یورپ میں مسلمانوں پر حملے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

نیوزی لینڈ کی مساجد میں 9پاکستانیوں سمیت 50مسلمان نمازیوں کی شہادت نے مسلم دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔مگر یہ یورپ میں اسلام کو مٹانے کے بجائے اسلام کے پھیلاؤ کے شعلے ثابت ہو رہے ہیں۔ او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں اس سانحہ پر غور اور آئیندہ کے لائحمہ عمل کا اعلان ہو گا۔ اجلاس خلافت عژمانیہ کے مرکز استنبول میں 22مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔ مسلم دنیا اس بات پر غور کرے گی کہ دنیا میں مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ یہ بات بھی تشویشناک اور سنگین ہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ آور نے انتہائی منظم انداز میں نمازیوں پر حملہ کیا۔ حملے کے لئے جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا تا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان شہید ہوں۔ دہشتگرد نے معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا۔ یہ بات بھی خوفناک ہے کہ حملہ آور گزشتہ برس پاکستان بھی آیا تھا اور گلگت بلتستان کی خوبصورتی کی بہت تعریف کی ۔ پاکستان کی مہمان نوزی اور رحم دلی کی بھی تعریف کی۔ حملہ آور آسٹریلیا نژاد اور متعصب ذہنیت کا مالک تھا۔ اس کے رابطے یورپ بھر میں تھے۔ یہاں تک کہ اس نے لندن کے میئر صادق خان کو دھمکی دی اور برطانیہ میں دہشتگرد حملوں کی بات کی۔ نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملے سے24گھنٹے قبل سوشل میڈیا پراس نے دوچار نہیں بلکہ 74صفحات پر مشتمل منشور جاری کیا۔ منشور میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کا علان کیا ۔ حملے کی مکمل تفصیلات دی گئیں۔ جس میں کہا گیا کہ وہ ایک سفید فام شخص ہے۔ جس نے اپنے لوگوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ایک حملہ کرے گا تا کہ یورپی سرزمین پر غیر ملکیوں کے باعث ہونے والی اس کے بقول لاکھوں اموات کا انتقام لے سکوں۔وہ کہتا ہے کہ جب تک ایک بھی سفید فام زندہ ہے یہ لوگ ہماری زمین کو فتح نہیں کر سکیں گے اور ہمارے لوگوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔اس منشور کو درجنوں افراد نے شیئر اور پسند کیا۔ مگر پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پتہ نہ چل سکا۔ نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا کی خفیہ ایجنسیاں بھی بے خبر رہیں۔ دونوں ممالک میں متعلقہ شہروں کے پولیس کمشنرز حیرانی او انہونی کی جیسے ایکٹنگ کر رہے ہیں۔ جیسے انہیں دہشتگرد اور اس کی دہشتگردی کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہو، یا کسی نے اسے نظر انداز کیا ہو۔دہشتگرد نے جو بندوق فائرنگ کے لئے استعمال کی ، اس پر بھی خلافت عثمانیہ کے دور میں مسلمانوں کے فتوحات کا زکر کیا ہے۔ حملہ آور کی عمر 28سال ہے اور اس کے ساتھ گرفتار کئے گئے دیگر افراد کی عمریں بھی 20برس کے لگ بھگ ہیں۔ یہ کسی تربیت یا ذہن سازی کا نتیجہ ہو گا کہ عیسائی دہشتگرد نے مسلمانوں پر حملے کی ویڈیو کو لائیو نشر کیا ۔ نمازیوں پر اندھا اھند فائرنگ کرتے ہوئے اور اس کے بعد بھی لائیو نشریات جاری رکھنا کسی منظم دہشتگرد نیٹ ورک کا پتہ دیتا ہے۔ جس طرح گرفتاری کے بعد دہشگرد نے عدالت میں خود کو طنزیہ انداز میں رکھا ، یہ بھی حیران کن ہے کہ اسے اتنے معصوم اور نہتے مسلمانوں کو شہید اور زخمی کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔

دنیا میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کرنے والوں کو یہ نیٹ ورک اپنا ہیرو سمجھتا ہے۔ اس دہشتگرد کی بندوق پر جو عبارتیں اور نام لکھے گئے تھے ، ان کا تعلق بھی مسلم مخالف دہشتگردی سے جڑتا ہے۔ مثلاًٍ ایک الیگزینڈر کا نام ہے جس نے 2017میں کنیڈا میں ایک مسجد پر فائرنگ کی اور 6بنازیوں کو شہید کر دیا۔ وہ ان دنوں جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ دہشتگرد نے لندن کے میئر کو دہشتگرد حملوں کی دھمکی دی اور لندن میں شر پسندوں نے ایک مسجد سے نکلنے وال نمازیوں پر آہنی اشیاء سے حملہ کیا اور کم از کم ایک مسلمان کو زخمی کر دیا۔

یورپ میں اسلاموفوبیا کے شکار دہشتگردوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے مسلمانوں کو غیر ملکی یا قابض قرار دینا تاریخ کے حقائق مسخ کرنے کے مترداف ہے۔ مسلمانوں نے انسانی مظالم سے نجات دلانے کے لئے دنیا میں حکمرانی کی اور یوں کسی غیر مسلم کو تہہ تیغ نہیں کیا۔ بچوں، بزرگوں اور خواتین یا نہتے لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کا اعتراف اس وقت اور دور جدید کے مورخین بھی کرتے ہیں۔ تا ہم جس طرح نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لئے سیاہ لباس پہنا اور سر پر نقاب کیا، اس نے یہ اطمینان ضرور دلایا ہے کہ مغرب مسلمانوں کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کا مخالف ہے۔ عیسائی دہشگرد مٹھی بھر ہیں۔ جو دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیلتے اسلام سے خوفزہ ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ جو بھی غیر مسلم اسلام پر تحقیق کرتا ہے اور اس کا تنقیدہ جائزہ لیتا ہے ، وہ خود ہی اسلام کا گرویدہ بن جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی اکثریت سکالرز کی ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ سوچ سمجھ کر اسلام کے دائرہ میں بڑی تعداد میں داخل ہو رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ نو مسلم کسی مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے اور’’ لکم دینکم ولی دین ‘‘کی مثال پیش کرتے ہیں۔
 
مسلمانوں دشمن اور نسلی تعصب یا کسی انتقام کی آڑ میں مسلمانوں پر جس قدر بھی حملے ہوتے ہیں ، اس کے بعد اسلام پر ریسرچ کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور جو بھی اسلام کے نزدیک آتا ہے تو وہ اسلام کو ہی اپنا نظریہ حیات بنانے میں فخر کرتا ہے۔ اسے کسی دوست یا رشتہ دار کے ناراض ہونے کی فکر نہیں ستاتی بلکہ ان پر بھی سچائی کو پیش کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں پر ہونے والے یہ حملے یورپ میں اسلام کے پھیلنے کی چنگاری سے شعلے بھڑکانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نیوزی لینڈ کے شہدا ء کے درجات بلند کرے اور ان کی قربانی کو دین حق کے فروغ کے لئے معاون بنائے۔ اﷲ متاثرین کو صبر و استقامت سے نوازے۔ مسلم دنیا استنبول میں اس پر بھی غور کر سکتی ہے کہ یورپ سمیت دنیا کو اسلام کی امن پسند اور سلامتی پر مبنی تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لئے قرآن اور صحیح احادیث کو دنیا کی تمام زبانوں میں آسان ترجمہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے تا کہ دنیا جان سکے کہ اسلام کا پیغام امن و سلامتی ہے، دہشتگردی اور منافرت نہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 532 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 465 Articles with 144962 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: