسد اور سازشوں کے جزیرے دنیا میں کہاں کہاں واقع ہیں۔

جہاں تک ملک کے اندر اتحاداور یکجہتی پیدا کرنیوالے ہمارا بیانیہ کا تعلق ہے وہ کمزور ہے نہ مشکل وقت میں بے کار ثابت ہوا ہے۔ بلکہ وقت اور امتحانات نے ہمارے اس بیانیے کو مضبوط ہی کیا ہے۔

البتہ ہمیں اپنے گھر کے اندر چونا اور گیری کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا ہوگا ۔ نسلوں سے سرقداجسام کی پہچان سفیدی ہی رہی ہے۔ ہمیں ان روائتوں پر عمل پیرا ہونے میں ہچکچائٹ کے اظہار سے بچنا چاہیے۔

ملک اوراداروں کا افراد پر حاوی رہنا ہی عدل ہے۔ اور عدل کے بارے میں غلط نہیں کہا گیا کہ اسے معاشرے میں نظر بھی آنا چاہیے۔ عدل اور انصاف کا ہمارا میزان زنگ آلود ہے اور منصف اس مقام سے کوسوں دور ہیں۔ جس مقام پر فائز منصفوں سے اللہ کے محبت کرنے کا عندیہ قران کریم دیتا ہے۔

ہمیں پیچیدہ سوالات میں الجھانے کا بیڑہ جن لوگوں کے سپرد ہے۔ وہ صاحبان علم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبان وسائل بھی ہیں۔ جھوٹ کو سچ بتانا اور اس کا دفاع کرنا پروفیشنل ازم بتایا جاتا ہے۔مگر سالوں کا گھٖڑا بیانیہ اس وقت عوام کو حکمرانوں سے بد دل کر دیتا ہے جب ْ اندر گھس کر مارنےْ کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونکس میڈیا کے ذریعے کیے گئے دعوے ہوا میں تحلیل ہو کر زمین بوس ہو جائیں۔

سادہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے دوسروں کے اعمال سے کچھ عبرت بھی حاصل کی ؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 259 Print Article Print
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 93 Articles with 34948 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: