نیوزی لینڈ میں اسلام دشمنی

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 مغربی دنیا اور اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کرتی چلی آرہی ہیں اس سلسلہ میں زہریلے پروپیگنڈے نے حقائق کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا سانحہ نیوزی لینڈسے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں مسلمان محفوظ ہیں نہ ان کی عبادت گاہیں ۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت ہونے والی پچاس کے قریب نمازیوں کی شہادت کو مغربی ذرائع ابلاغ دہشت گردی کے بجائے شوٹنگ( shootings )کا نام دے رہے ہیں جبکہ دہشت گرد کو ذہنی مریض بتایا جارہاہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے حملے کو دہشت گردی قرارتو دیا ہے لیکن مجرم کو فقط ذہنی مریض قرار دینا حقائق کے برخلاف اور انصاف کو چھپانے کے مترادف ہے۔ منظر ِ عام پر آنے والی ویڈیو دیکھ کر احساس ہوتاہے کہ سفاک دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ ایسا مذہبی جنونی ہے جسے اسلام سے شدیدنفرت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتاہے کہ جب مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو عدالت میں پیش کیا گیادوران سماعت دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ بے حسی کا مظاہرہ کرتا رہا اور اس کے چہرے پر ندامت کے بجائے خباثت سے بھرپور مسکراہٹ تھی، جس سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ اسے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں اس نے ضمانت کی درخواست بھی نہیں کی کرائسٹ چرچ پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت میں برینٹن ٹیرینٹ پر ابتدائی طور پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، مزید تحقیقات کے بعد دہشتگرد پر مزید الزامات میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔ برینٹن ٹیرینٹ کو 5 اپریل کو پولیس کی تحویل میں عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گاآسٹریلین دہشت گرد برینٹ ٹیرنٹ نے اس پورے حملے کی فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ بھی کی جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ اور گاڑی میں موجود اسلحے پر سفید رنگ سے انگریزی میں زبان میں کچھ نام اور سال درج ہیں اسلحے پر درج عبارت کی تشریح کے تناظر میں تاریخ سے مدد لینا پڑے گی اینٹون لنڈن پیٹرسن ، یہ اس طالبعلم کا نام ہے جس نے سوئیڈن میں مہاجرین کے دو بچوں کو قتل کیا تھا۔الیگزینڈر بیسونیٹ :الیگزینڈر بیسونیٹ نے 2017 میں کینیڈا میں ایک مسجد پر حملہ کرکے 6 لوگوں کو قتل کیا تھا۔سکندربرگ:سکندربرگ البانیہ کے اس رہنما کا نام ہے جس نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت شروع کی تھی۔انتونیو برگیڈن(Antonio Bragadin)یہ وینس کے اس فوجی افسر کا نام ہے جس نے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ترک مغویوں کو قتل کیا۔چارلس مارٹل:یہ اس فرنگی فوجی رہنما کا نام ہے جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمانوں کو شکست دی تھی۔ اس معرکے میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ویانا 1683:1683 میں خلاف عثمانیہ نے دوسری مرتبہ ویانا کا محاصرہ کیا تھا۔28 سالہ حملہ آور برینٹن کوعدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ جبرینڈن کے علاوہ حکام کی تحویل میں دو اور لوگ بھی موجود ہیں۔پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ہسپتال کے چیف سرجن گرگ رابرٹسن نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ 48 افراد حملے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ چار افراد کی موت راستے میں ہی واقع ہو گئی تھی جبکہ شہیدہونے والے دو پاکستانیوں کی بھی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ پانچ افراد لاپتہ ہیں۔ انتہائی نگہداشت افراد میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے جن میں ایک دو سال اور ایک تیرہ سالہ بچہ شامل ہیں زیادہ تر مریض زخمیوں کی عمریں 30 سے 40 برس کے درمیان ہیں بنگلہ دیش، انڈیا اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے شہری بھی ان حملوں میں ہلاک ہوئے ۔حالات وواقعات کا جائزہ لیں تو یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں دہشتگردی کا بانی امریکا نمبرون دہشتگرد ہے اور دوسرا نمبر مودی کا ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے ڈرامے کے بعدساری دنیا کا امن تباہ کیا خصوصاً مسلمانوں پرزمین تنگ کردی پاکستان، افغانستان ،شام ،عراق براہ ِ راست دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اندھن بنے اس کی آڑ میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کردیا درجن بھر مسلم ممالک کی معیشت تباہ ہوگئی امریکہ کے جہادی تیار کرنے کے بعد انہیں دہشتگرد قراردینے کا اثر پوری دنیا کے نوجوانوں پر ہوا ہے۔نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ کرنے والا دنیا میں خود کو پرموٹ کرنا چاہتا تھا۔کرکٹ میں پاک بھارت دشمنی کی طرح نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان بھی دشمنی ہے۔ نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ دلخراش سانحہ، عالمی ضمیر حالت سوگ میں ہے۔ حملہ آور تربیت یافتہ تھے، مساجد میں نماز ہو چکی تھی وگرنہ زیادہ نقصان کا اندیشہ تھا۔مغرب انتہائی معتصب ، مغربی میڈیا نے مسلمانوں کو ولن بنا کر پیش کیا ہے دہشتگردی بذات خود ایک نظریہ ہے جسے مغربی میڈیا پرموٹ کر رہاہے۔پاکستان نے دہشتگردی کو کچلا ہے، پاکستان سے ماہرانہ رائے لی جائے۔نیوزی لینڈ حملہ آور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شدت پسندی کا مواد ملا ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے موجد ایسا نظام بنائیں کہ ایسے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں جرم کرنے سے پہلے پکڑا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے مساجد پر حملے سوچی سمجھی سازش اور بذترین دہشت گردی کا واقعہ ہے یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا لیکن یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اس واقعے کی تکلیف کو بھولنا ناممکن ہے ۔نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جو کچھ بھی تبصرہ کرے اس پر عالمی رائے عامہ کیا رد ِ عمل ظاہرکرتی ہے اس سے قطع نظر حملہ آور مذہبی جنونی دہشت گرد نے اپنی بندوق پر لکھا Tours 732۔ اس نے دراصل Battle of Tours کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے۔ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور د بورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔نیوزی لینڈ مساجد حملہ آور کے اسلحہ پر مسلم عیسائی جنگوں کی تاریخ لکھی تھی ۔نیوزی لینڈ مساجد حملہ آور کے اسلحہ پر مسلم عیسائی جنگوں کی تاریخ لکھی تھی جمعہ15 مارچ 2019 کوحملے میں ملوث مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرلیا گیا جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے برینٹن ٹیرنٹ مسلمان مخالف اور انتہا پسند مسیحی گروہ کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی ہولناک واردات سرانجام دی۔ بریوک نے 2011 میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔نیوز ی لینڈ کے دہشت گردوں سے بر آمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائی ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نام لکھے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔معرکہ بلاط الشہدائحملہ آور نے اپنی بندوق پر لکھا Tours 732۔ اس نے دراصل Battle of Tours کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے یہ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور د بورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔مسلمانوں کی کامیابی سے مسیحی دنیا خوف زدہ ہوگئی۔ فرانس کے بادشاہ نے دیگر عیسائی ممالک سے مدد طلب کی تو انہوں نے امدادی فوجیں روانہ کیں۔توغ کے قریب دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحیوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اس کے باوجود وہ بہت بہادری سے لڑے۔10 روز تک جنگ کے بعد مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اگر مسلمان یہ جنگ جیت جاتے تو آج یورپ سمیت پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔مشہور مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی معرکہ آرا تاریخ ‘‘تاریخ زوال روما’’ میں لکھا ’’عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفورڈ میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتی‘‘حملہ آور دہشت گردنے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر دوسری عبارت لکھی ’sebastiano venier‘۔سباستیانو وینئر اطالوی کمانڈر تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لیپانٹو میں اطالوی دستے کی قیادت کی تھی۔ جنگ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو یورپ کے مسیحی ممالک کے اتحاد اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ تھی جس میں مسیحی اتحادی افواج کو کامیابی نصیب ہوئی۔مسیحی فوج میں اسپین، جمہوریہ وینس، پاپائی ریاستیں، جینوا، ڈچی آف سیوائے اور مالٹا کے بحری بیڑے شامل تھے۔یہ معرکہ یونان کے مغربی حصے میں خلیج پطرس میں پیش آیا جہاں عثمانی افواج کا ٹکراؤ عیسائی اتحاد کے بحری بیڑے سے ہوا جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔یہ بھی دنیا کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ 15 ویں صدی کے بعد کسی بھی بڑی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی اور بہت بڑی شکست تھی جس میں عثمانی اپنے تقریباً پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے۔اس جنگ میں ترکوں کے 80 جہاز تباہ ہوئے اور 130 عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ 15 ہزار ترک شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے اس کے مقابلے میں 8 ہزار اتحادی ہلاک اور ان کے 17 جہاز تباہ ہوئے۔حملہ آور دہشت گردنے جیکٹ پر Marcantonio Colonna لکھا۔ یہ بھی اطالوی بحری فوج کا کمانڈر تھا جس نے جنگ لیپانٹو میں حصہ لیا تھا۔دہشت گردنے اپنی اسلحے پر چارلس مارٹل کا نام بھی لکھا جو فرانس کا کیتھولک حکمران تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسیحی افواج کی قیادت کی تھی اور مسلمانوں کو شکست دی تھی۔حملہ ا?ور نے اپنی بندوق کے میگزین پر ویانا 1683 بھی لکھا۔اس نے دراصل جنگ ویانا کا حوالہ دیا۔ 1683ء میں یہ صلیبی جنگ خلاف عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کے دور میں مسلمان فوج نے 1529 میں آسٹریا کے دار الحکومت ویانا کا محاصرہ کرلیا۔موسم، راستوں کی خرابی اور رسد کی کمی کی وجہ سے محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا لیکن یورپ کے وسط تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔ویانا کا دوسرا محاصرہ 1683 میں سلطان محمد چہارم کے دور میں ہوا جس کی قیادت ترک صدراعظم قرہ مصطفٰی پاشا نے کی۔ دوسرے محاصرے میں مسلمانوں کو قرہ مصطفٰی پاشا کی نااہلی کے باعث جنگ میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی وسطی یورپ میں ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی بلکہ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔نیوزی لینڈ کے حملہ آوروں نے اپنے اسلحے پر اسی طرح کی مزید عبارتیں اور پیغامات بھی تحریر کیے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دنیا میں مسلمانوں پر لگایا گیا دہشت گردی کا لیبل محض ایک دھوکہ ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مغرب 50 بے گناہ افراد کا خوب بہانے والوں کو کیا سزا دیتاہے۔ وقت انتظارکررہاہے، تاریخ منتظرہے اور مورٔخ نئی تاریخ لکھنے کو بے چین ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 531 Print Article Print
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 218 Articles with 84821 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ