دنیا کے چند انجینیئرز کی 4 بڑی تعمیراتی غلطیاں

پوری دنیا میں آج انسان کے ہاتھ کی ایک سے بڑھ کے ایک تعمیراتی عمارت یا اسٹرکچر موجود ہے۔ کچھ تو اتنی حیرت انگیز ہیں کہ جسے کوئی بھی دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ اور دنگ کردینے والے اسٹرکچرز کی تعمیر میں سب سے اہم کردار انجینئیرز کا سمجھا جاتا ہے-لیکن آج ہم دنیا میں موجود چند انجینئیر کی اب تک کی سب سے بڑی تعمیراتی غلطیوں کی بات کریں گے جنہوں نے اسٹرکچرز کو عجوبہ بنا دیا۔
 

The lotus riverside complex
اس بلڈنگ کو دیکھ کر آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسی عمارت ہے جو زمین پر لیٹی ہوئی لگ رہی ہے اور اسے کیا سوچ کر بنایا گیا ہوگا۔ دراصل یہ بلڈنگ بن کر تیار ہونے کے آخری مراحل میں تھی کہ ایک بہت بڑی غلطی کی گئی- اس بلڈنگ کے بننے کے بعد نیچے گیراج کے لیے مٹی کو ہٹایا گیا جس کی وجہ سے مٹی نرم پڑھ گئی اور بارش کے بعد اس کا ایک طرف کا وزن بڑھ گیا اور یہ پوری بلڈنگ ہی زمین میں گر پڑی۔ لیکن بلڈنگ بہت مضبوط تھی جو پوری طرح گرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹی اس لیے کہا جاتا ہے کہ عمارت سے زیادہ مضبوط اس کی بنیاد ہونی چاہیے۔


Tacoma narrows bridge
1940 میں واشنگٹن میں ایک خوبصورت اور بہترین پل تیار ہوا جو اس جگہ کی شان تھا ۔اس کو دیکھ کر اس میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن پل بننے کے تین ماہ بعد ہی اس میں ہوئی بہت بڑی غلطی سب کے سامنے آگئی۔ یہ پل تیز ہواوں میں جھولنے لگتا تھا جس کے باعث اس میں چلنا بھی مشکل ہوجاتا تھا ۔لیکن 7 نومبر 1940 کی صبح تیز ہواؤں نے اس کی مکمل پول کھول دی اور یہ پل ہواؤں میں ایسے چھولنے لگا کہ لوگوں کی جان ہتھلی پر آگئی اور جھولتے جھولتے یہ پل بری طرح ٹوٹ کر گر گیا ۔ اس واقعے کو یاد کر کے لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ پل بنایا تھا یا کوئی جھولا۔


Vdara Hotel
لاس ویگاس کا یہ عالیشان ہوٹل جس میں آپ بھی کوئی غلطی تلاش نہیں کر سکیں گے ۔ اس کو بنایا ہی دنیا کے بہترین انجینئرز نے تھا ۔ لیکن وہ دھوپ کو ان دیکھا کر گئے۔ دراصل اس ہوٹل کا ڈیزائن ایسا ہے کہ دھوپ اس بلڈنگ سے ٹکرا کے نیچے پول پر ایسے پڑتی ہے کہ وہاں کا درجہ حرارت 20 ڈگری بڑھ جاتا ہے ۔اس لیے اس ہوٹل کو ڈیت ریٹ والا ہوٹل بھی کہا جاتا ہے ۔ گرمی میں جب اس شہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے تو یہاں پر درجہ حرارت 60 ڈگری محسوس ہوتا ہے۔ یعنی انڈے کو ابالنے کی ضرورت نہیں بس انڈا یہاں رکھیں اور وہ ابل جائے گا ۔


leaning tower of pisa
یہ مینار ٹیڑھا ہے لیکن اس مینار کو ٹیڑھا نہیں بنایا گیا تھا انجینیئرز کو شاید یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اسے جس مٹی میں بنا رہے ہیں وہ اتنی نرم نکلے گی۔ اس طرح یہ مینار ٹیڑھا ہوگیا پھر اسے بچانے کے لیے تاروں کی مدد سے سنبھالا گیا۔ یہ مینار اب کافی جھکا ہوا ہے۔ بغیر غلطی کے یہ شاید اتنا مشہور نہ ہوسکتا تھا جتنا یہ ابھی ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ جب قسمت چلتی ہے تو غلطی پر بھی تعریف ملتی ہے۔

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Mar, 2019 Views: 5681

Comments

آپ کی رائے