فلسفی ہیگل،جارج ولہیم فریڈرک

(Arif Jameel, Lahore)

ہیگل،جارج ولہیم فریڈرک

فلسفے کی دُنیا میں ہیگل ایک اہم اور عظیم نام ہے جس سے فراموش نہیں کیا جا سکتااور اسکی تصانیف میں جو مقام " لوجک " کو حاصل ہے وہی اُسکو فلسفے کی دُنیا میں خصوصی اہمیت دلواتی ہے۔
ہیگل درد و الم اور مصائب کو زندگی کی علامت قرار دیتا ہے اور کہتا ہے :
" زندگی خوشیوں کیلئے نہیں بنائی گئی ۔بلکہ ترقی کی منازل اور حصول علم کیلئے تخلیق کی گئی ہے۔
" اُس نے لکھا تھا صرف ایک آدمی ہے جو مجھے سمجھتا ہے اوربعض دفعہ لگتا ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں سمجھتا" اس جملے میں اُس کا اشارہ دراصل اپنی ہی طرف تھاکیونکہ ہیگل نے اپنے فلسفے کی بنیاد تضادات پر رکھی لیکن شاید وہ خود بھی اپنے تضادات کا شعور حاصل نہ کر سکا۔لیکن اُسکی کتاب " لوجک" نے فلسفے کے جہان کو نظریہ ضدین یا جدلیات فراہم کر کے فکر و عمل کی نئی راہیں کھول دیں۔لہذا فلسفے کا طالب علم اور دانشور برملا کہتا ہے کہ یہ ہیگل کا ہی نظریہ ضدین تھا جس سے کارل مارکس نے سر کے بل کھڑا دیکھ کر اسے سیدھا کر دیااور پھر دُنیا ایک بڑے فکری اور عملی انقلاب سے رُوشناس ہوئی ۔لہذا جدید دُنیا کی طرف سفر کرنے والی فکری و عملی تبدیلی کا سہرا ہیگل کو ہے یا کارل مارکس؟

جارج ولہیم فریڈک ہیگل سٹوگرٹ جرمنی میں 1770ء میں پیدا ہوا۔ اُسکا باپ محکمہ مالیات میں ایک چھوٹے درجے کا افسر تھا۔لڑکپن اور جوانی میں ہیگل نے بڑی محنت اور کثرت سے مطالعہ کیااور اپنے عہد کی تمام کتابوں کو بغور پڑھ ڈالا۔

ہیگل کا نظریہ تھا کہ سچا کلچر اس صورت میں معرضِ وجود میں آسکتا ہے کہ بچہ جب پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائے تواُسکو کم از کم پانچ برسوں کیلئے پڑھایا جائے اور ایسی کتابیں پڑھائی جائیں جو بنیادی اہمیت کی حامل ہوں۔

ہیگل نے 1793ء میں ٹوبینگن یونیورسٹی سے گرایجویشن کا امتحان پاس کیا جسکے ساتھ اُسکو ایک سرٹیفکٹ بھی جاری کیا گیا جس میں ہیگل کے چال چلن اور کردار کی تعریف کی گئی تھی۔ساتھ میں لکھا گیا تھا کہ وہ علم الانسان اور دینیات میں خاص اہلیت رکھتا ہے۔لیکن فلسفہ کے علم میں کورا ہے۔لیکن آگے چل کر دلچسپ یہ رہا کہ اُس ہی ہیگل نے فلسفے کی اقلیم پر بلاشرکتِ غیر حکومت کی۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ آغاز میں نادار تھا لہذا روٹی کمانے کیلئے اُس نے ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔1799ء تک اسکے معاشی حالات خاصے دگرگوں رہے۔اس ہی سال اُسکے والد کا انتقال ہو گیاتو اسکو ترکے میں سے اچھی خاصی رقم مل گئی۔جس سے ہیگل اپنے آپ کو امیر سمجھنے لگااور اُس نے ٹیوشن پڑھانی چھوڑ دی۔

ہیگل نے اپنے دوست نامور دانشور و مفکر شلینگ کو خط لکھا اور مشورہ طلب کیا کہ اُس کیلئے کو نسا شہر موزوں ہے۔جہاں وہ اپنے مستقبل کیلئے کچھ کر سکے۔شلینگ نے " جینا" کا نام لیا۔ جہاں ایک اہم یونیورسٹی جینا تھی۔جس میں فرائڈ رچ شِلر تاریخ کا اُستاد تھا۔شلینگ رومانویت کی تبلیغ میں مصروف تھا اور جان فشٹے کے ساتھ مل کر ایک نئے فلسفیانہ نظریئے کو مقبول بنا نے میں کو شاں تھا۔ 1801ء میں ہیگل جینا شہر پہنچا اور اور وہاں سکونت اختیار کر نے کے ساتھ اُس ہی مقبول یونیورسٹی میں 1803ء میں اُستاد کی ملازمت اختیار کر لی۔1808ء تک وہ اُس ہی شہر میں رہا ۔

ہیگل کی پیدائش کا دور انقلابِ فرانس کا وہ دور تھا جس میں دنیا میں نئے نئے خیالات جنم لے رہے تھے اور ہیگل کے سلسلہ مطالعہ کے اثرات میں یو نانی ادب اُسکے لیئے اہم ذکر تھا۔بلکہ یونانی ادب کے مطالعہ نے اُسکو دینی و مذہبی حقیقتوں کے برخلاف بھی سوچنے پر مجبور کیا۔

ہیگل کے دور میں جرمنی ادب و فلسفہ اور موسیقی میں اہم ترین سمجھا جارہا تھااور اُسکے احباب اور ہم عصروں میں ایسے فلسفی اور دانشور شامل تھے جنہوں نے بعد میں عالمگیر شہرت حاصل کی۔ گو کہ ہیگل بھی اُن کے ساتھ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا لیکن ہیگل کو اُسکے دینی و مذہبی پہلو پر فلسفیانہ سوچ نے اُن سے پیچھے کر دیا۔اس لیئے جرمن فلسفی آرتھرشوپنہارے نے ہی ہیگل کے بارے میں کچھ خاص اچھے الفاظ استعمال نہ کیئے۔بلکہ یہ کہنے سے بھی گریز نہ کیا کہ ہیگل بڑی شہرت کا حقدار نہیں تھا جو اُسکو حاصل ہوئی۔

جیسے کہ پہلے انقلابِ فرانس کا ذکر آیا ہے اُسکی اگلی کڑی نپولین بونا پارٹ کی شکل میں سامنے آئی اور پھر اُسکی فتوحات میں جب پروشیا بھی شامل ہوا تو یہ 1808ء کا وہی دور تھا جس میں ہیگل جینا میں تھا اور وہ چھوٹا سا شہر بحران و انتشار کا شکار ہو گیا۔نپولین کے سپاہیوں نے ہیگل کے مکان کی تلاشی لی ۔ہیگل وہاں سے بھاگ نکلا اور اپنی کتاب " دِی فینومینولوجی سپرٹ" کا مسودہ ساتھ لیجانا نہ بھولا۔ جس پر وہ کافی عرصہ سے کام کر رہا تھا۔

جینا چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک ہیگل کے حالات اتنے خراب رہے کہ جرمنی کے مشہور ادیب و سیاست دان " جوہان گوئٹے" نے ایک شخص کے ذریعے اُس سے کچھ مالی امداد بھجوائی۔یہ وہی زمانہ تھا جب ہیگل نے1812ء میں اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف" لوجک "لکھنی شروع کی جو 1816ء میں مکمل ہو ئی۔یہ وہ کتا ب تھی جس نے جرمنی کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔اس کتاب کے حوالے سے ہیگل کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں فلسفے کا اُستاد مقرر کر دیا گیا۔ہائیڈل برگ میں قیام کے دوران اُس نے اپنی کتاب " انسائیکلوپیڈیا آف دی فلاسفیکل سائنسز"تحریر کی جو 1817ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب کا بہت فائدہ ہوا اور وہ برلن یونیورسٹی میں فلسفے کا اُستاد مقرر ہواجہاں وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک فلسفہ پڑھاتا رہااور فلسفے کی دُنیا کا بے تاج بادشاہ بنا رہا۔

اُس وقت ہیگل کی جر منی میں وہی حیثیت تھی جو گوئٹے کو ادب و شاعری اور بیتھون کو موسیقی کی دُنیا میں حاصل تھی۔ہیگل ک یومِ پیدائش گوئٹے کے جنم دن سے ایک دن بعد آتا ہے۔لہذاایک عرصے تک جرمنی کی عوام دونوں دِنوں کو تعطیلات کے طور پر مناتے تھے۔

ہیگل کا ایک دور وہ بھی تھا جب اُس کا حکومت کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہو گیا۔جسکی وجہ سے اس کے حریف و مخالف اس کو سرکاری فلسفی کہتے رہے۔

ہیگل آخری عمر میں مخبوط الحواس ہو گیا تھا ۔ایک بار جب وہ لیکچر دینے آیاتو اُس کے ایک پاؤں میں جوتا ہی نہیں تھا۔جب برلن میں ہیضہ کی وباء پھیلی تو ہیگل وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا لیکن موت اُسکے انتظار میں تھی 1831ء میں ایک دن کی علالت کے بعد اسکا انتقال ہو گیا اور تقریباً صرف چار ماہ بعد 1832ء میں گوئٹے بھی انتقال کر گیا۔1832ء میں ہی چند طالب علموں نے مل کر ہیگل کی تمام تصنیفات 19جلدوں میں شائع کیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 314 Print Article Print
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 114 Articles with 96160 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More

Reviews & Comments

Language: