سیکولر نہیں، اسلامی پاکستان

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: اقرا رحمانی
قیام پاکستان کے بعد 31 جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا، ’’اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔

قائد اعظم کے اس بیان سے واضح طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نظریہ پاکستان دراصل نظریہ اسلام ہی ہے۔ قائد اعظم مسلمانوں کو ایک ایسی ریاست دینا چاہتے تھے جہاں مسلمان دین اسلام کی خدمت کر سکیں اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھال سکیں آپ کے نزدیک اسلام صرف ایک مذہبی نظریہ ہی نہیں بلکہ عملی نظام بھی ہے۔ 3 فروری 1938 طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناح فرماتے ہیں: ’’اسلام کے معنی صرف دین نہیں ہے، اسلام کا مطلب ایک ضابطہ ہے جس کا دنیا میں اور کوئی ثانی موجود نہیں ہے‘‘۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کی سیکیولر سوچ کا قلیل گروہ اس نظریہ کو غبار آلود کرنے کی مسلسل جدوجہد میں لگا ہوا ہے یہاں تک کہ ایک نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااﷲ‘‘ کو غلط العام ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ بات عام کی جا رہی ہے کہ قائد اعظمؒ نے تو کبھی یہ نعرہ لگایا ہی نہیں لیکن ان سیکولر سوچ کے حضرات کو ان کی عقل پر پڑی پٹیاں یہ سوچنے کی اجازت ہی نہیں دیتیں گو کہ قائد اعظم نے حرف بہ حرف کبھی بلند نہیں کیا لیکن یہ نعرہ حقیقت میں ان کے بہت سے بیانات کا مفہوم ہے لیکن پھر یہ سیکولر حضرات یہ بات کس بنا پر عام کر رہے ہیں کہ قائد اعظم ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام نہیں چاہتے تھے جب کہ 23مارچ 1940مسلم لیگ کے سالامہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے واضح الفاظ میں ہندو اور مسلمانوں کو دوالگ الگ تہذیبیں اوردو الگ الگ سوچ رکھنے والی قوم قرار دیا تھا۔ قائد اعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی جداگانہ قومی وجود کو حقیقی فطرت قرار دیتے ہوئے فرمایا،’’ہندو اورمسلمان دو الگ الگ فلسفوں، مذہبوں،معاشرتی رسوم اور ادبیات سے تعلق رکھتے ہیں وہ آپس میں شادی نہیں کرسکتے۔مل کر کھانا نہیں کھاتے اور فی الحقیقت دو مختلف مذہبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیاد عموما ایک دوسرے سے مختلف نظریات اور تصوارات پر ہے ،زندگی اور زندگی سے متعلق ان کے خیالات مختلف ہیں۔ان کی تاریخی نظمیں داستانیں اور ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا پیروکار دوسری کا دشمن، ایک قوم کی فتح دوسری کی شکست اور ایک قوم کی شکست دوسری کی فتح ہوتی ہے‘‘۔ (اجلاس مسلم لیگ 23مارچ(1940

اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد درحقیقیت نظریہ اسلام پر ہی ہے اور جس مملکت کی بنیاد ہی نظریہ اسلام پر ہو وہ کیونکر اسلامی ریاست نہ ہوگی؟ قائد اعظم نے 14 فروری 1948ء کو سبّی دربار بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلامﷺ نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے‘‘۔
فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہبان
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

اپنے طلبہ اور ان دیہی سیکولر حضرات کے پروپیگنڈوں سے بچانے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ نظریہ پاکستان کی صحیح تعلیم قائدؒ کی سوچ کی روشنی میں نسل نو کو فراہم کرنا ہے۔ ایک شدید افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے طالب عام فلسفہ اقبال سے بالکل ناآشنا ہیں۔ انھیں شاعر مشرق بتلایا جاتا ہے اور ان پرایک مضمون لکھنے سے زیادہ یا صرف قومی ہیرو کا رٹ لگوانے سے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر ہم نظریہ پاکستان کی بقا چاہتے ہیں توفلسفہ خودی کو اقبال کے شاہینوں سے آشنا کروایا جائے اس کے علاوہ اقبالؒ نے اپنی شاعری اور اپنی تصانیف کے ذریعے امت مسلمہ کو اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی اور بارہا اپنی شاعری میں اسلاف کرام کا ذکر کرکے ان کے کارناموں کا از سر نو ذکر کیا۔آج کے اس دور میں ہم اگر سیکولرزم اوران باطل نظریات کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں نظریہ پاکستان ، فلسفہ اقبال اور فرامین قائدؒ کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہوگا تاکہ وہ بھی آزادی پاکستان کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوسکیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 75 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 346212 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: