چنگ چی رکشا ۔۔ ہنر مندی کی تباہی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: آصف علی، چینوٹ
رکشا اصل میں ایک انسانی مقوام تنقل (Human powered transport) کے طور پر سامنے آنے والے ناقل (نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی یا سواری) کو کہا جاتا ہے جبکہ آج کل یہ انسانی مقوام (یعنی قوت لگائی) کے بجائے میکانیکی مقوام زیادہ رائج ہے۔ چونکہ اس سواری میں تاریخی طور پر انسانی قوت یا زور لگا کر سفر کیا جاتا تھا اسی وجہ اس کو رکشا کہا جانے لگا ۔ موجودہ رائج لفظ رکشا (Rickshaw) جس کو اکثر جاپانی کے بجائے انگریزی سمجھا جاتا ہے کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ جاپانی میں ’’رکی‘‘ زور یا طاقت یا قوت لگانے ( یعنی مقوام) کو کہا جاتا ہے جبکہ ’’شا‘‘ کا لفظ کسی بھی قسم کی سفرینہ ، (coach) سواری یا ناقل کے لیے آتا ہے۔ جاپانی کے اس نام کا مطلب بھی رکشا ہی بنتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ coach یا cart کے واسطے ایک لفظ مرکوبہ بھی آتا ہے جو رکب سے بنا ہے (اور اردو میں اسی رکب سے رکاب بھی بنایا جاتا ہے) لیکن سفرینہ زیادہ سہل اور آسان ہے اور سفر سے تعلق کے ساتھ ساتھ یہ سفینہ (آدمیوں اور سامان کو پانی میں ڈھونے والی کوئی سی سواری مثلا کشتی) سے صوتی نسبت بھی رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ rikisha کا جاپانی لفظ اصل میں ایک اختصاری شکل ہے۔ اس کی مکمل ساخت jin-riki-sha تھی۔ جاپانی میں جن (jin) کے معنی انسان کے ہوتے ہیں، گویا اس کا اصل اور مکمل نام۔ انسانی رکشا تھا جو سکٹر کر صرف رکشا رہ گیا اور اپنی اس شکل میں 1887ء سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختصرا اوپر کی تمام بات کو آسان الفاظ میں یوں دہرایا جا سکتا ہے کہ، رکشا ایک ایسی سفر کرنے والی سواری یا گاڑی کو کہا جا تا ہے کہ جس کو زور لگا کر قابل سفر بنایا جاتا تھا اور اسی زور لگا کر سفر کرنے کی وجہ سے اس سفرینہ کا نام رکشا پڑ گیا۔

موجودہ وقت میں رکشا کی وجہ سے روزگار کے آسان حصول میں مدد ضرور ملی مگر رکشا کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ چنگ چی رکشا متوسط اور غریب گھرانوں کے لیے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لحاظ سے سب سے آسان کام ہے۔ ان پڑھ والدین اپنے 7سے 15 سال کے بچوں کی کمائی حاصل کرنے کے لیے صرف 10 سے 15 ہزار کی لاگت سے چلتا پھرتا روزگار شروع کر دیتے ہیں ۔ جب ان کا بچہ روزانہ کا 200 یا300 گھر دینا شروع کر دیتا ہے تو اس کی پڑھائی پوری کروانے سے والدین کا کا دھیان ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے وقتی فا ئدہ تو ہوتا ہے مگر وہ بچہ معاشرے کا ایک ان پڑھ مزدور بن کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں رکشا چلانے والے بچوں کی تعداد بہت زیا دہ ہے۔

رکشا کا بڑھتا ہوا استعمال معاشرے میں بہت سارے بڑے مسائل، انسانی ہنرمندی کا قتل، سڑکوں پر تقریبا 60 فیصد حادثات کی وجہ، روزانہ کے حساب سے بہت ساری اموات، بڑے فیکچر (معذوری) کی وجہ جیسے کے افراد کا اپاہج ہونا، ٹریفک میں بے ہنگمی، شور اور فضائی آلودگی وغیرہ کی وجہ بن رہا ہے۔ پہلے جو والدین بچوں کو پڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے وہ اپنے بچوں کو کسی نہ کسی ہنر کو سیکھانے کے لیے مختلف شعبوں کا رخ کرتے تھے جس سے معاشرے پڑھے لکھے نہ سہی مگر ہنر مند افراد میں اضافہ ضرور ہوتا ہے۔ دیر سے سہی مگر ان گھرانوں کی معاشی حالت بہت بہتر ہو جاتی ہے ان میں کچھ سالوں میں ہی اپنا کاروبار کرنے کی صلاحیت آجاتی ہے جس سے اس کی آنے والی نسلیں مزدوری کی چکی میں پسنے سے بچ جاتی ہیں مگر اب رکشا کی وجہ سے آنے والے وقت میں ہنرمند افراد میں ایک بڑی کمی آجائے گی۔
 
میں اپنے اردگرد کے بہت سارے ایسے ہنر مند افراد کو جانتا ہوں جو پہلے کاریگر کے طور پر فرنیچر کا کام، خراد کا کام، ویلڈنگ، گیٹ گرل کا کام کرتے تھے ظاہر سی بات ہے ان کاموں میں محنت زیادہ ہوتی ہے اور پہلے پہلے پیسے بھی کچھ خاص نہیں ملتے۔ ان سب نے اپنی نئی گاڑی (چنگ چی رکشا) والا اپنا کاروبار صرف 20ہزار ایڈوانس دے کر اور ماہانہ 3500 سے 4000 قسط دے کر مالکانہ حقوق ہونے کے احساس کی سر مستی میں خرید کر سرشار ہو گئے جیسے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل ہوگئی ہو مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ 500 سے 700 روپے کی دھاڑی لگا کر اپنے ہنر اور خود کو ضائع کر رہے ہیں۔ اس کی آنے والی نسل غربت کی چکی میں پستی رہیں گی۔ رکشا سہل پسندی، آزادی سے دھاڑی لگانے والوں کے لیے باعث رحمت بن گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کام چور لوگوں کی تعداد چنگ چی رکشا چلانے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔ چنگ چی رکشا انسانی ہنر مندی کے بڑھتے ہوئے قتل کی بڑی وجہ ہے اور معاشرے کی نفسیات پر بہت گہرا اور برا اثر ڈال رہا ہے۔

چنگ چی رکشا کی باڈی لوہے کا ایک مضبوط جنگلا ہے جس کی وجہ سے رکشے کو نا تو رنگ خراب ہونے کا کوئی خدشہ ہوتا ہے اور نا ہی کسی ڈینٹ پڑنے کا ڈر مگر شہر میں گھومنے والی گاڑیوں پر زیادہ تر ڈینٹ خراشیں اسی کی مرہون منت ہیں اور اس کے پاس سے گزرنے والے تمام جانداروں کی ہڈیاں توڑ کر اسپتال پہنچانے میں چنگ چی رکشے کا بڑا ہاتھ ہے۔ 4 سواریوں کی گنجائش ہونے کے باوجود 10 سواریاں ٹھونس کر بڑی اور ہیوی ٹریفک والی سڑکوں پر 100 کی اسپیڈ سے بھگاتے ہیں۔ اگر کسی وقت ایمرجنسی میں سڑک سے نیچے اترنا مقصود ہو تو چھوٹے ٹائروں کی وجہ سے رکشا الٹ بھی جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بڑی سڑکوں پر ہونے والی اموات کا سب سے بڑا حصہ چنگ چی رکشا کے کھاتے میں آتا ہے۔ ملک کے تمام شہروں میں چنگ چی رکشے موجود ہیں۔ چھوٹی جسامت ہونے کی وجہ سے یہ بازاروں اور گلیوں کے اندر تک گھس جاتا ہے بازار جانے والی بہت ساری عورتیں جن کو پیدل چلنا پسند نہیں وہ تو کہتی ہیں کہ بھائی رکشا والے ہمیں دوکان کے اندر تک اتار کے آؤ تو کرایہ دوں گی۔

رکشے کا استعمال کم سے کم کریں، بازار کو جانے اور بازار میں پھرنے کے لیے پیدل چلنے کو ترجیح دیں۔ زیادہ سفر درکار ہوتا گاڑی وین وغیرہ کو استعمال کریں۔ شہری حکومت رکشوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام کرے، ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جائے۔ بچوں کے چلانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ ٹریفک کنٹرول انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے مستعدی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بچوں کی ڈرائیونگ ہو یا کسی بھی غیر قانونی صورتحال میں سخت ایکشن لیاجائے۔ بلاوجہ رکشا ڈرائیو کر تنگ کرنے کے بجائے غیرقانونی حرکات و سکنات پر ضرور ایکشن لیا جانا چاہیے۔ یہاں ایک بات ضرور قابل زکر ہے کہ کچھ بڑی عمر کے افراد جو محنت مزدوری نہیں کرسکتے ان کے لیے رکشا ایک آسان ذریعہ روزگار ہے تو ان کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنی عمر کے اس حصے میں اپنے گھر کا بیڑا اٹھا سکیں۔ یہاں منع کرنے کا مطلب ہے بچوں اور نوجوان طبقہ جو تعلیم یا کسی دوسرے ہنر کے ذریعے ابھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 91 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345366 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: