دہشت گردی عالمی ناسور

(Shahzad Hussain Bhatti, Attock)

دہشت گردی کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ہی کوئی فرقہ، نہ ہی اس ناسور کا تعلق کسی مخصوص لسانی گروہ سے ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی مخصوص علاقائی حوالے سے اس کی پہچان ہے۔ دہشت گردی کا ناسور کسی ایک ملک، علاقے، گروہ یا فرد کا بھی دشمن نہیں ہے۔ نہ ہی اس کے نقصانات کا شکار کوئی ایک مخصوص علاقہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردی کسی بھی مخصوص سوچ کے حامل افراد سے منسلک نہیں کی جا سکتی کیوں کہ یہ ایسی دیمک ہے جو پوری انسانیت کو چاٹ رہی ہے۔ دہشت گردی ایک ایسی چھری ہے جس سے پوری انسانیت زخمی زخمی ہو کے رِس رہی ہے۔ اور اس ناسور نے انسانیت کے گرد اپنے شکنجے کسے ہی اس صورت میں جب اس کو کسی ایک مخصوص مذہب ، گروہ، علاقے، ملک، ذات اور فرد سے منسلک کر دیا گیا۔ اور آج دنیا اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس ناسور نے کم وبیش پوری دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ پے در پے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ دہشت گردی کی سرحدیں وسیع ہو رہی ہیں اور اس کے سامنے سینہ سپر ہونے والے ڈگمگانا شروع ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ یہ ناسور نہ تو بتا کے نقصان کرتا ہے نہ ہی اس کا وار نظروں کے سامنے آ سکتا ہے، بلکہ یہ چھپ کے وار کرتا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ، سے پہلے دہشت گردی کا تعلق صرف اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اور تاریخ شائد ہے کہ افغانستان پہ حملہ ہو یا یمن میں چڑھائی، افریقی ممالک کا ناطقہ بند کرنا ہو یا پھر ایشائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ خطہ عرب میں اپنی طاقت دکھانا ہر جگہ دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑا گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ جس مذہب کا بنیادی پیغام ہی امن و سلامتی ہے اس کو اس ناسور سے منسلک کر دیا گیا اور پوری دنیا میں اسلام مخالف جذبات سر اُبھارنے لگے۔ افسوس کا مقام تو یہ رہا کہ افراد تو کجا ملک اس معاملے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے لگے۔ ہوش مند ، عاقل افراد واویلا کرتے رہے کہ بھئی دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو انسانیت کا دشمن ہے نہ کہ کسی ایک مذہب یا لسانی گروہ کا۔ لیکن نہ کسی نے سنا نہ سننا تھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے نیوزی لینڈ کا سانحہ پیش آ گیا۔

جب نیوزی لینڈ کا سانحہ پیش آیا تو حیران کن طور پر نیوزی لینڈ کی سیاسی قیادت کا ردعمل اس پورے معاملے میں انتہائی مثبت رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کویک دم حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ ہم جس دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ نتھی کر رہے تھے اُس نے تو دنیا کے سب سے پر امن ملک کے اندر مسلمانوں کو ہی نشانہ بنا ڈالا اور کم و بیش پچاس افراد شہید کر دیے گئے۔ پہلے پہل تو دنیا اس پورے معاملے کو دہشت گردی ماننے کو ہی تیار نہ ہوئی کیوں کہ اس میں دہشت گرد نہ صرف سفید فام تھا، بلکہ شدت پسند سفید فام اور اس دہشت گردی کی کاروائی میں استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں تک پہ نسل پرستانہ فقرے تحریر تھے۔ پکڑے جانے کے باوجود اعشاریے یہی ہیں کہ اس دہشت گرد کو اپنے کیے پہ کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ اس سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کے مقامی افراد نے بھی حیران کن جوابی ردعمل دیا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا بلکہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے مسلمانوں سے ان کے مراکز میں جا کر ملاقات کی اور نہ صرف اس پورے معاملے پہ افسوس کا اظہار کیا بلکہ مسلمانوں کی حفاظت نہ کر سکنے پہ انہوں نے مسلمانوں سے معافی بھی مانگی۔ ان کی اس معافی کے بعد نہ صرف ان کا سیاسی قد بڑا بلکہ پوری دنیا نے بھی دبے دبے لفظوں میں اس دہشت گردی کو دہشت گردی ہی کہنا شروع کر دیا۔ اور اس کی مذمت کے بیانات آنے لگے۔ سانحہ نیوزی لینڈ نے اس تاثر کو تقویت دی کہ دہشت گردی ایک مذہب کے ساتھ منسلک نہیں ہے ۔ بلکہ شدت پسندی کا رجحان انگریز معاشرے میں بھی سرایت کرتا جا رہا ہے۔ نسل پرستی کا عفریت مہذب معاشروں میں بھی اپنے قدم جمانا شروع ہو گیا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ نے جہاں ایک مرتبہ پوری دنیا کو پریشان کر دیا ہے وہاں اس واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی میں بھی کمی آئی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ہر آنکھ اشکبار ہے۔ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔ شہید ہو جانے افراد کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پہ لگائی جا رہی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ترقی میں تمام تارکین وطن کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ اسمبلی اجلاس کی کاروائی تلاوت کے ساتھ شروع کی گئی ہے۔ پولیس میں موجود مسلمان آفیسرز کو اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اجتماعات سے ایسے افسران خطاب کرتے نظر آنے لگے ہیں۔ مساجد میں اظہار یکجہتی کے لیے نیوزی لینڈ کے مقامی باشندے پھول رکھتے نظر آرہے ہیں۔ پلے کارڈ اٹھائے بچے افسردہ ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا حقیقی معنوں میں یہ جاننا شروع ہو گئی ہے کہ حقیقت میں دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Hussain Bhatti

Read More Articles by Shahzad Hussain Bhatti: 175 Articles with 80987 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2019 Views: 337

Comments

آپ کی رائے